گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل سے ملاقات، ایجوکیشن امور پر تبادلہ خیال

گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل سے ملاقات، ایجوکیشن امور پر تبادلہ خیال

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 گلگت(خصوصی رپورٹ ) گلگت بلتستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی کی کابینہ کی ایک اہم میٹنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل محترمہ نشاط ریاض سے سرینہ ہوٹل میں منعقدہوئی۔ دوگھنٹوں پر محیط اس غیرمعمولی میٹنگ میں گلگت بلتستان پروفیسرایسوسی ایشن کی کابینہ کے اراکین نے ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل کو گلگت بلتستان کی تعلیمی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عرفان صدیقی نے گلگت بلتستان کے کالجز کی تاریخ، خدمات اور مسائل اور وسائل سے انہیں مطلع کیا۔ ایسوسی کی کابینہ نے متفقہ طور پر انہیں آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان کے پروفیسرزاور لیکچرار انہیں ملنے والے مراعات اورحقوق سے مطمئن ہیں لیکن ایسوسی ایشن تعلیمی میدان میں انقلابی اقدامات چاہتی ہے۔ ایجوکیشن ریفامز اور کوالٹی ایجوکیشن پروفیسر ایسوسی ایشن کی مرکزی ترجیحات میں شامل ہیں۔گلگت بلتستان کے پروفیسراور لیکچرار حکومت گلگت بلتستان اور برٹش کونسل کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان کے تمام کالجز میں تعلیم و تربیت اور کونسلنگ کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔جس کے لیے انہیں مواقع فراہم کیے جائے۔ اب تک پروفیسروں اور لیکچراروں کو اس حوالے سے محروم رکھا گیا ہے ان کی ٹریننگ نہیں ہوئی ہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے مواقع نہیں دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کی کالجز میں تعلیمی انقلاب نہیں آسکا ہے۔ اور پروفیسر کوئی مرکزی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر راحت شاہ نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن کی اولین ترجیحات میں یہ بھی شامل ہے کہ طلبہ و طالبات میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شعور و آگاہی پیدا کی جائے ، جس کے لیے اگر برٹش کونسل طلبہ و طالبات کی کونسلنگ، سول سوسائٹی کے لیے کارآمد افراد اور آنے والے دنوں میں گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور تعلیمی انقلاب کے لیے طلبہ و طالبات کو ترجیحی بنیادوں پر ورکشاپس اور ٹریننگ کا آغاز کریں تو مناسب ہے۔ گلگت بلتستان پروفیسرا یسوسی ایشن کوئی پریشر گروپ نہیں بلکہ پڑھے لکھے سنجیدہ لوگوں کا طبقہ ہے جو حکومت اور دیگر تعلیمی اداروں کی طرف سے اپنائی جانے والی مثبت تعلیمی پالیسوں کی حمایت کرتا ہے اور ان کادست و بازو بنتا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیکٹرین تعلیمی ادارے قائم ہورہے ہیں جن کے مستقبل میں خطرناک اثرات نکلیں گے ۔ ہم سب کو مل کر بہتری اور تبدیلی کے لیے کام کرنا ہوگا۔سیکرٹری اطلاعات امیرجان حقانی ؔ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پروفیسر ایسوسی برٹش کونسل سے توقع رکھتی ہے کہ و ہ ایسوسی ایشن کا ترجمان میگزین ، آن لائن ویب سائٹ اور گلگت بلتستان کی تین بڑی کالجز سے ماہنامہ میگزین نکالنے میں معاونت کریں۔ تاکہ کمیونیکشن گیپ میں کمی ہو، طلبہ وطالبات اور پروفیسروں میں لکھنے لکھانے اور تحقیق و تفتیش کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔ پروفیسر ایسوسی ایشن کی کابینہ کے اراکین میںیونٹ پریذیڈنٹ ثریا نثار، وائس پریذیڈنٹ رخسانہ عامر ، جوائنٹ سیکرٹری شیر بانونے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ ثریا نثار نے ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایسوسی ایشن کے اراکین کو وقت دیا اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹش کونسل محترم نشاط ریاض صاحب نے پروفیسرایسوسی ایشن کے کابینہ کی گفتگو بہت غور سے سنا اورخوب سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پڑھے لکھے لوگوں سے ملکر اور انکی ترجیحات سن کی بہت خوشی ہوئی ہیں۔ انہوں نے پروفیسرا یسوسی ایشن کی کابینہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برٹش کونسل پاکستان میں تعلیمی اصلاحات پر کافی عرصے سے کام کررہا ہے۔ پنجاب ، بلوچستان اور کے پی کے میں برٹش کونسل نے تعلیمی سیکٹر میں بہت زیادہ ورک کیا ہے۔ اب گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ملک کر یہاں بھی تعلیمی و تربیتی اصلاحات کے لیے کام شروع کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے میری وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔گلگت بلتستان میں تعلیمی اصلاحات کیسے لائی جاسکتی ہیں اس حوالے سے آپ سے ملاقات کرکے آپ کے خیالات اور پروفیسروں کی تعلیمی حوالے سے ریفامز کا سننا ضروری تھا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پروفیسر برادری کی طرف سے تعلیمی حوالے سے جو ریفامز اور مثبت تبدیلی کا وژن ہے اس کو پالیسی کا شکل دیا جائے تاکہ مستقبل قریب میں یہاں تعلیمی انقلاب برپا ہوسکے۔ نشاط ریاض نے مزید کہا کہ برٹش کونسل کا ایجوکیشن سیکشن گلگت بلتستان پروفیسرا یسوسی ایشن کا رابطہ یوکے کی مختلف پروفیسرز اینڈ کالجز ایجوکیشن کے ساتھ کروائے گا، جو مختلف سمتوں میں کام کررہی ہیں۔ گلگت میں ایک ڈیجیٹل لائیبریری قائم کی جارہی ہے جس میں پروفیسر ایسوسی ایشن کے ممبران اور چند بڑے کالجز کو فری میں ممبرشپ دی جائے گی۔ میگزین اور ویب سائٹ بنانے میں میں برٹش کونسل بھرپور معاونت کریگی۔ آن لائن میگزینوں اور ویب سائٹس کے ساتھ پروفیسر ایسوسی ایشن کا تعلق قائم کیا جائے گا اور انہیں جدید خطوط پر تعلیمی و تحقیقی امور کی تنشیر و تبلیغ میں ٹریننگ بھی دے گا۔طلبہ وطالبات کے لیے بہترین تعلیمی و شعوری سیشن کا بندوبست بھی کیا جاسکتاہے۔طلبہ و طالبات اور پروفیسروں کا دنیا کی مختلف رفاہی و تعلیمی ایسوسی ایشن کے ساتھ روابط بھی قائم کروایا جائے گا۔اور تعلیمی و مطالعاتی دورے بھی کروائے جائیں گے۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن برٹشل کونسل نے یہ بھی کہا کہ آئندہ میں اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پروفیسر ایسوسی ایشن کی معاونت و مشاورت سے محکمہ ایجوکیشن کے اعلی عہدہ داران کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کے لیے کوششیں کرونگی۔ انشاء اللہ ہم بہت جلد مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔مستقل قریب میں برٹش کونسل اور حکومت گلگت بلتستان کے تعلیمی معاہدے ہونگے جن کی کامیابی کے لیے پروفیسر ایسوسی ایشن کا تعاون اور ٹیکنیکل امور میں مدد بہت زیادہ ضروری ہے۔پالیسی سازی میں پروفیسروں کو ضرور ساتھ لیا جائے گا۔ ایک ایجوکیشنسٹ ہی تعلیمی و نصابی امور کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔جس کے لیے اپ کی خدمات لینی ضروری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔