خادمان قوم حقیقت کے آئینے میں

خادمان قوم حقیقت کے آئینے میں

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

۔۔۔۔۔اقبال حیات آف برغزی۔۔۔۔۔۔۔
سرکاری محکمے عوام سے متعلقہ معاملات اور مسائل نمٹانے کے لئے قائم کئے جاتے ہیں۔اور ان اداروں سے وابستہ افراد کی حیثیت قوم کے خادم کی ہوتی ہے۔معاملات اور مسائل نمٹانے کے سلسلے میں اداروں کے اہلکاروں کے حسن سلوک اور برتاؤ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔اس سلسلے میں بیگانگی ،غربت اور صاحب استطاعت کے تصور کو مٹانے کی ضرورت ہوگی۔حسن سلوک میں مٹھاس اور قدردانی کا عنصر پیدا کرنا ہوگا۔کیونکہ منہ کے اندر زبان جسے پورے وجود میں اللہ رب العزت نے بغیر ہڈی کے نرم گوشت کی صورت میں پیدا کیا ہے اسے اگر نرم اور مہذب الفاظ کا جامہ پہنایا جائے تو پورے وجود کی قدر بڑھ جائیگی اور آگر اسے تلخ اور تندوتیز الفاظ کے ترکش کا رنگ دیا جائے تو پورا وجود نفرت کا شکار ہوجائے گا۔معاوضے کو حلال کرنے کے لئے ڈیوٹی کے لئے معین وقت کا خیال رکھناہوگا اور زاتی امور پر خرچ کرنے سے احتراز کرنا ہوگا۔قومی امانت میں خیانت کے ارتکاب جیسے جرائم سے اجتناب کرنا ہوگا۔یہ وہ عوامل ہے جنکی پاسداری میں سرکاری کرسی کی عظمت پوشیدہ ہے اور مذکورہ اوصاف کے حامل افراد کرسی سے اُترکر جاتے ہوئے توصیف وتعریف کی دولت فاخرہ ساتھ لے کر جائیں گے۔اور پوری زندگی معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ دے دیکھے جائیں گے۔بدقسمتی سے ہمارے سرکاری اداروں میں متعین اہلکار مجموعی طورپر اپنے آپکو مافوق الفطرت مخلوق کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔سراٹھا کربات کرنے میں بھی عار محسوس کرتے ہیں اور باتوں میں حاکمانہ انداز نمایان ہوتاہے طرز گفتگو میں حقارت اور ہتک کا رنگ ابھر کرسامنے آتاہے۔ڈیوٹی کے اوقات کی پاسداری کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں قویش واقارب،دوست احباب اور بااثر افراد کی طرف خصوصی توجہہ کا میلان نمایان طورپر نظر آتا ہے۔جوبنیادی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کے مترادف اعمال ہیں۔حضرت عمرؓ کی خلافت کے دوران حضرت بلالؓ اور حضرت حبیب رومیؓ وغیرہ چند غریب صحابہ رسولﷺآپؓ سے ملاقات کے لئے دربار میں پہنچے تو خلیفہ وقت اندر کچھ ضروری کام نمٹارہے ہوتے ہیں۔انہیں باہر انتظار کرنا پڑتا ہے۔اسی دوران اس وقت کے چند رُء وسا ملاقات کے لئے تشریف لاتے ہیں اور اطلاع اندر بھیجتے ہیں۔فریقت کے بعد حضرت عمرؓ اول الذکر غریب صحاباؓ کو شرف ملاقات بخشتے ہیں اوران کے جانے کے بعد رُؤسا اندر جاتے ہیں بیک زبان گلہ کرتے ہیں کہ کیا زمانہ آیا کہ معاشرے کے بااثر خاندانی اقدار اور بے وقت لوگوں میں تمیز مٹ گئی۔حضرت عمرؓ جواب میں فرماتے ہیں کہ خاندانی طورپر وقار اور بے وقعتی کے فلسفے کو میرے نبیﷺ مٹاکر گئے ہیں۔یہ تو عمرؓ کا دربار تھا۔رضائے الہیٰ کے حصول میں سبقت لے جانے والے یہ لوگ اس دن بھی اللہ رب العزت کے دربار میں آگے آگے ہونگے جس دن اُسی دربار میں عمرؓ کو بھی عہدے کی مناسبت سے انصاف کی فراہمی سے متعلق جوابدہی کے لئے کھڑا رہنا پڑھے گا۔ایک برگزیدہ انسان کے لوگوں کے امور نمٹانے سے متعلق جوابدہی کے تصور کا سامنے رکھتے ہوئے عہدے ،مال ودولت اور خاندانی وجاہت پر کبرونخوت کا رنگ اختیار کرنے والوں کو یہ مسلمہ حقیقت سامنے رکھنا ہوگا کہ کسی بھی حیثیت کودوام نہیں۔سب کچھ فانی ہے اور ہرحیثیت سے متعلق باز پرس ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔