موسمی سبزیات کے معیار اور پیداوار میں اضافہ کیسے کیا جائے؟ ہنزہ میں محکمہ زراعت اور یو ایس ایڈ کے زہر اہتمام تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

موسمی سبزیات کے معیار اور پیداوار میں اضافہ کیسے کیا جائے؟ ہنزہ میں محکمہ زراعت اور یو ایس ایڈ کے زہر اہتمام تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین )زرارعت کے شعبے کو آگے بڑھنے اور اس سے گھریلو اخراجات کو پورا کرنے میں نہ صرف ہنزہ نگر بلکہ گلگت بلتستان میں خواتین کا اہم کردار ہے انتہائی کم زمین ہونے کے باوجود ہنزہ کے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھتی باڑی میں شامل ہو کر زیادہ سے زیادہ فائدہ لیتے ہے جس کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہے جبکہ محکمہ زراعت ہنزہ نگر اس شعبے میں ہنزہ نگر کے مختلف علاقوں میں زرعت سے متعلق زمینداروں کے لئے مختلف قسیم کی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے عوام میں شعور اجاگر لیا ہے جس کا سہرا ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت ہنزہ کو جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار (USAID)اور محکمہ زراعت ہنزہ نگر کے زیر اہتمام غیر موسمی سبزیات کے حوالے سے رکھی گئی تین روزہ خواتین ورکشاب سے ڈپٹی کمشنر ہنزہ بر ہان آفندی نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے اگر زمیندار اپنی زمینداری بلخصوص سبزیات پر دلچسپی کے ساتھ کام کرے تو آئندہ انے والے نسلوں کے لئے بھی ایک فائدہ مند کام ہے اور انسان کے صحت کے لئے بھی فائدہ ہے۔ہم یو ایس ایڈ (USAID)کے ان مختلف اداروں کا بھی شکر گزار ہے جو کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں نہ صرف زراعت بلکہ ، تعلیم ، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں عوام کو تربیت دیتے ہیں بلکہ ان کی مالی مدد بھی کرتے ہیں۔ دی سی ہنزہ نے اختتامی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے مزید کہا کہ تین روزہ اس تربیتی ورکشاب خصوصاً غیر موسمی سبزیات کی صحت مند پینری اُ گانے اور لگانے کی تربیت حاصل کر چکے ہے انشاللہ ہمیں امید ہے کہ اپنے اپنی علاقوں میں جاکر تنظمات اور ایس ایل اوز کے تعاون سے مزید خواتین کو سیکھائے گے جس سے وہ بھی زراعت کے شعبے سے مزید فائدہ لینگے۔انہوں نے کہا کہ سبزیاں جو کہ ہر کوئی انسان اس کو استعمال کرتے ہے چاہیے وہ بازار سے لائے یا اپنے زمینوں میں ہی پیدا کرے ہر موسم میں سبزیاں انسان کی اولین ضروریات میں شامل ہو تا ہے جس کے لئے خواتین اس شعبے کو اپنے علاقے میں مزید پیدا کر ے اس کے لئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت زمیندار کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر ئینگے۔

تربیتی ورکشاب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت ہنزہ نگر راجہ مظر ولی نے کہا کہ محکمہ زراعت ہنزہ نگر نے زراعت کے شعبے میں بے پناہ کام شروع کیا ہے جس سے علاقے کے عوام کو انتہائی فائدہ ہوگا۔ محکمہ زراعت ہنزہ نگر نے زراعت کے شعبے میں اور خصوصاً سبزیاں، آلو گندم کی اچھی بیج دینگے کے علاوہ سینکڑوں چیری اور خوبانی کے باغات کی متعارف کر ویا ہے اور آئندہ دو سے تین سالوں میں زمیندار اس سے فائدہ لینگے جبکہ محکمہ زراعت ہنزہ نگر نے کئی کنال ارضی خرید کرر پھلدار درخت، اچھے بیج اور مختلف قسیم کی سبزیوں کی پنیری اُگانے کے لئے زمین لی ہے ہنزہ نگر کے98فیصد عوام زراعت کے ساتھ وابسطہ ہے انشاللہ بہت جلد اپنے گھر کے دہلز پر اچھے درخت، بیج اور دیگر اہم زرعی اجناس حاصل کرینگے جس سے بعد عوام کو بہت فائدہ ملے گا۔

ورکشاب میں USAIDکے زرعی ماہرین ہما عباس ریسرچ ایسوسسیٹ ، تبسم زمان ریسرچ ایسوسسیٹ ، شیراز احمد ایکسپرٹ ، عالمی ادارہ برائے سبزیات اور ایمن حنا ، محکمہ زراعت ہنزہ نگر کے افسر جاوید نے شرکاء ورکشاب کا مقصد سبزیات کی صحت مند پنیری کی تیاری کمیوسٹ( پتوں کی کھاد ) بیج تیار کرنا، مصنوعی طریقے سے نامیاتی ادویات بنانا ، ٹماٹر اور مکس سبزیوں کا اچار بنانے پر لکچر دیا ۔شرکاء ورکشاب نے تین روزہ تربیتی ورکشاب کے انعقاد پر محکمہ زراعت اور USAIDکے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم انشاللہ ہم نے جو بھی اس تین روزہ ورکشاب میں سیکھا ہم اپنے اپنے علاقوں میں جاکر دیگر خواتین کو بھی غیر موسمی سبزیات کے بارے میں آگا کرینگے اور سبزیات اُگانے کے طریقہ کار سکھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ورکشاب کا انعقاد وقتا فوقتا ضرورت ہے جس کی وجہ سے زرعی شعبے میں مرید آگاہی حاصل ہو اس سے قبل ہم صرف گرمی کے موسم کا انتظار کرتے تھے اب ہم سردی کے موسم میں بھی زراعت کے سے فائدہ لینے کے طریقے اپنا کر مرید استفادہ حاسل کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔