سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکامی کے خلاف عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکامی کے خلاف عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( پ۔ر) عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب میں حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں حکومت کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ جس میں حکمرانوں کی طرف سے اب تک متاثرین کے بحالی اور ریسکیو کے کام کو ناکافی قرار دیکر مطالبہ کیاگیا ہے کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرکے متاثرین کی مدد کیا جائے۔ عوامی ورکرز پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ ایک ایسے صورت حال میں جب گلگت بلتستان تباہی کے دہانے پہ تھا تب وزیر اعلی اور گورنر کا اسلام آباد میں ڈیرا ڈالنا حکومت کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔متاثرین کی مدد کرنے اور ریلیف کے کاموں کی نگرانی کرنے کے بجائے وزیر اعلی کونسل کے انتخابات میں لابنگ کیلئے اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ہے۔گلگت بلتستان میں آٹا ، پٹرول اور دیگر اشائے خوردونوش نایاب ہوگیا۔ایک ہفتہ کیلئے بھی حکومت کے پاس سٹاک موجود نہیں پھر بھی حفیظ سرکار گڈگو رنئس کی دعوا کررہی ہے۔الیکشن کے دوران عوام سے بلندبانگ دعوے کرکے ووٹ لینے والے سیاسی نمائندے اپنے حلقوں میں بیٹھ کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بجائے عوام کو بیروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑا ہو اہے۔بیرونی سیاحوں اور اپنے وزیر کو ہیلی سروس سے گلگت پہنچا رہے ہیں مگر چپورسن،مسگر،شمشال،درکوت،پھنڈر،امت،داریل ،نگر دیگر دورافتادہ علاقوں میں آج ایک ہفتہ گزرجانے کے بعد بھی کوئی امدادی کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔عوام اپنی مدد آپ کے تحت راستوں کو صاف کررہے ہیں جبکہ این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کئی نظر نہیں آرہے ہیں۔نگر کے عوام نے اپنی مدد اپ کے تحت سڑکوں کو صاف کئے مگر پی ڈبلیو ڈی ان کے بل بنا کے قومی خزانے کو چونا لگا رہا ہے۔۔اتوار کے روز گلگت پریس کلب کے باہر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عابد تاشی نے کہا کہ بڑے دعوے کرنے والے حکمران ایک ہفتہ کے قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اخباری بیانات میں سب کچھ ٹھیک ہے کے رٹ لگارہے ہیں مگر اصل صورت حال اس کے بالکل مختلف ہے۔دوردراز علاقوں کے ہسپتالوں میں نہ ادویات میسر ہیں نہ گندم کے ڈپو میں گندم کے سٹاک موجود ہیں۔اشیائے خوردونوش کی عدم دستیابی اور بارشوں سے غریبوں کے روزمرہ کی زندگی مکمل متاثرہوئی ہے۔نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے رہنما افاق مارکسسٹ نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس اپنے پروٹوکول کیلئے فیول دستیاب ہے مگر گلگت بلتستان کی واحد جامعہ کو فیول نہ ہونے کی وجہ سے دو دن سے بند کیاگیا ہے یہ حکمرانوں کی تعلیم دشمن پالیسوں کی عکاسی کرتا ہے۔اسلام آباد کے حکمرانوں کی شروع سے یہ پالیسی رہی ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا جائے۔ال بلتستان موومنٹ گلگت کے چیف ایڈوائزر و عوامی ورکرز پارٹی کے کارکن نسیم بلتستانی نے کہا کہ بلتستان میں اشیائے خوردونوش کا بحران پیدا ہوا ہے مگر ن لیگ کے نام نہاد حکمران کونسل کے الیکشن کے گٹھ جوڈ میں لگے ہوئے ہیں جس کی ہم بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت وقت کو متنبہ کرتے ہیں کہ آب بھی ہوش میں آئے اور غریب عوام کے مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرئے ورنہ عوامی طاقت ان کو راہ راست پہ لائے گی۔عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عنایت ابدالی نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹرمینجمٹ اتھارٹی اور ایف۔ڈا بلیو۔او کے ذمہ داران بارشوں کے دوران غائب تھے۔ایف ڈبیلو او کے افسر مس کے سامنے بند روڑ کو دنیور کے عوام نے کھولا۔ہیلی سروس اپنے وزیر اور سیاحوں کو رسیکو کرنے کے لئے استعمال کررہے تھے۔گاہکوچ میں سیلاب سے جاں بحق ایک شخص کوروڈ بند ہونے کی وجہ سے اس جگہ پر ہی دفنایا گیا۔ہیلی سروس عوام کیلئے شروع کرنا چاہیے تھے مگر اس کے الٹ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ گزرجانے کے بعد بھی پھنڈر کے روڈ پہ کام شروع نہیں ہوسکا۔حفیظ سرکار مہدی شاہ کے حالات کو یاد کرئے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرئے ورنہ پانچ سال بعد عوام اس کے حشر بھی مہدی شاہ جیسا کرینگے۔جگلوٹ ڈپو میں موجود فیول اور گندم آشرافیہ میں تقسیم ہوگیا مگر عام عوام فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔گلگت شہر میں ابھی تک متاثرین کے بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے دیگر علاقوں کے لوگوں کا خدا ہی حافظ ہے۔دور دراز علاقوں میں فوری طور پر امدادی کاموں کا اغاز نہیں کیا گیا تو حالات کے ذمہ دار ی حکومت پر عائد ہوگی۔عوامی ورکرز پارٹی بارشوں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے پندرہ،پندرہ لاکھ اور زخمیوں کے مفت اعلاج اور تباہ گھروں کے تعمیر کیلئے دس دس لاکھ روپے امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔