ضلع دیامر میں قیامت خیز بارشوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی، شاہراہ قراقرم تاحال بند

ضلع دیامر میں قیامت خیز بارشوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی، شاہراہ قراقرم تاحال بند

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (شہاب الدین غوری) ضلع دیامر میں قیامت خیز بارشوں کا سلسلہ جاری، چلاس کے علاقے کھینر میں  مکان کی چھت گرنے سے ماں دو بچوں سمیت جان کی بازی ہار گئی، دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ مکان کی چھت گرنےکے یہ افسوسناک واقعات کھینر بیالی میں پیش آیا۔ جہاں پر لال شہباز نامی شخص کے مکان کی چھت زمین بوس ہو گئی۔ اس افسوسناک واقعے میں لال شہباز کی بیوی اور ان کے دو بچے جان بحق ہو گئے، جبکہ گھر کے دو افراد شدید زخمی ہیں۔ دیامر میں حالیہ بارشوں سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہو گئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں چلاس جچن میں چار، تانگیر لرک میں پانچ، تھرلی میں ایک، داریل میں ایک اور داریل کا ایک رہائشی ڈوڈشال میں پتھر لگنے سے اور کھینر میں تین افراد جان بحق ہوے ہیں۔ بارشوں سے جہاں قیمتی انسانی جانوں کو نقصان پہنچا ہے وہاں انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چلاس شہر سمیت نالہ جات میں سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔ ضلع کے زیادہ تر نالہ جات کا رابطہ شہر کے ساتھ منقطع ہے۔ شاہراہ قراقرم جگہ جگہ زمینی تودے گرنے سے بند ہے۔ ضلع انتظامیہ نے سڑکوں کی بحالی کے لئے اپنے وسائل کے مطابق اقدامات شروع کئے یہں، جبکہ ایف ڈبلیو او نے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کی بندش سے سینکڑوں مسافر دو روز سے پھنسے ہوے ہیں۔ اور پیسے ختم ہونے سے بے حال ہورہےہیں۔ ہوٹل مالکان نے قیمتیں بڑھا دی ہیں، لیکن ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ مسافر، جن میں بڑی تعداد طالبعلوں کی ہے، نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہ قراقرم کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ ہمارے سفری اخراجات ختم ہورہے ہیں اور ہمیں فوری طور پر اپنی اپنی منزلوں تک پہنچنا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments