قاتل پہاڑ نانگا پربت پہلی بار سردیوں میں سرکر لیا گیا، بین الاقومی کوہ پیماوں کی آمد خوش آئند

قاتل پہاڑ نانگا پربت پہلی بار سردیوں میں سرکر لیا گیا، بین الاقومی کوہ پیماوں کی آمد خوش آئند

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (شہاب الدین غوری سے) فرزند گلگت بلتستان محمد علی سدپارہ سمیت دیگر دو غیر ملکیوں نے موسم سرما میں قاتل پہاڑ نانگا پربت سر کرکے تاریخ رقم کر دی۔ روان سال نانگا پربت سرنے کے لئے چار مہم جوٹیموں نے حصہ لیا تھا، جس میں ۱۲ کوہ پیما شامل تھے، جن میں سے ایک پاکستان فرزند گلگت بلتستان محمد علی سدپارہ سمیت اٹلی کے سیمن موررو اور سپین کے جون الیگزینڈر چیکون نے جمعے کو موسم سرما میں تاریخ میں پہلی مرتبہ نانگا پربت سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ۱۲ رکنی کوہ پیماوں کی چار ٹیموں نے قاتل پہاڑ کو سر کرنے کا آغاز ۲۴ دسمبر سے کیا تھا،جن میں سے آٹھ کوہ پیما موسمی شدت اور دیگر مجبوریوں کے باعث اپنی مشن مکمل کئے بغیر واپس لوٹے، جبکہ ایک خاتون کوہ پیما سمیت دیگر تین کوہ پیماوں نے سفر جاری رکھا۔ آٹھ ہزار میٹر سفر طے کرنے کے بعد خاتون کوہ پیما بھی موسمی شدت کا مقابلہ نہیں کرسکی، اور مشن ادھورا چھوڑدیا۔ جبکہ فخر گلگت بلتستان محمد علی سدپارہ سمیت اٹلی اور سپین سے تعلق رکھنے والے دو پیماوں نے ۲۶ فروری کو نانگاپربت سر کرلیا۔
یاد رہے کہ ۱۹۸۷ سے کے بعد موسم سرما میں نانگا پربت سرکرنے کے لئے مختلف کوہ پیماوں نے کوششیں کیں ،لیکن ناکام ہوے، جبکہ گرمیوں میں نانگا پربت اب تک کئی مہم جو ٹیموں نے سر کرنے کا آغاز کرچکے ہیں۔ نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش میں اب تک کئی مہم جو اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ کہ چند سال قبل نانگا پربت میں ایک ناخوشگوار واقعہ کی وجہ سے عالمی سطح پر نہ صرف ملکی امیج خراب ہوا تھا بلکہ پاکستان مخالف لابیوں نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی تھی کہ آنے والوں سالوں تک کوئی بھی کوہ پیما یہاں کا رخ نہیں کریں گے۔ لیکن امسال ۱۲ کوہ پیماوں نے ثابت کردیا کہ نانگا پربت کوہ پیماوں کے لئے محفوظ جگہ ہے۔ دوسری طرف کوہ پیماوں کی حفاظت کے لئے دیامر پولیس کی طرف سے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات بھی کئے گئے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔