جہد مُسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری تعلیمی کہانی

جہد مُسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری تعلیمی کہانی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر محمد زمان داریلی

میری پہلی درسگاہ کھنبری سیر کا پرائمری سکول ھے جہاں 1974 ستمبر کے مہینے میں داخل ھوا تھا۔ اس سکول کے پہلے بیچ میں اور میرے ھم جماعت تھے۔ دو کمروں پر مشتمل یہ عمارت جس کے فرش پر گرمی اور سردی سے بچاوُ کے لیے ریت بچھائی گئ تھی۔ سکول میں باتھ روم نہیں تھا۔ سردیوں میں طلباء گھروں سے ایک ایک لکڑی لے کر آتے تھے۔ استاد کا تعلق بھی کھنبری سے نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے ھوتا تھا۔ یہ سکول پرائمری سطح کا تھا اور میری پرائمری پاس کرنے تک جن اساتذہ کرام کی یہاں پوسٹنگ ہوئی وہ سب انڈر میٹرک تھے۔ ان کے لیے اس سکول کی عمارت کے ساتھ رہائش کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ وہ مقامی لوگوں کے ہاں ٹھرتے تھے پھر بھی یہ اساتذہ اپنی ڈیوٹی خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے اپنی ڈیوٹی خود کرتے تھے۔ کسی اور کو ٹھیکے پہ بھی نہیں دیتے تھے۔ اگر چاہتے تو ایسا کر سکتے تھے کیونکہ یہ درسگاہ کے کے ایچ سے 16 کلو میٹر کی مسافت پر واقع تھا۔

اس وقت تعلیم دی جاتی تھی فروخت نہیں ھوتی تھی۔ آج کی موم بتی تعلیم نہیں دی جاتی تھی بلکہ سزا اور جزا مقرر تھی اساتذہ بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر تعلیم دیتے تھے اور بچوں پر استاد کا خوف اور احترام دیدنی ھوتاتھا۔

اس وقت کلکولیٹر ,موبائل ,لیب ٹاپ ,کمپیوٹر , آئ پیڈ نہیں سرکنٹوں کے قلم , لکڑی کی بنی تختی لوھے کی سلیٹ چکنی سفید مٹی کی سیاھی ھوا کرتی تھی ابتدا تلاوت قرآن اور لب پے آتی ھے دعا بن کے تمنا میری سے اختتام پہاڑہ زبانی خوبصورت دھن سے باجماعت پڑھ کے ھوتی تھی۔ درمیان کی بریک جسے تفریح دیسی بنی گیند کے ساتھ کسی نہ کسی طرح وقت گزاری کے لئے استعمال کیا جاتاتھا۔ لنچ کے طور پر دیسی مکئ کی سوکھی روٹی یا پھر بغیر کچھ کھائے پیئے واپس گھر جانا ھوتا تھا اب تو اس کو سنیک کہا جا تا ھے. بچوں کو سزا ہری ٹہنیوں کو ہاتھوں پر برسا کر دی جاتی تھی لیکن اس سزا پر نہ بچے اور نہ والدین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہلاتے تھے اور نہ اس اصلاحی سزا کو قومیت کا لیبل لگایا جاتا تھا۔

اساتذہ دلجمعی سے پڑھاتے تھے تو شاگرد اسے خوب پڑھتے تھے . امتحان لینے باھر سے آنےوالے ممتحن کا رعب اور دبدبا دیدنی ہوتا تھا۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد میں بھی اعلی’ تعلیم کے حصول کے لیےعلامہ اقبال کے نقش قدم پر چلتے ھوے داریل چلا گیا۔ داریل میری جائے پیدائش ھے۔ میرا داخلہ داریل گماری کے ہائیسکول میں ھو جاتا ھے۔ داریل گماری کا سکول میرے گاوُں پھوگچ سے پانچ کلو میٹر دور تھا اس لئے مجھے روزانہ دس کلو میٹر کا سفر پیادل طے کرنا پڑھتا تھا۔ گرمی ھو یا سردی پیادل روز دس کلو میٹر کا سفر۔ لیٹ ھونے پر سردی سے سکڑتے ہا تھوں پرمعمول کے ساتھ کھنبری کیچھڑیوں کی بارش۔

دن کا کھانا دیسی روٹی شالوڑو (دیسی نام) کا ادھر ادھر ھونے پر غائب ہونا بھی معمول تھا۔

یہ تین سال میری تعلیمی سفر کے مشکل ترین دن تھے۔ ہمت نہیں ہاری اور مڈل پاس کر کے سائنس ٹیچر نہ ھونے کی وجہ سے رخت سفر باندھ کر گلگت کوچ کرنا پڑھا۔ بہت سے ہمسفر کچھ ہمت ہار کر کچھ مالی مشکلات کے بدولت میرے ساتھ یہ سفر جاری نہ رکھ سکیں۔

میں نے گلگت ہائیسکول نمبر1 میں داخلہ لیا۔ داریل گماری کے ہائی سکول کی مٹھائی اور سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر بھو ک مٹانے کا تجربہ فائیو سٹار ھوٹل کے ذائقے سے کم نہیں ھوتا تھا۔

(سفر جاری ھے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔