ناتوانی اور لاچاری سے مرہم تک ۔۔۔

ناتوانی اور لاچاری سے مرہم تک ۔۔۔

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔محمد علی انجم
بچپن ہی سے اس کے مقدرمیں یتیم ہونا لکھا گیا تھا ، ان کی عمر بہت ہی کم تھی جب ان کے والد کسی حادثے کی وجہ سے جان کی بازی ہار بیٹھے تھے ، لیکن ان کی ماں جو جسمانی طور پر معذو تھی لیکن اعصابی طور پر بہت باہمت اورباکردار خاتون تھیں ان کی تربیت کی زمہ داری انہوں نے بہت ہی نرالے انداز سے کی ، انہیں تربیت کے ساتھ ساتھ ایک بات ہمیشہ سیکھایا کرتی تھیں کہ بیٹا ہمیشہ بے سہاروں کی مدد کیا کرو ، خون کے رشتے اکثر خون چوسا کرتے ہیں اور اکثر کہا جاتا ہے کہ رشتے احساس کے ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے احساس کا ہونا بھی بہت ضروری ہے اس شخص نے خون کے رشتے پر بھروسہ کرنے کے بجائے یہ تہہ کر لیا کہ وہ احساس کے رشتے قائم کرنے کے لیے عملی جدوجہد کرینگے خدا کا کرنا ایساہوا کہ ان کی والدہ محترمہ بھی سخت بیمار ہو گئی ،ان کے علاج معالجے کی زمہ داری ایک نازک اور کمزور انسان جو ان کا اکلوتا بیٹا تھا کہ زمہ داری میں آیا وہ انہیں علاج کے لیے اسلام آباد لے گئے کسی نے ہمددری تک نہ جتائی لیکن اس عظیم بیٹے نے ماں کی خوب سیوا کی اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی ماں صرف ایک بار اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے لاکھ کوشش کے بعد بھی بیٹے کی خواہش پوری نہ سکی اور ایک روز ماں چل بسی ،تب اس بیٹے نے تہہ کر لیا کہ وہ دکھی انسانیت اور بے سہاروں کی مدد کرینگے جن کا کوئی نہیں ہو گا ان کے بن کے پوری زندگی دوسروں کی مدد اور حمایت کرینگے ، ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ خود کسی ایسے مرض کے شکار ہو گئے لیکن چلنا ان کے لیے محال ہو گیا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور علاج کی ٹھانی ، ویسے رشتہ دار بیماری اور فوتگی کے ٹائم پہ آجایا کرتے ہیں یا تو تماشہ دیکھنے یا پھر جھوٹی تسلیاں دینے لیکن ان بیماری کے دران نہ تو کوئی تماشہ دیکھنے آیا اور نہ ہی جھوٹی تسلی دینے آیا اور نہ ہی ان کی بے بسی کا مذاق اُڑانے کوئی آیا
لیکن ان کے کچھ مخصوس رشتہ داروں نے ان کی مد د کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ، جنکے ہمیشہ یہ مشکور رہتے ہیں ۔۔ ، اکثر وہ کہا کرتے ہیں کہ بیماری کا علاج دوائی سے نہیں بلکہ انسان کی زندہ رہنے کی خواہش انہیں زندہ رکھا کرتی ہے ، اللہ بھی اُسی شخص کو زندہ رکھتا ہے جس کے اندر زندہ رہنے کی خواہش ہو ، خیر یہ علاج کے لیے روانہ ہوئے وہ بھی اکیلے جیسے آخری سفر پر اکیلے جایا جاتا ہے ویسے یہ بھی اکیلے ہی تھے ، لیکن ان کا اکیلا پن انہیں مضبوط بنانے کے بجائے طاقت ور بناتا گیا ، ڈاکٹر ان کا مرض دیکھ کر کافی پریشان ہوا اور کہا جناب آپ کیسے زندہ ہوں میں حیران ہوں تب یہ گویا ہوئے اور کہا ڈاکٹر زندہ رہنے کے لیے حیران ہونے کی ضرورت نہیں ، ۔۔ جو لوگ وقت بے وقت حیران ہوتے ہیں وہ زندہ نہیں رہتے ۔۔۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے ایک شخص کا انہیں فون آیا اور کہا کہ جناب میرے والد بہت بیمار تھے اورموت کا انتظار کر رہے تھے لیکن آپ زندگی کا جھانسہ دے کر انہیں علاج کے لیے سکردو لے آئے ، دوائی بھی آپ نے فراہم کر دی لیکن ابھی آپکو ہر صورت ہسپتال آنا پڑے گا ، والد صاحب نے شلوار گندھی کر دی ہے او ر ان کا پاخانہ میں صاف نہیں کر سکتا اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ آکر اسے صاف کر لیں ، خون کا رشتہ تھا لیکن خون کا رشتہ اپنے باپ کی گندگی صاف کرنے کے بجائے احساس کے رشتے کو پکار رہا ہے ، خون کا رشتہ اتنا کمزور ہے ۔۔ اور دیکھیں اس شخص کو انہوں نے اُن کا فون سنا اور تیزی سے ہستپال کی طرف روانہ ہوئے اور نہ صرف اُس بیمار کا پاخانہ صاف کیا بلکہ انہیں تسلی بھی دی ، اس وقت اُس کا اپنا حقیقی بیٹا پاس بیٹھے تماشہ دیکھ رہا تھا اور کسی دوست کے ساتھ ملکی سیاست پر بات کر رہا تھا ۔۔۔ پاس بیٹھے لوگ بھی تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔ اور یہ شخص تماشہ بنا ہو ا تھا کچھ لوگ شاہد یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ شخص اس کام کے پیسے لیتا ہے ۔۔ اس لیے ایسا کر رہا ہے دراصل ایسا کچھ نہیں یہ شخص جو دوسروں کو مدد کرتا ہے اور احساس کے رشتے قائم کرتا ہے اس شخص کا نام سلیم رضا ہے ، اور یہ شخص صبح شام ہستپال میں کسی بے سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں ، کہیں کوئی بے سہار ا مریض نظر آیا اس کا سہارا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
گو کہ ان کو رشتوں کی قدر وقمیت اپنے رشتہ داروں کی وجہ سے معلوم نہیں ہوئی بلکہ روز پامال ہوتے ہوئے رشتوں نے انہیں یہ احساس دلایا کہ احساس کے رشتے قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔۔اور ہر روز سلیم یہی کام کرتے ہیں ۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس معاشرے کو عموماُ مثالی معاشرہ کہا جاتا ہے لیکن اگر اس معاشرے کے اندر جھانکا جائے تو اس معاشرے کا اصل چہرہ ہمارے سامنے آجاتا ہے کبھی کبھار تو ہمیں اس معاشرے گھن آتی ہے ،بطاہر ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارا طرز عمل مسلمانوں جیسا ہر گز نہیں ہے ، کل کی بات ہے کہ ہمارے بہت ہی اچھے دوست باقر سرمکی کے ہمراہ ہم کہیں جا رہے تھے راستے میں قبرستان آئے تو کسی نہ کیا کہ یہ فلاں ایریا والوں کا قبرستان ہے تب باقر صاحب نے فی البدیہ کہا کہ ہم کیسے لوگ ہیں مرنے کے بعد بھی اپنا محلہ نہیں چھوڑتے ۔ہم مردوں کی بھی کالونی بنا لیتے ہیں اور جیتے جی بھی ہم محلہعلاقہ اور لسانیت پرستی کی لعنت کا شکار رہتے ہیں،اکثر زندہ لوگوں کے گھر اندھیرا رہتا ہے اور ہم قبروں میں شمعیں جلاتے رہتے ہیں ہم ہر کام میں ثواب تلاش کرتے ہیں اچھا کام کرتے ہیں بھی تو ثواب کی لالچ میں ،، کوئی اچھا کام کرتا بھی ہے تو اُسے ثواب کی لالچ دیتے ہیں ، حرام زرائع سے کما کر ثواب کے کسی کام میں ہاتھ بٹھاتے ہیں اور اپنی حرام کمائی کو حلال کر دیتے ہیں لیکن ثواب کا ایسا کام جس کے زریعے کسی کی فلا ح ہو وہ کام بالکل نہیں کرتے اسے ثواب کی درجہ بندی سے ہم نکال لیتے ہیں اکثر خود عرضی کو بھی ہم ثواب کہہ دیتے ہیں، اور کبھی کبھار موقع پرستی اور کرپشن کے کام میں بھی کام ثواب ڈھنڈ لیتے ہیں ،چندہ مہم میں ہم لازمی حصہ لیتے ہیں لیکن کسی بیمارکی مدد کرنے کو ہم تیار نہیں ہوتے ، سلیم کے ساتھ ایک دن ہم ہسپتال میں دوائی تقسیم کر رہے تھے ایک ضعیف خاتون ہمارے پاس آئی اور کہا کہ گھر میں ایک عرصے سے کھانے کے لیے کچھ نہیں، نہ جلانے کی لکٹری ہے رشتہ داروں سے مدد مانگی تو کہتے ہیں کوئی کام کرو ابھی جوان ہو ۔۔ بتاو اس عمر میں میں کہاں کام کرونگی ،ویسے بھی گورنمنٹ قوانین کے مطابق کام کرنے اور کام ڈھنڈنے کی اوسط عمر تیس سال ہے ، اس کے بعد سرکاری ملازمت تو نہیں ملتی البتہ رشتہ داروں کے طعنے لازمی سننے کو ملتے ہیں ،ہمارے معاشرہ اندر سے پورا کھوکھلا ہو چکا ہے اور معاشرتی اقتدار تقربیاختم ہوتی جا رہی ہے ایسے میں چند لوگ اس معاشرتی بگاڈ کے خاتمے کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں عرف عام میں ہم سماجی خدمت گار کہتے ہیں لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اُٹھا کر ہر شخص اپنے نام کے ساتھ سوشل ورکر لکھتا اور بولتا ہے اصل اور نقل کی پہچان بہت مشکل ہو گئی ہے ایک طرف تنخواہ دار ملازمین بھی اپنے آپ کو سوشل ورکر کہنے لگے ہیں وہ ہمیشہ سوٹ بوٹ میں ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کا صلہ تنخواہ کے طور پر وصول کرتے ہیں ان کی تنخواہیں لاکھوں میں ہوتی ہے اپنی تنخواہ میں سے کبھی ایک روپیہ کسی غریب کو نہیں دیتے ۔۔لیکن غریت کے خاتمے کی تدابیر ان کے پاس بہت ہوتی ہیں وہ وی آئی پی ہوٹلز میں غربت کے خاتمے اور معاشرتی بگاڑ کے تدارک پر بڑی بڑی تقاریر کرتے ہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف سیمناز میں شرکت کرتے ہیں اخباری کٹ پیس دیکھاتے ہیں اور مختلف تصاویر دیکھاتے ہیں علاقے کی غربت دیکھاتے ہیں اور فنڈز لے کر آتے ہیں اور اس فنڈز سے مختلف ہوٹلز میں محافل سجاتے ہیں وہاں غریب نما افراد کو بلاتے ہیں ان کی ٹرینگ کراتے ہیں انہیں ایک وقت کا کھانا بھی کھلاتے ہیں اور پھر ممکن ہو تو ٹرینگ لینے کا کچھ معاوضہ بھی ادا کردیتے ہیں ۔ ویسے بھی فنڈز مہیا کرنے والے خدمات کو دیکھنے کے بجائے کاغذات دیکھتے ہیں اور ان کی کاغذی کاروائی بہت شفاف اور بہت ہی موثر ہوتی ہے آج کل تو معبر شخصیات اور سیاست دانوں کے ساتھ تصاویر لینے کا فیشن کچھ ذیادہ ہی مقبول ہو گیا ہے ، تصاویر لینے کے بعد اس تصویر کا اخبار میں بھی آنا ضروری ہوتا ہے ،، کیونکہ ہر شخص کے پاس کوئی عہدہ یا پھر کوئی اور وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اس فوٹو کو اخبارکی زینت بنا سکے چنانچہ وہ اپنے نام کے ساتھ سوشل ورکر لکھتے ہیں اور اخبا رکو ارسال کر دیتے ہیں ۔۔ اخبار میں ان کی ایک فوٹو آجاتی ہے اور وہ سوشل ورکر بن جاتے ہیں یا پھر فیس بک پر کوئی پوسٹ لگا دی یا پوسٹ پر کوئی کمنٹ لکھ دی یا کسی فیک آئی دی پر کسی کے خلاف پروپگنڈہ کیا اور پھر وہ بھی سماجی خدمت گار کہلائے ۔۔۔
ایسے لوگوں کو سماجی خدمت گار کہنے کے بجائے کیا کہا جائے ۔ ۔
دوسری طرف ایسے بھی سماجی خدمت گار ہیں جنہوں نے کبھی کوئی ڈھنگ کا ہوٹل نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی گلے پھاڑ پھاڑ کر غربت کے خاتمے کی تقاریر کی ۔ لیکن عملی طور پر کا م ضرور کرتے ہیں ان کے کام سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں کیونکہ ان یا تو اپنے کام کا پرچار کرنا اچھا نہیں لگتا یا پھر انہیں سوشل میڈیا کا استعمال نہیں آتاپا پھر اخباری رپورٹرز اور مالکان کے ساتھ ان کے روابط نہیں ہوتے ، اس لیے نہ کبھی ان کی فوٹو اخبار میں آتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ان کے حق میں کوئی پوسٹ لکھی جاتی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب دوسری طرح کے سماجی خدمت گار بڑے پڑھے لکھے ہوتے ہیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ دیگر میڈیا بھی ان کی دسترس میں ہوتا ہے ۔۔ وہ معمولی کام بھی کرتے ہیں تو اس کا پرچار بڑے نرالے انداز سے کرتے ہیں ایک چھوٹی سے تقریب ہوتی ہے تو فوٹو گرافر کو پیسے دیتے ہیں اور اس فوٹو کو اخبار کی زینت بنا لیتے ہیں ۔جبکہ سماجی خدمت گار وں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کر سکیں اگر وہ سوشل میڈیا پر بیٹھ جائیں تو مریضوں تک ادویات نہیں پہنچیں گے ۔۔ کوئی شخص مدد سے محروم ہو جائے گا ۔۔ وہ نیکی کر فیس بک پر ڈال کے فلسفے پر یقین نہیں رکھتے ۔۔بلکہ نیکی کر دریا میں ڈال کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں ۔

سماجی خدمت گاروں کے کپڑے اور حیلے بھی ا تنے اچھے نہیں ہوتے ۔۔ بس ایک عام آدمی کی طرح وہ بازاروں چو رہواں اور ہسپتالوں میں ملیں گے جبکہ دوسری جانب بھی کچھ سماجی خدمت گار جو صرف خدمت گار ہونے کا دعوا کرتے ہیں عملی طور پر ان کا کوئی کام نہیں ہوتا ، البتہ بولنے میں کمال رکھتے ہیں ، سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر یا تو گھپ شب مار رہے ہوتے ہیں یا پھر سلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔۔
یہاں یہ چند سطور اس لیے لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں تاکہ لوگوں کو اصل اور نقل کی کچھ تمیز ہو سکے ۔ سلیم رضا علی محمد شاکر محمدعلی ایدھی ، ماسٹر بشیر ، حاجی باقر کرگلی ، فدا علی اختر ، زیشان مہدی ، وسیم فانی اور خادم استوری ، رضا اختر ، اور بے شمار ایسے دوست ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی خدمت کے لیے وقف کر دی ، اور سلیم رضا صاحب کی خصوصی دلچسپی اور مستقل مزاجی نے مرہم کو گلگت بلتستان کی سب سے معروف اور غیر متنازعہ سماجی تنظیم قرار دیا ۔ نامور عالم دین اور داعی امن علامہ شیخ محمد حسین جعفری نے اس تنظیم کو مثا لی قرار دیا اور کہا کہ دیگر این جی اوز کو بھی مرہم کے نقش قدم پر چلنا چاہیے ۔
کچھ سوالات ایسے ہیں جو آپ سے لازمی پوچھنے ہیں ۔۔ کیا یہ ٹائی لگانے والیسماجی خدمت گار وں کو آپ نے کبھی کسی بیمار کی عیادت اور اس کی تیماری داری کرتے دیکھا ہے ۔۔ کیا کبھی سلیم کی طرح ان میں سے کسی کو دوائیاں تقسم کرتے دیکھا ہے ۔۔ کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو اکثر سلیم رضا کو ڈانتے ہیں کہ وقت پر دوائی کیوں نہیں لاتے ۔۔لیکن سلیم نے کبھی انہیں بتایا کہ وہ کوئی ملازم نہیں اور نہ ہی کوئی این جی او انہیں اس کام کی کوئی تنخواہ دیتی ہے کوئی برا بھلا کہتا ہے تو بھی چپ چاپ اس کی خدمت کرتا ہے ۔۔ یا سماجی تماشہ بینوں کو آ پ نے ایسا کرتے دیکھا ہے ۔۔مرہم کے قیام کو ایک سال پورا ہو چکا ہے اس دوران مجموعی طور پر سلیم رضا ار ان کی ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت ہزار سے زائد مریضوں کا مکمل علاج کرایا اور انہیں ادویات اور کھانے پینے کی چیزین مفت فراہم کر دی ، اس کے علاوہ متعدد لوگوں کو علاج کی غرض سے دیگر شہروں میں بھی بیجھا گیا اور ان کا مکمل علاج کرایا گیا ، سلیم صاحب کا فون اکثر کسی سیاست دان کے فون کی طرح مسلسل بجتا رہتا ہے ۔۔ شاہد دان الیکشن جتنے کے بعد فون کبھی نہیں سنتے ۔۔ لیکن سلیم کے نمبرپر کوئی بھی آسانی سے فون کر سکتا ہے ۔۔ اور سلیم ہر کسی کی مدد کرنے کو ہمہ تین تیار رہتے ہیں ۔۔
یہاں سلیم کی تعریف لکھنے کے بجائے میں یہ کالم پڑھنے واالے تمام دوستوں سے گزارش کرونگا کہ وہ ایک بار ڈی ایچ کیو ہسپتال کر سلیم سے مل لیں اور ان کا کام دیکھ لیں
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے اندر کا انسان لازمی طور پر جاگ جائے گا سیلم ۔۔۔تو ہے سب کا ۔۔۔ تیری ادا نے ہمیں ۔۔جینے کی ادا سیکھا دی ۔۔۔سلامت رہو ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔