’’پروفیسروں کے امتیازات‘‘

’’پروفیسروں کے امتیازات‘‘

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میرے گزشتہ مکتوب نما مضمون’’ پروفیسروں کا المیہ ‘‘کے اشاعت کے بعد اہل علم و قلم احباب کی طرف سے چندخطوط موصول ہوئے۔ ان میں چند مکتوبات تو انتہائی تلخی اورسنجیدگی سے لکھے گئے ہیں مگر یہ خیانت ہوگی کہ ان کو من و عن شائع نہ کیا جائے ۔ پہلے والا مکتوب بھی بلاکم و کاست احباب اور قارئین کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اب کی بار بھی ان تینوں خطو ط کو تلخیوں اور سنجیدگیوں سمیت آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ امید ہے آپ پسند فرمائیں گے اور پروفیسروں اور لیکچراروں کے حوالے سے پائے گئے خدشات وابہامات کو دور کرنے اور ان کی علمی و قلمی وجاہت کو منظر عام پر لائے کے لیے یہ خطوط مفید ثابت ہونگے۔
پروفیسر برادری کا ایک انتہائی انٹیلکچول اور میرے پرانے قاری کا ایک خط موصول ہوا۔وہ ایک باکردار استاد ہونے کے ساتھ صاحبِ کتب ہیں۔ کئی ادبی کتابیں منظر عام پرآئیں ہیں اور علمی مجلات میں ان کے مضامین مسلسل شائع ہوتے ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ میری تحریروں کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں اور اصلاح فرماتے ہیں۔ ان کا خط من وعن شائع کیا جاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں
’’ السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ا نسان رویوں کا جنگل ہے۔اس میں ہر طرح کے درخت ہوتے ہیں۔پھل دار بھی،کانٹے دار بھی۔مفید بھی ضرر رساں بھی۔کہیں ببول کے کانٹے چبھتے ہیں،کہیں مخملی گھاس سے راحت ملتی ہے۔ہم اپنے مزاج کے مطابق انہیں پسند، نا پسند کی سند تو دے سکتے ہیں مگر فتویٰ کی بھینٹ چڑھا کر دوسروں پر مسلط نہیں کر سکتے۔وجہ….؟ وجہ یہ کہ ضروری نہیں ایک چیز جو مجھے ناپسند ہے دوسرے بھی ایسا سوچتے ہوں۔ضروری نہیں ایک بات میں جانتا ہوں تو وہ سچ بھی ہو۔ضروری یہ بھی نہیں کہ کچھ لوگوں میں کوئی خامی ہو تو وہ سب میں پائی جائے۔ آپ کا کالم”پروفیسروں کا المیہ ” پڑھنے کے بعد مجھے سمجھ نہیں آرہی اسے اچھا کہوں یا برا ۔میں کنفیوز ہوں اسے مفید کہوں یا مہلک۔کیوں کہ ایک سنجیدہ مو ضوع پر آپ نے نہایت عامیانہ انداز میں اظہار کیا ہے۔استاد قومی تعمیر اور معاشرتی ترقی کا بہت ہی اہم کردار ہے۔ہر باشعور انسان ان کی اہمیت اور قدر سے واقف ہے۔لیکن انسانی رویوں کے جنگل میں کبھی ان میں بھی لوگ بھٹک جاتے ہیں۔اپنے پیشے سے اپنے فرض سے غافل لوگ بھی پائے جاتے ہیں-آپ نے اپنے مضمون میں جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے یقینا” ان میں سے بہت سی باتیں سچ بھی ہیں۔اور ان سے بھی بڑا سچ یہ ہے یہ خامیاں سب میں نہیں۔میں پھر دوہراتا ہوں ان کی تعداد 20 فیصد سے کم ہے۔ایسے میں عمومی مثالوں کے ذریعے سب پر خامیوں کا کیچڑ تھوپنا ایک صحافیانہ سنسنی خیزی تو ہو سکتی ہے۔کسی ذمہ دار قلمکار کی سچ بیانی نہیں۔اور یہ بھی مت بھولیں آپ خود بھی اسی پیشے سے منسلک ہیں ۔اگر آپ نے خود کو آئینہ بنا کے یہ سب لکھا ہے تو یہ گمان نا کریں سب اس میں مبتلا ہیں۔آپ کے کالم کے آغاز میں ہے “گلگت بلتستان کے تمام پروفیسرز اور لیکچررز اپنے فرائض منصبی سے انصاف نہیں کرتے” اس جملے میں لفظ “تمام ” کو آپ ثابت نہیں کر سکتے۔میں بھی آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں ۔میں جانتا ہوں آپ چیزوں کو سمجھتے ہو۔مگر اکثر اوقات نا سمجھی میں بہت سی ناگفتنی بھی کہہ جاتے ہو۔اپنی رائے کو دوسروں پر فیصلہ بنا کے تھوپتے ہو اور اس پر اڑ بھی جاتے ہو۔یہ کچھ لوگ برداشت کر سکتے ہیں لیکن میڈیا کے ذریعے اسے سب سے منوانا حماقت ہے اور یہ خبط آپ میں ہے۔ کچھ لوگوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کو ایک مجموئی رنگ دے کر سرکاری کالجز کے اساتذہ کی ساکھ اور نیک نامی کی جو دھول اڑائی ہے اس کے کتنے بھیانک سماجی اثرات پڑ سکتے ہیں کیا آپ سمجھ سکتے ہیں؟؟؟ کتنے ہی مخلص،ہمدرد اور بہترین اساتذہ کے کردار کو کیسا آپ نے داغدار کیا ہے؟کیا اس کی تلافی ممکن ہے؟ معاشرے میں لیکچررز اور پروفیسرز کی جو عزت ہے،جو ٹرسٹ ہے آپ کی اس قلمی مہم جوئی سے اس کو کتنا نقصان پہنچا ہے آپ کو سمجھ ہے؟؟؟ امید ہے آپ کو پہلے نہیں تو اب سمجھ آئے گی۔آپ نے جوش میں آکر ڈھول تو پیٹا ہے مگر سب میں اس کو ثابت نہیں کرسکیں گے۔اور یہ آپ جانتے ہیں ڈھول باہر سے جتنا ڈھم ڈھم۔۔۔۔اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ……. والسلام آپ کا خیراندیش‘‘۔
ایک اور خط بھی موصول ہوا۔ یہ خط بھی اپنی تمام تررعنائیوں کے ساتھ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں
’’حقانیؔ صاحب آپ کے گزشتہ کالم’’ پروفیسروں کا المیہ‘‘ میں ایک خط پڑھ کر صاحبِ خط اورآپ کی ذہنی ساخت معلوم ہوئی۔اس صاحب نے گلگت بلتستان کی سب سے اچھی برادری اور علم و عمل کا چراغ روشن کرنے والے پروفیسروں پر دانستگی سے کیچڑ اچھالا اور آپ نے اپنے کالم میں شائع کیا۔میں آپ اور آپ کے صاحبِ خط سے چند سوالات کرتا ہوں۔ کیا آپ لوگ جواب دینا پسند فرمائیں گے۔مجھے بتایا جائے کہ اگر ایگزام ڈیوٹیاں پروفیسر اور لیکچرار نہیں کریں گئے تو کون کرے گا؟ جس ایمانداری سے پروفیسروں اور لیکچراروں نے ایگزام ڈیوٹی اور اسسمنٹ کی ذمہ داری سنبھالا ہے کیا کوئی اور سنبھال سکتا ہے؟ایگزام لینا اور پیپر چیک کرنا تو پروفیسروں کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ اگرپروفیسر یہ کام نہیں کریں گے تو پولیس ڈیپارٹمنٹ والے کریں گے؟خدا کا خوف کرو۔ گورنمنٹ نے ایک نظام بنایا ہے اس کے تحت کالجز میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کی دو درجن سے زائد کالجز کو ان بیچاروں نے سنبھالا ہوا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ کونسی کالج ایسی ہے جس میں اسٹاف کی کمی نہیں مگر یہ پروفیسر ز اور لیکچرار ڈبل کلاسیں لیکر کالجز کے نظم کو سنبھالے ہوئے ہیں۔کیا حکومت دیگر شعبوں کے آفیسرز کو جتنی سہولیات دیتی ہے اتنی پروفیسروں اور لیکچراروں کو دیتی ہے؟ یقیناًنہیں۔ کیا آج تک کسی پروفیسر نے کرپشن کی ہے؟ کونسا محکمہ ہے جو کرپشن سے پاک ہے مگر آپ ایک پروفیسر کی کرپشن ثابت نہیں کرسکتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ پروفیسرز فرشتے ہوتے ہیں مگر یہ دعویٰ ضرور ہے کہ گلگت بلتستان کے دیگر تمام محکموں کے آفیسروں سے زیادہ نیک نیت، باوصف اور نیک طینت ہیں۔مشکل حالات میںیہ لوگ اتحاد ویکجہتی سے رہتے ہیں اور اپنے تمام معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں۔آپ لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہیں کہ بہت سارے پروفیسر پی ایچ ڈی اور ایم فل کیے ہوئے ہیں،اور کچھ کررہے ہیں۔کچھ کتابیں لکھتے ہیں کوئی تحقیقی مضامین لکھتا ہے۔ کوئی صاحب دیوان ہے۔پورے گلگت بلتستان کے تمام سرکاری ملازمین کا ریکاڈ نکال کر دیکھ لیجیے گاکہ کتنے فیصد وہ آفیسر ہیں جنہوں نے انہی پروفیسروں سے تعلیم حاصل کیا ہے۔ آپ کو حیرت ہوگی۔کتنے ججز، سیکرٹریز، ڈائریکٹرز،ڈاکٹرز،آرمی کمیشنڈآفیسرزاور دیگر محکموں میں اعلیٰ آفیسرز ہیں جنہوں نے انہی پروفیسروں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے مگر آپ کو یہ حقائق نظر ہی نہیں آتے۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔آج بھی لوگ سو دفعہ سوچتے ہیں جب کسی پروفیسر اور لیکچرار سے بات کرتے ہیں تو۔ان کے سامنے بڑے بڑوں کی بولتی بند ہوتی ہے مگر آپ کو یہ زمینی حقائق نظر ہیں نہیں آتے یا آپ نے اندھا پنے کا کالا چشمہ پہنا ہوا ہے‘‘۔
ایک اور خط موصول ہوا۔ ملاحظہ کیجے۔’’حقانیؔ صاحب آپ کے مضمون کے بعد کافی سارے پروفیسرز اور لیکچرارز سیخ پا ہیں۔سیخ پا ہونے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہیں جن پر وہی باتیں سو فیصد صادق آتی ہیں جو آپ نے کالم میں کی ہے۔ انہوں نے اس کالم کے بعد سنجیدگی سے سوچنے کی بجائے آپ کی ذات پر کیچڑ اچھالنا شروع کیا۔ یہ کم از کم پڑھے لکھے لوگوں کا رویہ نہیں ہوتا۔بدیہی حقیقت ہے کہ کم ظرف لوگ ہمیشہ ذاتیات پر بات کرتے ہیں۔ ان کے اس طرح اول فول بکنے سے آپ کی شخصیت میں کوئی اثر بھی نہیں پڑتا۔بہر صورت میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ خط خود آپ کے خلاف بھی تھا۔ اس لیے کہ ایگزام ڈیوٹی اور اسسمنٹ آپ بھی کرتے ہیں۔آپ بھی کوئی کاروبار کرتے ہونگے۔پیسہ کمانے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔آپ بھی اپنی ٹرانسفری کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہونگے۔آپ بھی اگلے گریڈ کی خواہش رکھتے ہونگے۔ آپ بھی کلاسیں سنجیدگی سے نہیں لیتے ہونگے۔ غرض بیان کردہ چیزیں اگر کسی پروفیسر میں پائی جاتی ہیں تو آپ میں بھی پائی جاتی ہیں۔لیکن آپ نے ان کو دبانے کے بجائے منظر عام پر لایا۔ ہمارا میڈیا، وزیراعلیٰ اور اس کی کابینہ، ممبرا ن اسمبلی،اعلی سرکاری ملازمین اور یہاں تک مسجد و مُلا و شیخ و امام بارگاہ اور دیگر مقدس لوگوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹیں شائع کرتا ہے تو یہ پروفیسروں کے بارے میں کیوں نہیں کرسکتا ہے۔ آپ لوگ ہر گز مقدس گائے نہیں مگر یہ سمجھنا آپ کی برادری کے بس کی بات۔میں آپ کی ہمت کو داد دیتا ہوں، آپ اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہو‘‘۔
یادرہے کہ’’پروفیسروں کا المیہ‘‘ والے کالم سے میری نیت میں کوئی فتورنہیں تھا مگر بے حد افسوس ہوا جب اپنے سینئرز بالخصوص میرے وہ دوست جو ’’منہ میں رام رام اور بغل میں چھری‘‘ والی پوزیشن اختیار کیے ہوتے ہیں کی کمزور ترین حرکتوں کو دیکھا۔انہوں نے بہت سارے محترم سینئرز پروفیسروں کو اکسانے کی کوشش کی یہاں تک کہ پروفیسر ایسویس ایشن کے عہدہ داروں کو بھی میرے خلاف بھڑکایا۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی بھونڈی حرکتوں سے میرا کچھ بگڑنا والا نہیں۔رہی بات ان احباب کی جنہیں مجھ سے شکایت ہے یا خفگی ہے تو اگر اس مکتوب نما مضمون سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معافی کا خواستگار ہوں۔اور ہاں گلگت بلتستان کے انیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک سو پچاس آفیسرز کو بیس لاکھ لوگوں کی نمائندہ اسمبلی نے ایک قانون سازی کے ذریعے ریگولر کیا۔ سپریم اپیلیٹ کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ چیف سیکرٹری اور اس کی قائم کردہ سیکرٹریوں کی کمیٹی نے تمام ترجانچ پڑتا ل کے بعد ان آفیسرزکو ریگولر کیا۔ اسی میں چند ایک لیکچرار بھی ریگولر ہوئے ہیں۔جن کو انہی پروفیسروں نے ٹیسٹ انٹرویو سے گزار تھا۔اگر یہ واقعی نااہل ہیں تو اس نااہلی کا سارا کریڈیٹ تمام ڈیپارٹمنٹ کے سینئرز پروفیسرز،چیف سیکرٹری، سپریم اپیلیٹ کورٹ اورگلگت اسمبلی اور گورنرگلگت بلتستان کو جاتا ہے۔اپنے کیے کا الزام کسی اور کو دینا ہر گز زیبا نہیں۔اور ہاں یاد رہے ایک اور گروپ بھی ریگولر ہونے جارہا ہے کسی میں ہمت ہے تو روک لیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔