بیوی کو بازیاب کروایا جائے، پسند کی شادی کرنے والا گلگت کا نوجوان اہل و اعیال سمیت پریس کلب پہنچ گیا

بیوی کو بازیاب کروایا جائے، پسند کی شادی کرنے والا گلگت کا نوجوان اہل و اعیال سمیت پریس کلب پہنچ گیا

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 گلگت (وجاہت علی) پسند کی شادی کرنے پر میری بیوی کو لا پتہ کر دیا گیا ہے۔ شائد اسے قتل کر دیا گیا ہے۔ میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا. پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے انصاف فراہم نہیں کررہے ہیں.سپریم ایپلیٹ کورٹ کے چیف جج انصاف فراہم کرنے میں کردار ادا کرے۔ اگر بیوی کو نہیں مارا گیا ہے تو بازیاب کروایا جائے، ورنہ خود سوزی پر مجبور ہو جاوں گا. ان انکشافات اور خدشات کا اظہار فہیم اللہ ساکن کشروٹ نے آج میڈیا کے سامنے کیا۔ فہیم اللہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ آج پریس کلب گلگت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر رہا تھا۔ فہیم کے رشتہ داروں نے میڈیا کو اس کی شادی کےنکاح نامہ بھی دکھایا۔

فہیم کا کہنا تھا کہ اسے (ف) نامی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی، اور یہ کہ انہوں نے باہمی رضامندی سے 26 اکتوبر 2015 کو راولپنڈی کچہری میں قانون کے مطابق باقاعدہ شادی بھی کرلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیوی ٹیکسلا میں پڑھ رہی تھی.فہیم نے الزام لگایا کہ اس کی بیوی کی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن نے اس کی بیوی کو مدرسے سے مبینہ طور پر 16 نومبر کو غائب کروادیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیوی کے غائب ہونے کے بعد میں نے ٹیکسلا سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر اسکی سوتیلی بہن نے بتایا کہ میری بیوی گلگت میں ہے۔ اسکے بعد گلگت کینٹ پولیس اسٹیشن میں درخواست لے کر گیا مگر پولیس کیس لینے سے انکاری ہے، کیونکہ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی اور مذہبی اثرورسوخ کی وجہ سے مجھ پر ظلم کیا جارہا ہے۔

فہیم کا کہنا ہے کہ اسکی بیوی کے رشتہ دار اسکی جایئداد ہڑپنا چاہتے ہیں اور یہ کہ وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں.اور دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ میرے گھر پر بھی حملہ آور ہو چکے ہیں۔ اس نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیمں اور اعلی حکام و چیف جج مجھے انصاف فراہم کرے اور میری بیوی کو بازیاب کرائے یا پھر اسکے مبینہ قاتلوں کو گرفتار کرکےقانون کے کٹہرے میں لائے اور ہماری جان کی حفاظت کو یقینی بنائے.

معلوم ہوا ہے کہ فہیم کی منکوحہ بیوی کا والد اس دنیا میں نہیں ہے جبکہ اس کا کوئی سگی بہن یا بھائی بھی نہیں ہے۔  اس حوالے سے لڑکی کے رشتہ داروں کا موقف لینے کی کوشش کی گئی مگر انھوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گھر پر حملہ کرنے پر مخالیفین کو پابند ضمانت کردیا گیا ہے۔ لڑکی کو بازیاب کروانے کے معاملے پر پولیس بے بس دکھائی دے رہی ہے۔⁠⁠

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔