المصطفی پبلک سکول چھورکاہ نے فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا، طلبہ اور والدین پریشان

المصطفی پبلک سکول چھورکاہ نے فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا، طلبہ اور والدین پریشان

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(نامہ نگار) المصطفیٰ پبلک سکول چھورکاہ میں فیسوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث والدین بچوں کو سکول سے نکالنے پر مجبور ہوگئے ۔ درجن سے زائد طلباء کو سکول سے نکال لیا ۔تفصیلات کے مطابق المصطفیٰ پبلک سکول کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی جانب سے کی جانے والے فیصلوں کے باعث المصطفیٰ پبلک سکول چھورکاہ اجڑنے لگا ہے کیونکہ بورڈ آف ڈائر یکٹر کی جانب سے کئے گئے فیصلے کے مطابق فیسوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن تعلیمی معیار بہتر کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ساتھ ساتھ مناسب تنخواہ نہ ہونے کی وجہ سے سینئر اساتذہ نے بھی سکول کو خیر باد کہنے پر مجبور ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے سے قبل المصطفیٰ پبلک سکول کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ایک اجلاس ہوا جس میں سکولوں کی کارکردگی کے علاوہ فیسوں میں اضافے پر بھی غور و خوص کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ کے تنخواہیں بڑھانے کی خاطر فیسوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے اجلاس میں فیسوں میں اضافے کا فیصلہ ہوا تھا تاہم حتمی فیصلہ سکولوں کے پرنسپل کے اجلاس میں کیا گیا ہے ۔

پرنسپل کے اجلاس میں بیٹھے ہوئے ایک اہم ذریعے نے بتایا کہ اجلاس میں اساتذہ نے ڈائریکٹر سے ان کی تنخواہوں میں اضافے کی درخواست کی جس پر ڈائریکٹر نے کہا کہ جب تک فیسوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہم تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا جس پر اساتذہ نے اس بات کی حامی بھر لی کہ وہ فیسوں میں اضافہ کریں گے جس کے بعد فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن تعلیمی معیار پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے اس وجہ سے چھورکاہ سکول سے والدین سے اپنے بچوں کو نکلنا شروع کردیا ہے اس وقت تک ایک درجن سے زائد طلباء کو سکول سے نکال لیا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے اگر فیسوں میں کئے گئے اضافے کو فی الفور واپس نہ لیا گیا تو سکول کو تالہ لگانا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال 20سے 30روپے اضافہ کیا جاتا تھا مگر اس سال 70سے 120روپے تک کا اضافہ کردیا ہے ۔ جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو نکالنا شروع کردیا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔