چلاس، ٹرانسپورٹ اڈہ شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا، لیکن سہولیات ندارد

چلاس، ٹرانسپورٹ اڈہ شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا، لیکن سہولیات ندارد

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)ٹرانسپورٹ اڈے کو بازار سے باہر ویران صحرا میں منتقل کر کے انتظامیہ اور بلدیہ اپنی ذمہ داریاں بھول گئے۔ریتلے صحرا میں مسافروں کو بیٹھنے اور موسمی اثرات سے بچاؤ کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔خواتین کے لئے بھی پردے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا کئی کئی گھنٹوں کھلے صحرا میں خواتین معصوم بچوں سمیت ریت میں موسمی تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔چھت تو درکنار بیٹھنے کے لئے بینچ تک بھی نہیں بنائی گئیں ہیں۔گاڑیوں کی آمدورفت اوردھول اٹھنے سے مسافردھول میں اٹنے لگے۔اڈے کے قریب کھانے پینے کی اشیاء بھی دھول اور مٹی میں ڈوب گئے۔جس کو کھانے سے مسافروں کی حالت غیر ہونے لگی۔نمازکی ادائیگی کے لئے بھی جگہ نہیں بنائی جا سکی ۔سروے کے دوران مسافراور ٹرانسپورٹرز انتظامیہ اور بلدیہ کے خلاف پھٹ پڑے۔اور کہا کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے عاری ہو چکی ہے۔اڈے کی منتقلی کو مہینہ گزر گیا ہے۔عوام اور ٹرانسپورٹرز ویران صحرا میں رل رہے ہیں۔اڈے اور بازار کے مابین سستی ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا۔نہ ہی بازار قائم کیا جا سکا۔عوام کھلے عام مٹی اور دھول میں بننے والی غیر معیاری خوراک کھانے پر مجبور ہیں۔نہ ہی چھت فراہم کی گئی اور نہ ہی انتظار گاہ اور فرش گاڑیوں کے چلنے سے اٹھنے والی دھول سے مسافر اور ٹرانسپورٹرز مختلف وبائی امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔انتظامیہ اگر سہولیات فراہم نہیں کر سکتی تھی تو اڈے کو صحرا میں منتقل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اڈے سے لنک روڈ سے ملانے کے لئے سڑک بھی نہیں بنائی گئی جس کی وجہ سے اڈے میں آنے جانے والی گاڑی کو لنک روڈ سے گزرنے والی گاڑی سے تصادم کا بھی خدشہ ہے۔ اڈے میں بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے سے مریض بوڑھے بچے اور خواتین بھی گھنٹوں گھنٹوں صحرا میں گرد آلود ہونا پڑ رہا ہے۔فوری طور پر اڈے میں سہولیات فراہم نہیں کی گئی تو بھر پور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔