گلگت بلتستان میں آئین ساز اسمبلی قائم کیا جائے، سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے، کے این ایم کا مطالبہ

گلگت بلتستان میں آئین ساز اسمبلی قائم کیا جائے، سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے، کے این ایم کا مطالبہ

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (فرمان کریم) قراقرم نیشنل موومنٹ گلگت بلتستان نے مسلہ کشمیر کے حل ہونے تک گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ، آزاد خود مختار آئین ساز اسمبلی کے قیام ، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی، سکردوکارگل روڈ، استور کشمیر اور وسطی ایشیاء ریاستوں تک کے تاریخی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کردیا۔

اتوار کے روز گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قراقرم نیشنل موومنٹ کے چیئرمین محمد جاوید، وائس چیئرمین امجد چنگیزی ، عبدالقیوم ، اکبر حسین سمیت دیگر رہنماوں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق متنازعہ ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ یہاں کے عوام کو اعتماد میں لے بغیر غیر قانونی ہے۔ اور یہاں کے عوام کو اعتماد میں لا کر معاشی پالیسی واضع کرکے کام شروع کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین کے این ایم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے جس پاکستان کسی صورت اپنے آئین کا حصہ نہیں بنا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جبرا اور ظلم اور استحصال کے ذریعے عوام کی ملکیتی زمینوں پر زبردستی خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ بین الااقومی قانون کے خلاف ہے جب پورا خطہ ہی متنازعہ ہے تو یہاں کی زمینوں پر سرکار کیسے قابض ہو سکتی ہے۔ خالصہ سرکار نام کا قانون پاکستان میں وجود ہی نہیں ہے تو اس کا اطلاق کیسے ہو سکتی ہے ۔ عوام کی ملکیتی زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ ریاستی دہشت گردی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے غیر قانونی ٹیکسز کا نفاذ خطے کے مظلوم و محکوم عوام کے حقو ق پر ڈاکہ ہے وہاں بین الااقومی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے غیر مقامی لوگوں کو دیئے جانے والے لیز کی بھی بھر پور مذامت کرتے ہوئے کہا کہ اس لیز کو فوری طور پر ختم کر کے مقامی لوگوں کو لیز دینے کا مطالبہ کیا۔پولیس کی جانب سے داریل سے تعلق رکھنے والے 8سالہ زوہیب اللہ پر انسداد دہشت گردی کے ذریعے مقدمہ عائد کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس سے اندھیری نگر ی اور بنیادی حقوق کی خلاف وزری قرار دیا۔ قوم پرست اور ترقی پسند رہنماوں پر عائد مقدمات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور پابند سلاسل کی شدید مذمت کرتے ہوئے جیل میں قید سیاسی رہنما افتخار حسین ، بابا جان اور طاہر علی پر مقدمات ختم کرکے ان کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے انہیں فوری مستفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا اور علاقے میں تعلیم وصحت جیسی بینادی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔