وادی داریل ۔۔۔۔۔ ویلی آف ڈیتھ

وادی داریل ۔۔۔۔۔ ویلی آف ڈیتھ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 ڈاکٹر محمد زمان داریلی 

شمالًا جنوباً پھیلی ضلع دیامر کی  ایک خوبصورت اور زرخیز وادی داریل کہلاتی ہے، جس کی آبادی اس وقت لگ بھگ ساٹھ ہزار نفوس پر مشتمل ھے . داریل تانگیر کا علاقہ 1952 میں باقاعدہ مشروط طور پر پاکستان میں شامل ہوا۔ داریل شاہراہ ریشم سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ کے دائیں جانب واقع ہے۔ ماضی بعید میں داریل بدھ مت تہذیب کا مرکز رہا ھے داریل پھوگچ کے مقام پر بدھ مت دور کے یونیورسٹی کے آثار اب بھی ناوُ کوٹ کے مقام پر موجود ھیں۔

تاریخ میں گگت کی حکمرانی کے جنگ و جدل میں داریل کا کلیدی کردار رہا ھے حکمرانی کے تخت سے بیدخل کئے جانے والے داریل میں پناہ لیتے تھے اور پھر سے اپنی قوت یکجا کر کے گلگت کا رخ کرتے تھے۔ داریل کی قدیمی رسم تھی کہ جو بھی حاکم یا فرد ان کے ہاں پناہ لیتا تھا اسے پورے داریل کا فریادی سمجھ کر عوامی لیول پر اس کی کفالت اور حفاظت کی جاتی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ فریادی کے ساتھ ملکر اس کے شانہ بشانہ انکے دشمنوں سے لڑا بھی جاتا تھا۔

داریل کے پرانے دیہات کی تعداد چھ تھی۔ شمال کی جانب پہلا گاوُں گیال، دوسرا پھوگچ جو کہ راقم کا جنم بھومی بھی ھے، تیسرا سمیگال پائن جسے دودو کوٹ کہتے ھیں اس کے ساتھ لگا چو تھا سمیگال بالا جسے بیراوُ کوٹ کہتے ہیں پانچواں منیکال پائن چھٹا منیکال بالا جسے لاشانو کوٹ کہتے ہیں . ان سارے دیہات کی تعمیر حفاظتی اقدامات کو مد نظر رکھ کر کی گئ تھی۔ گاوُں جسے مقامی زبان میں کوٹ کہتے تھے ایسی جگہ تعمیر کیا جاتا تھا کہ سارے گھروں کے دروازے اندر کی جانب گلیوں میں کھلتے تھے ان گلیوں کے بھی اپنے مقامی نام رکھے جاتے تھے۔ کوٹ کا ایک مرکزی دیو ہیکل دروازہ ھوتا تھا جسے مقامی زبان میں داروشتو کہا جاتا تھا اس پر باقاعدگی سے پہرے تعیناتہوتے تھے۔ دروازے کو بند کرنے اور کھولنے کے اوقات بھی متعین ہوتے تھے۔ گاوُں کا اپنا نظام حکومت ھوتا تھا سزا اور جزا کا نظام قائم ھوتا تھا زمینوں کی تقسیم کا ایسا بہترین نظام تھا فصلوں کی بوائی اور کٹائی اجتماعی طور پر کی جاتی تھی۔ گاوُں کی تمام شادیاں، مُردوں کی خیرات حتی کہ بچوں کے ختنے کی رسومات بھی ایک ساتھ ادا کئے جاتے تھے۔ پورا گاوُں خوشی اور غم کی سارے رسومات مل کرمناتا تھا جس سے غم پورے گاوُں میں تقسیم ھو کر کم اور خوشی سب میں تقسیم ھوکر بڑھ جاتی تھی۔ مشکلات کا پورا گاوُں مل کر مقابلہ کرتا تھا۔ خونی رشتے مضبوط تھے۔ سائنس اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی بجلی موبائل سڑکیں گاڑیاں کچھ نہیں تھیں پر غم خوشی میں احباب میلوں سفر طے کر کے شرکت کرتے تھے پیغام رسانی کے لیئےانگلی میں دھاگہ باندھ کر قاصد بھیجےجاتے تھے۔  ایک ایک قاصد کی کئی رنگ برنگے دھاگوں سے انگلیاں لپٹی ہوئی ھوتی تھیں تاکہ قاصد بھول نہ جائے قاصد پیغام پہنچانے کے فوراً بعد انگلی سے دھاگہ اتار دیتا تھا کچھ قاصدوں کو معاوضہ دے کر بھیجا جاتا تھا اور کچھ لوگ گاوُں والوں کے اپنے مقرر کردہ ھوتے تھے جو اس کام پر مقرر کیئے گیے ھوتے تھے. اس وقت لاوُڈ اسپیکر نہیں ھوتے تھے قرب وجوار کے لوگوں کو کسی کی موت کی اطلاع دینی ھوتی ھو تو ایک فرد چوپال جہاں مردوں کی بیٹھنے کی جگہ ھوتی تھی کھڑا ھو کر ڈھول بجاتا تھا اس موت کی اطلاع دینے والی ڈھول کی آواز مختلف ھوتی تھی جس کی ساز اور آواز سے گاوُں کا ہر فرد واقف ھوتا تھا جوں ہی موت کی اطلاع والی ڈھول کی آواز سنتے تھے پورے گاوُں کے لوگ کھیت کھلیان سے اپنا کام کاج چھوڑ کر فوتگی والے گھر کا رخ کرتے تھے۔

شادی بیاہ پہ بھی خوشی کے شادیانے بجتے تھے وہ بھی ایک خوبصورت کلچر تھا لوگ مقامی زبان میں گانے گاتے تھے ناچتے تھے . فصلوں کی کٹائ بوائی ہل چلانے بھل صفائی سب میں لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے تھے خود اگاتے تھے اس وقت کوئ سبسڈی نہیں ملتی تھی نمک لوگ سوات سے گروہوں کی شکل میں کوہستان کا دشوار راستہ طے کر کے لاتے تھے اس سفر میں کچھ لٹ جاتے تھے کچھ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوتے تھے اس وقت کوئیکانواےُ نہیں ھوا کرتی تھی۔

جب سے مملکت خداداد کی جمہوریت نے داریل میں قدم جمائے ھیں تب سے قانون کاغذوں میں ہے میدان میں ناپید۔ مقتول ملتا ھے قاتل نہیں ملتا ھے . عدالتیں ہیں پر انصاف نہیں ملتا .روڈ کاغذوں پر تو بنے ہوے ہیں، لیکن زمین پر ان کا نام و نشان نہیں ملتا۔ موجودہ جمہور کے کارندوں نے ہوائی روڈ کا نام دیا ھے۔ مسلمان تو ہیں لیکن کئی دلوں میں اسلام نہیں ملتا۔ انسان تو ہیں پر انسانیت کا فقدان ھے۔ پرانے خونی رشتے تو ھیں پر خونی وہ جذبے نہیں گاوُں کے آثار تو ہیں وہ تاریخی دیو ہکل دروازے کہاں چوپال تو ہیں پر وہ تاریخی تختے غائب ھیں تاریخی مساجد بھی آھست آھستہ ناپید ھورہی ہیں۔ قومی خزانہ جمہور کے بیٹوں اور انک حواریوں کی جیبوں میں۔ ھسپتالوں میں مریض نہیں کتے اور بلیاں داخل ہوتیں ہیں۔ گندم کے ڈپو ہیں لیکن اندر گندم نہیں گھاس پھوس اور مال مویشی ہیں۔ سکولوں کی عمارات کو جمہور بچے نے بیٹھکوں میں تبدیل کیا ھوا ھے۔ یہ تھی بدھ پرستی سے جمہور پرستی کی ایک چھوٹی سی تقابلی جھلک۔

جنہوں نے بستی اُجاڑی دی ھے
کبھی توانکا حساب ہوگا

رب راکھا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔