ٹیکس مخالف تحریک کی کال پر شٹر ڈاون، پہیہ جام ہڑتال، آئینی حقوق ملنے تک ٹیکس نہیں دیں گے: مقررین

ٹیکس مخالف تحریک کی کال پر شٹر ڈاون، پہیہ جام ہڑتال، آئینی حقوق ملنے تک ٹیکس نہیں دیں گے: مقررین

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)اینٹی ٹیکس موومنٹ گلگت بلتستان کی کال پر چلاس شہر سمیت ضلع بھر میں ود ہولڈنگ ٹیکس ،انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کے خلا ف مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ہڑتال کے باعث تمام کاروباری مراکز ،پٹرول پمپس ،ہوٹل اور نجی کلینکس مکمل طور پر بند رہے۔جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معطل رہی ۔چلاس شہر سے ملک کے دیگر شہروں کے لئے جانے والی ٹرانسپورٹ کے اڈے بھی احتجاجاً بند ہونے کی وجہ سے مسافر اذیت میں مبتلا رہے۔ٹرانسپورٹ کی بندش سے تعلیمی اداروں میں حاضری معمول سے کم رہی جبکہ طلباء پیدل سکول گئے۔ضلعی ہیڈکوارٹر چلاس شہر کے مین بازار میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے اینٹی ٹیکس مومنٹ گلگت بلتستان کے راہنماؤں محمد بشیر چئیر مین کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن، فردوس احمدصدر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن،انیس الرحمان،راجا ناصر،انجینئیر محمد غیور،حسین علی ،مرتضیٰ علی،مولانا عبدالمحیط ، محمد افضل و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ابھی تک آئینی سیٹ اپ نہیں دیا جا سکا ہےنہ ہی ملک کے دیگر شہروں اورصوبوں کی طرح کوئی سہولیات ہیں۔علاقے کے عوام خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ٹیکس ادا کر سکیں۔اور نہ ہی کسی صورت ٹیکس قبول کرینگے۔

20160215_103628

اینٹی ٹیکس مومنٹ کے راہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہونگے اور ٹیکس ختم نہیں کیا جائے گا تو تئیس فروری کے بعدغیر معینہ مدت تک گلگت بلتستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور ہڑتال کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دینگے۔جلسے کے اختتام میں احتجاجی شرکاء کی تائید وحمایت سے متفقہ طور پر قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا گلگت بلتستان کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت مکمل آئینی حقوق دئے جانے تک انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس ناقابل قبول ہے۔وزیر اعظم پاکستان جی بی کونسل کا انکم ٹیکس آرڈر 2012کو فی الفور واپس لینے کا اعلان کر کے عوام مین پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کریں۔گلگت بلتستان کے عوام سے جی ایس ٹی کی مد میں گزشتہ انہتر سالوں سے مسلسل وصول کی جانے والی رقم کی کل مالیت کا اسی فیصد حصہ واپس کیا جائے۔اقتصادی راہداری میں جی بی کے عوام کی تحفظات دور کرتے ہوئے خاطر خواہ حصہ دیا جائے۔دیامر ریجن کا اعلان تو کر دیا گیا ہے مگر تاحال عملاً عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔دیامر ریجن کے اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دیامر ریجن کا قیام فوری عمل میں لایا جائے۔اور چیف انجینئیر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں اینٹی ٹیکس مومنٹ کے راہنماؤں محمد بشیر اور فردوس احمد نے کہا کہ ٹیکس کا نفاذ سراسر غیر آئینی اور ناقابل برداشت ہے۔ہم ملک پاکستان میں آئینی طور پر ابھی تک شامل نہیں ہیں صرف انتظامی طور پر پاکستان میں شامل ہونے کی وجہ سے وفاق ٹیکس عائد نہیں کر سکتا ہے۔احتجاجی تحریک دوسرے راؤنڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہونگے احتجاجی تحریک جاری و ساری رہے گی۔میڈیا تحریک کو الیکٹرانک میڈیا پر اجاگر کیا جائے۔گلگت بلتستان کو اسلام آباد کے برابر مراعات اور سہولیات دی جائیں۔اور اسلام آباد کے شہری کی طرح کا شہری تسلیم نہ کرنے تک ٹیکس کی کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتے ہیں۔

DSCF3302[00_00_36][20160215-070344-1]

میڈیا سے گفتگو میں سابق صدر پی وائی او دیامر نور محمد قریشی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لاہور کی طرح کے وڈیرے اور جاگیر دار نہیں بس رہے ہیں۔یہاں کے عوام شام کی روزی روٹی کا بندوبست بمشکل کر رہے ہیں۔یہاں پر کیا ہے جس کا عوام ٹیکس دے سکیں۔اوپر آسمان نیچے بنجر داس اور پہاڑ ہیں۔عوام کے پاس بنیادی سہولیات نہیں ہیں ٹیکس کہاں سے ادا کر سکیں۔سابقہ حکومتوں نے بھی اس خطے کے عوام پر ٹیکس نہیں لگایا مگر ن لیگ کی حکومت ظلم کی انتہاء کر رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں راہنماء پی پی پی محمد ولی ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت نے فوری طور پر ٹیکس کے فیصلے کو واپس نہیں لیا تو شاہراہ قراقرم کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اقتصادی راہداری منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہونگی۔جس کے لئے عوام پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنے کا سوچا بھی نہ جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔