تھک داس ہماری ملکیتی اراضی ہے، عوام دشمن فیصلے قبول نہیں کریں گے: عمائدین تھک نیاٹ کا چلاس میں پریس کانفرنس سے خطاب

تھک داس ہماری ملکیتی اراضی ہے، عوام دشمن فیصلے قبول نہیں کریں گے: عمائدین تھک نیاٹ کا چلاس میں پریس کانفرنس سے خطاب

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)عمائدین تھک نیاٹ بابوسر،علماء کرام ،نمبرداران،اور تھک نیاٹ یوتھ موومنٹ نے تھک داس کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جاری کردہ پریس ریلیز پر مبنی مقامی اخبارات میں چھپنے والی خبروں کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیدیا۔

چلاس شہر میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر تھک نیاٹ یوتھ ضیاء اللہ تھکوی،چئیر مین تھک کمیٹی حاجی شاہ خان،عالم دستگیر،حاجی لاء خان،گشپور،محمد شریف خان،مبین،بشیر،جعفر جمالی،نمبردار محمد زبیر،مقابل شاہ،مولانا سمندر خان،عبدالوہاب،ضیا ء الحق،جہانزیب،مولانا مطیع الحق و دیگر نے کہا کہ تھک داس تھک نیاٹ کی ملکیتی اراضی ہے۔اس وقت تھک داس میں پینتیس ہزار کی آبادی رہائش پذیر ہے۔تھک داس مکمل ایک قصبہ بن چکا ہے ہزاروں مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔کھیت بنائے جاچکے ہیں۔لاکھوں درختوں اور پھلدار پودوں کی شجر کاری کی جا چکی ہے۔ساری چیزیں مختلف لوگوں کی شخصی ملکیتی تصرف میں ہیں۔اور تھک نیاٹ بابوسرایک سوسائٹی کے طور پر باقاعدہ پر امن طریقے سے رہائش پذیر ہیں۔سی پیک کے حوالے سے صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے کئے جانے والے عوام دشمن فیصلے قبول نہیں ،ایسے غیر دانشمندانہ فیصلوں کے انتہائی بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ضلع دیامر میں کوئی خالصہ سرکار موجود ہی نہیں ہے۔جو کسی بھی ادارے یا پراجیکٹ کے لئے الاٹ کر سکیں۔اقتصادی راہداری کے حوالے سے سب سے پہلے اپوزیشن اور عوام کو مکمل طور پر مطمئن کر کے فزیبلٹی تیار کی جائے۔اقتصادی راہداری کی ضروریات اور لوازمات کے لئے جتنی بھی اراضی درکار ہوگی وہ متعلقہ اراضیات کے مالکان اور رہائشیوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت عوام الناس کو مطمئن کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔عوام الناس تھک نیاٹ بابوسر کی آبادی انتہائی زیدی اور رہائشی و زرعی زمینیں انتہائی قلیل ہیں۔تھک داس مین رہائش نہ ہونے کی صورت میں پینتیس ہزار کی آبادی ہجرت کرنے پر مجبور ہونگے۔جو تھک نیاٹ بابوسر کے رہائشی کسی صورت ہجرت قبول نہیں کرینگے۔اس صورت میں ہم برباد تو سب برباد والے فارمولے پر عمل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیامر میں بنائے جانے والے اہم ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ اور دیامر کے امن کو خراب کرنے والی سازشوں اور پالیسیوں کو ناکام بنائی جائیں۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔