داسو ڈیم کے لئے 2دو اعشاریہ تین ارب ڈالرز کا بندوبست ہوگیا

داسو ڈیم کے لئے 2دو اعشاریہ تین ارب ڈالرز کا بندوبست ہوگیا

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان (نامہ نگار)کوہستان، داسو ڈیم پر اخراجات کیلئے 2.3بلین امریکی ڈالر کا بندوبست ہوگیاہے ،ابتدائی مرحلے میں دو طرفہ شاہراہ قراقرم میں متاثرہ اراضی اور واپڈاکالونیز کے مالکان کو رقوم ملیں گی جس میں دو طرفہ چائنہ کیمپس بھی شامل ہیں جبکہ شاہراہوں کی تعمیر کیلئے کنٹریکٹرز کو پیسے مہیا کئے جارہے ہیں، مالکان اراضی واملاک کوپے منٹ کا باقدہ آغازاگلے ماہ ٹھارہ مارچ سے ہوگا۔سرکاری ذرائع داسو ڈیم۔تفصیلات کے مطابق داسو ڈیم اس وقت ملکی توانائی بحران کے خاتمے کا ضامن تصور کیا جارہاہے اور میگاپروجیکٹ کی تکمیل کیلئے قوم ،کاروباری دنیا او ربنکوں کی نظریں مرکوز ہیں ، ضلع کوہستان کے صدرمقام داسو سے پانچ کلومیٹر شمالی کی جانب دریائے آباسین پر تعمیر ہونے والامیگاپروجیکٹ داسو ڈیم کی تکمیل کیلئے حکومت وقت سرتوڑ کوشش کررہی ہے ۔

اس ضمن میں داسو ڈیم کے اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ واپڈا گزشتہ روز داسو ڈیم کی اراضی ، املاک ، کالونیز اور دیگر کاموں کیلئے پیسہ اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوگیاہے ۔ ذرائع کے مطابق دنیا کے مختلف بنکوں سے 1.5بلین امریکی ڈالر اکھٹے کرلئے گئے ہیں جبکہ 800ملین ڈالر براہ راست ورلڈ بنک سے لیا گیاہے ۔ذرئع کے مطابق ابتدائی طورپر دو طرفہ شاہراہ قراقرم کے اراضی مالکان ، واپڈا کالونی اور چائنہ کیپمس کے اراضی مالکان کو معاوضے ملیں گے جس کا آغاز کوہستان کی ضلعی انتظامیہ اٹھارہ مار چ سے کریگی ۔علاوہ ازیں کوہستان میں کنٹریکٹر ز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے او رمقامی لوگوں کو بھی کثیر تعداد میں روزگار کے مواقع مل رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ہزارہ ڈویژن داسو ڈیم کی بدولت سونے کی چڑیا بننے جارہاہے جہاں ہزاوروں کی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملے گا۔اس ڈیم کی تکمیل سے نیشنل گرڈ سٹیشن میں چاہزار تین سو بیس میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔