کاشتکاری کا موسم آن پہنچا تو شگر میں کھیتوں تک پانی لے جانے کے لئے رابطہ سڑکوں کی کھدائی شروع ہو گئی

کاشتکاری کا موسم آن پہنچا تو شگر میں کھیتوں تک پانی لے جانے کے لئے رابطہ سڑکوں کی کھدائی شروع ہو گئی

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)پچھلے سال ٹوٹے ہوئے کلوٹ توبنا نہیں سکا مگرکاشت کاری کا سیزن شروع ہوتے ہی شگر میں سڑکوں کا ستیاناس اور توڑ پھوڑ شروع ہوگیا۔جگہ جگہ لوگوں کی جانب سے پانی لیجانے کیلئے اپنی مرضی سے سڑکوں کو جگہ جگہ سے توڑ نا شروع کردیا۔ انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ سڑکوں کو توڑنے والوں کیخلاف کوئی کاروائی کرنے سے معذرت خواہ نظر آرہا ہے۔تفصیلات کیمطابق کاشت کاری کا سیزن شروع ہوتے ہی شگر میں لوگوں کی جانب سے سڑکوں پر کھدائی کرنے کا عمل ایک بار پھر تیز ہوگیا ہے جگہ جگہ پانی لے جانے کیلئے لوگوں ی جانب سے سڑکوں پر کھدائی کا عمل جاری ہے۔ان کو بازپرس کرنے اور روکنے والا کوئی نہیں ہر یاک اپنے مرضی کا مالک بنا ہوا ہے۔اس سلسلے میں شگر انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے بھی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔سڑکوں پر جگہ جگہ کھدائی کی وجہ سے سڑکوں پر سفر کرنے والوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔جبکہ کئی جگوں پر سڑک خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ٹوٹے ہوئے کلوٹ کے بارے میں محکمہ تعمیرات عامہ کے ذمہ داروں کو بتایا تھا لیکن ان کی جانب سے انہیں مرمت کرنے کے بجائے مٹی ڈال خود کو بری الزمہ قرار دیا گیا ابھی چونکہ کاشت کاری کا سیزن شروع ہوچکا ہے لوگوں کو کھیتوں تک پانی پہنچانے کیلئے ان کی جانب سے ڈالے گئی مٹی کو نکالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔محکمہ تعمیرات کے ایک ذمہ دار کیمطابق سڑکوں پر پائپ اور سپیڈ بریکر لگانے والوں کیخلاف شگر انتظامیہ اور محکمہ کے اعلی حکام کو کئی بار تحریری اور زبانی شکایت درج کرچکا ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان کیخلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سڑک توڑنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوررہا ہے۔اگر شگر انتظامیہ ان کے خلاف کوئی مناسب کاروائی عمل میں لاتے تو آج سڑکوں کا یہ حال نہ ہوتا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔