جس سسٹم کو اکبر تابان “ڈمی” کہتا ہے، اسی کے تحت وہ سینئر وزیر بنا ہے، اخلاقی جرات ہے تو استعفی دے، سید مہدی شاہ سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان

جس سسٹم کو اکبر تابان “ڈمی” کہتا ہے، اسی کے تحت وہ سینئر وزیر بنا ہے، اخلاقی جرات ہے تو استعفی دے، سید مہدی شاہ سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) پاکستان پیپلزپارٹی سنٹرل ایگزیٹو کمیٹی کے ممبر اور مرکزی رہنماء سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ آئینی حقوق کا جھانسہ دے کر چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے ن لیگ وزراء زہنی ہتوازن کھو چکے ہیں وہ سوچ سمجھ کر بیانات دیں اکبر تابان موجودہ سسٹم کو ڈمی سمجھتے ہیں تو استفیٰ دے کر گھر بیٹھ جائیں اکبر تابان خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آجائے جس سسٹم کو وہ ڈمی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں اُسی سسٹم کی بدولت انہیں وزرات ملی ہے اکبر تابان کے نزدیک اگر پیپلزپارٹی کا دیا ہوا نظا م ڈمی ہے تو استفیٰ دے کر گھر بیٹھ جائیں اکبر تابان کے اندر اگر اخلاقی جرات ہے تو موجودہ سسٹم سے استعفی دے کر مکمل آئینی صوبہ بننے کے بعد عہدے کا حلف لیں ، قول و فعل میں تضاد ن لیگ کا پرانا شیوہ رہا ہے گورننس آڈر کو ڈمی کہنے والے خوابوں کی جنت میں رہتے ہیں انہیں کسی چیز کی سمجھ نہیں موجودہ سسٹم ڈمی نہیں بلکہ ن لیگ کی صوبائی حکومت ڈمی بنی ہوئی ہے ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں حفیظ الرحمن اینڈ کمپنی ہمارے دور کے منصوبوں پر تختی لگا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں گلگت تا سکردو پی آئی اے کی پروازیں سپریم اپیلٹ کورٹ کی مہربانی ہے حفیظ الرحمن پروازوں کا افتتاح ایسے کر رہے تھے جیسے یہ کام انہوں نے کرایا ہو ، ن لیگ کی طرز حکمرانی پر شرم آتی ہے انہوں نے مزید کہا احتجاج کرنا عوام کا حق ہے آل پارٹیز ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا ن لیگ نے آمرانہ رویہ اپناتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی پورے پاکستان میں چندہ لینے پر پابندی عائد ہے لیکن سیف الرحمن کی برسی کے لیے صوبائی حکومت کی سرپرستی میں چندے وصول کیے جا رہے ہیں چندہ وصول کرنا غیر قانونی ہے غیر قانونی طور پر چندہ وصول کرنے پر ن لیگ کے وزیر اعلیٰ سمیت تمام وزراء پر ایف آئی آر ہونی چاہیے ،اگر ن لیگوں کو سیف الرحمن سے اتنی محبت ہوتی تو حکومت میں آنے سے قبل شایان شا ن طریقے سے ان کی برسی منائی جاتی ان کی برسی منانے کے لیے سرکاری وسائل کا بے درخ استعمال کیا جا رہا ہے ، ن لیگ والے خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ ہے ہیں انہوں نے قومی خزانے کو اپنا پرسنل اکاونٹ سمجھ رکھا ہے نواز شریف سے لفٹ نہ ملنے پر ن لیگی وزراء عضہ عوام پر نکال رہے ہیں اور حیلے بہانوں سے انہیں بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں اکبر تابان جون میں گلگت سکردو روڈ کا ٹینڈر جاری کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ وزراء نے تو ٹینڈر نوٹس تک اس سے قبل عوام کو دیکھا دیے تھے انہوں تو یہ تک معلوم نہیں کہ یہ ٹینڈر کون سے ادارہ جاری کرتا ہے جلسہ کرنے پر ایکشن کمیٹی کے خلاف پرچہ کٹ سکتا ہے تو پھر حفیظ الرحمن اور وزراء کے خلا ف بھی جلسہ کرنے پر پرچہ ہونا چاہیے ن لیگ نے من مانی کی حد کر دی ہے ن لیگ والے جنگل کا قانون لاگو کرنا چاہتے ہیں ، حفیظ الرحمن اور ان کے وزراء جنگل کے بادشاہ ہیں ان کی مرضی ہے کہ وہ انڈا دے یا بچہ دے ،ن لیگ نے عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے کے تمام ریکارڈ توڈ دیے ہیں عوام پر ن لیگ کی اصلیت کھل چکی ہے عوام اب ن لیگ کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے پیپلزپارٹی نے اپنے دور اقتدا رمیں گورننس آڈر کے زریعے عوام کو بااختیار بنایا ، بے شمار ملازمتیں دیں اداروں کو مستحکم کر دیا لیکن ن لیگ نے اقتدار میں آتے ہی عوا م کی مشکلات میں دوگنا اضافہ کر دیا ،

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔