’’حدیث دِل‘‘ کا تنقیدی جائزہ

’’حدیث دِل‘‘ کا تنقیدی جائزہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عبدالکریم کریمی

گزشتہ تحریر میں احمد سلیم سلیمیؔ صاحب کی کتاب ’’حدیث دِل‘‘ کی علمی و ادبی اہمیت پر بات ہوئی تھی۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ارضِ شمال گلگت بلتستان کی افسانوی ادب میں آپ کا ایک معتبر مقام ہے۔ گلگت بلتستان چونکہ وطن عزیز کے انتہائی شمال میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں علمی و ادبی سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ادیبوں اور شعراء کی حکومتی سرپرستی سرے سے ہی ناپید ہے۔ سہولیات کی عدم دستیابی بھی رہی سہی کسر نکال دیتی ہے۔ ایسے حالات میں احمد سلیم سلیمیؔ جیسے چند سرپھرے اپنی مدد آپ کے تحت ادب کے فروغ میں برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کاوشوں میں ٹیکنکل غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وطن عزیز کے دیگر مراعات یافتہ ادیب و شعراء ہمیں اور ہمارے فن کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ کتابت کا دَور نہیں کہ کوئی خوشنویس کاتب اپنے فن سے کتاب کی صوری حسن کو چار چاند لگائے۔ عرض ہوا ہے کہ یہ دَور ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ آج کل ہر کام کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ادیب اور شاعر کو کمپیوٹر کی مہارت حاصل کر لینی چاہئے۔ یہاں کے ادیبوں اور شعراء کی تحریر اور شاعری میں کسی قسم کا جھول نہیں لیکن معاصر دُنیا کی جدید ٹیکنالوجی سے ناواقفیت کی وجہ سے ہمیشہ مار کھانی پڑتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ڈاکٹرز، پروفیسرز، وکلاء، صحافی غرض ایک الواعظ اور مولانا کو بھی کمپیوٹر کی مہارت حاصل کرلینی چاہئے کیونکہ آج روایتی وعظ و نصیحت کا شاید اتنا اثر نہ ہو جتنا کمپیوٹر کے ذریعے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کا ہوتا ہے۔ یہ ہمارے لیے تب ممکن ہے جب ہم ہمعصر دُنیا کی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
احمد سلیم سلیمیؔ صاحب کی کتاب بھی انہی مسائل سے دوچار نظر آئی۔ حالانکہ سلیمیؔ صاحب کو اُردو زبان پر جو عبور حاصل ہے اس قبیل کے لوگ گلگت بلتستان میں اُنگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ہاں گلابی اُردو بولنے اور لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ لیکن سلیمیؔ صاحب صاف و شستہ اور ادبی اُردو بولتے اور لکھتے ہیں۔ اس بات کا اعتراف سلیمیؔ صاحب کی زیرتبصرہ کتاب پر تعارف لکھنے والوں نے بھی برملا کیا ہے۔ لیکن اس کتاب کی کمپوزنگ میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں مزہ کِرکِرا کر دیتی ہیں۔ یہ وہی ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہے‘‘ والا معاملہ ہے یا مصنّف نے جن سے تعارف لکھوائے ہیں، اُن کی جلدبازی یا کچھ اور کہ کتاب کے شروع کے تعارفی صفحات میں ہی ’’شدہ شدہ‘‘ کو ’’شدھ شدھ‘‘ اور ذرا آگے ’’تحریر‘‘ کو مذکر استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہم جس دَور میں زندگی گزار رہے ہیں اس کو نسوانیت کا دَور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ہر فرد طبقۂ اناث کی نقل کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ نوجوان لڑکے لمبے لمبے بال چھوڑے، کانوں میں بالیاں اور بازوں میں چوڑیاں پہنے اور داڑھی تو خیر مونچھ تک صاف کرکے آدھی عورت بلکہ مکمل عورت بننے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں وہاں تعارف لکھنے والے نے ’’تحریر‘‘ کو مذکر استعمال کرکے اُردو ادبیات میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔

میں نے کتاب شروع سے آخر تک دو بار پڑھی۔ پہلی بار سرسری نگاہ سے اور ایک عام قاری کی حیثیت سے جبکہ دوسری بار بحیثیت ایک ایڈیٹر تنقیدی نظر سے۔ سبز روشنائی سے میں نے شروع سے آخر تک کتاب میں موجود پروف ریڈنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اگر سلیمیؔ صاحب مجھے زیر نظر کتاب کی نئی کاپی عنایت کر دے تو میں ان کو یہ تصحیح شدہ کاپی دوں گا تاکہ اشاعت دوم میں ان غلطیوں کو دُور کیا جاسکے۔ کیونکہ لفظوں اور نقطوں کی ہیر پھیر کبھی کبھی بہت مہنگی پڑتی ہے۔

بقول شاعر ؂
ہم دُعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
یہ کتاب حلقہ اربابِ ذوق گلگت کی پیشکش ہے۔ حلقہ اربابِ ذوق گلگت و بلتستان میں نہ صرف ادب کے فروغ میں برسرپیکار ہے بلکہ قیام امن کے لیے بھی اس حلقے کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔ اس کے روحِ رواں میرے انتہائی قابلِ قدر دوست جمشید خان دُکھیؔ صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہی ادب و شاعری ہے۔ اب آپ کی سرپرستی میں اس حلقے کی جانب سے کتابوں کی پیشکش ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ان کی خدمات کو تاریخ کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ زیرنظر کتاب جو القریش پبلشر لاہور نے چھاپی ہے کی سرورق دیدہ زیب ہے، جبکہ اندرونی صفحات میں سالِ اشاعت نہیں لکھی گئی ہے آج کی تحقیقی دُنیا میں اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے جب کسی کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے تو سالِ اشاعت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ آج سے چند سالوں کے بعد یہ نہیں معلوم ہوسکے گا کہ سلیمیؔ صاحب کی ’’حدیث دِل‘‘ کب شائع ہوئی تھی۔

کتاب اپنے مواد کے لحاظ سے کسی بھی طرح کم اہمیت نہیں رکھتی۔ اگر نیشنل لائبریری اسلام آباد سے اس کے لیے ISBN نمبر لیا جاتا تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی۔

یہ کتاب چونکہ سلیمیؔ صاحب کے ادبی و علمی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے اکثر تحریریں ’’فکرونظر‘‘ میگزین میں بھی تواتر سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ زیادہ بہتر ہوتا اگر ہر تحریر کے آخر میں مذکورہ اخبار یا میگزین کا نام اور تاریخ اشاعت بھی دی جاتی۔ اس سے ریسرچ اسکالروں کو تحقیق میں آسانی پیدا ہوجاتی۔ اُمید کی جاتی ہے کہ اشاعت دوم میں اس جانب خصوصی توجہ دی جائے گی۔ لیکن ان سب کے باوجود سلیمیؔ صاحب کی ’’حدیث دِل‘‘ اہلِ دِل کی ترجمانی کا حق ادا کر رہی ہے۔ اندازِ بیاں متاثرکن ہے۔ چاندنی راتوں میں چاند چہروں اور ستارہ آنکھوں کا تذکرہ سیما غزل کے اس شعر کے بمصداق کھوئے ہوؤں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ سیما غزل کہتی ہیں ؂
مہکی سی چاندنی تھی ستارے تھے اور ہم
برسوں گزر گئے ہیں وہی رات سوچتے
میں نے اپنے اکثر ادیب دوستوں کی کتابوں کا دیباچہ لکھا ہے اس دوران میں نے بسیار کوشش کے باوجود اپنے آپ کو صرف تحسین و تعریف تک ہی محدود رکھ سکا ہے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ تنقید کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں وضاحت کی تھی کہ میرے اور سلیمیؔ صاحب کے درمیان صرف دوستی کانہیں بلکہ بھائی بندی کا رشتہ ہے۔ اس لیے میں نے کچھ چیزوں پر کھل کر بات کی ہے۔ مجھے اُمید ہے سلیمیؔ صاحب چونکہ ادب اور ادب عالیہ کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں وہ مجھے درگزر فرمائیں گے۔

میری دُعا ہے کہ خداوند علم و ادب سلیمیؔ صاحب کے قلم کو اور روانی دے اور ان کی فکرانگیز تحریریں مدام شائع ہوتی رہیں۔ آمین!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments