ضلع لوئر کوہستان تنازعہ، پٹن اور پالس کے باسیوں کے درمیان برف پگھلنے لگی

ضلع لوئر کوہستان تنازعہ، پٹن اور پالس کے باسیوں کے درمیان برف پگھلنے لگی

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کمیلہ کوہستان (شمس الرحمن کوہستانیؔ ) لوئر کوہستان تنازعہ ، پٹن اور پالس کے مابین برف پگھلنے لگی ، اقوام کولئی ، بدہ ، نارنگشا خیل ،سرمہ خیل سمیت خواتین ا ورسکول کے بچوں کی سرزمین پٹن پر آمد روفت کی اجازت دیدی ہے ،مولانا کریم داد آف پٹن، اشتعال انگیزی کے تدارک کیلئے پالس میں قیام پذیر ہوں ، امن او رقانون کا ساتھ دیں گے، راستے بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے ،امید ہے صوبائی حکومت آئین اور قانون پر عمل کریگی ۔تحصیل پالس سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا عصمت اللہ کی گفتگو

تفصیلات کے مطابق ضلع لوئر کوہستان کی پشاور ہائی کورٹ سے نوٹیفیکیشن کی منسوخی کے بعد کوہستان کے قبائل پچھلے کئی دنوں سے مشتعل ہیں اور پٹن کے قبائل نے پالس کے قبائل سے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایک دوسری کی زمین پر قدم نہ رکھنے کا فیصلہ دیاہے۔ مگر گزشتہ روز حالات معمول پر آنے کا امکان اُس وقت پیدا ہو جب پٹن سے مشہور شخصیت حبیب اللہ عرف ٹورا نے اپنے رفقاء کے ہمراہ پالس کے علاقے میں جاکر اُن سے ہمدردی کا اظہار کیااور بعدازاں پالس سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا عصمت اللہ نے رابطے پر میڈیا کو بتایا کہ روڈ بلاک کرنے کا فیصلہ غلط تھا، قبائلی اشتعال انگیزی کے خاتمے کیلئے کئی روز سے پالس میں قیام پذیر ہوں ، حکومت اورانتطامیہ کے جیسے مناسب سمجھیں گے اقوام پالس کو راستہ دیں گے اگر وہ کہیں پیدل جائیں تو پیدل جانے کو تیار ہیں اوراگر وہ حفاظتی اقدامات کریں تو پالس کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ قانونی معاملات قانون کے اداروں میں طے ہونے چاہئے ، معاملے کے حل بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا عصمت اللہ کا کہنا تھا کہ سڑکوں اور چوراہوں میں قانونی فیصلے نہیں ہوا کرتے، آہستہ آہستہ حالات قابو ہونگے البتہ وہ کسی بھی قسم کی بدامنی سے گریز کریں گے اور اپنے لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں گے ۔ دوسری جانب پٹن سے تعلق رکھنے والے جید عالم دین مولانا کریم داد نے رابطے پر بتایا کہ علاقہ کولئی کے تمام قبائل اُن کے بھائی ہیں اورپٹن کی قوام انہیں اپنے سرزمین پر خوش آمدید کہتی ہے ، اگر اُن سے غلطی بھی ہوئی ہو تو معاف کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پالس کے بھی بے شمار لوگ اُن کے ساتھ ہیں جن میں نارنگشا خیل ، سرمہ خیل ، چند دمنہ خیل ، بدہ خیل قبائل شامل ہیں انہیں بھی پٹن اور پٹن والوں کی اراضیات پر آمدورفت کی اجازت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پالس کے بچوں کو تعلیم دلاکراُس علاقے سے جہالت کا خاتمہ کریں گے، پالس کے اکثریتی طلباء پٹن کے سکولوں او رکالجوں میں زیر تعلیم ہیں انہیں تعلیم کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور وہ آزادا نہ طورپر اپنے سکولوں اور کالجوں میں آمدورفت کرسکتے ہیں (نابالغوں کو بھی آزادی ہے) جبکہ مریضوں کو بھی ہسپتالوں میں آمدورفت کی مکمل اجازت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پٹن کے لوگ مورچہ زن ہیں اور سکول کے بچوں اور مریضوں کوراستہ نہیں دیتے۔ پہاڑوں اور دروں میں ہونے والے اموات کا الزام بھی پٹن کی اصلاحی کمیٹی اور عوام پر لگانا زیادتی ہے ، صحت کی سہولیات پٹن اور پالس میں مساوی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عصمت اللہ امن کی بات زبانی کرتے ہیں جبکہ اُن کا اصل مشن علاقے میں دہشت پھیلانا ہے ،جس کیلئے وہ اپنے لوگوں کو اکسا رہے ہیں ۔ معاملے کے حل بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا کریم داد کا کہنا تھا ضلع لوئر کوہستان کا نوٹیفیکشن بحا ل ہونے کی صورت میں پالس قبائل کے ساتھ سماجی بائیکاٹ کا خاتمہ ممکن ہے ورنہ’’ ادھر ہم اُدھر تم‘‘۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔