تحصیل اشکومن میں ایمت تا بورتھ روڑ دس دنوں سے بند، غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں، انتظامیہ، حکومت اور این جی اوز بے خبر

تحصیل اشکومن میں ایمت تا بورتھ روڑ دس دنوں سے بند، غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں، انتظامیہ، حکومت اور این جی اوز بے خبر

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چٹورکھنڈ(کریم رانجھا) ؔ ایمت تا بورتھ روڈ دس دنوں سے بلاک ،بجلی نہ ہونے سے بالائی علاقوں کے عوام آٹھ گھنٹوں کا پیدل راستہ عبور کرکے دس کلو گندم پسائی کے لئے ایمت آنے پر مجبور ،گزشتہ دس روز سے سرکاری اداروں سمیت کسی این جی او نے غریب عوام کا حال پوچھنے کی زحمت گوارہ نہ کی ،فاقوں سے ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی،ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں کی شدید بارشوں کے بعد سے بالائی اشکومن تک رسائی تاحال ناممکن ہے۔گشگش اور ڈوک کے مقام پر روڈبرباد ہوچکا ہے اور بارڈر ایریا کے علاقے بلہنز،بدصوات ،مترم دان اور بورتھ سمیت درجنوں علاقے اب تک مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔مذکورہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پائی جاتی ہے ،دکانوں میں بسکٹ تک دستیاب نہیں۔علاقے کے لوگ بجلی کی عدم دستیابی کی سبب دس کلو گندم پسائی کے لئے آٹھ گھنٹوں کا پیدل راستہ عبور کر کے ایمت تک رسائی حاصل کرتے ہیں ،شدید برفباری کی وجہ سے بورتھ سے آگے خورابورتھ تک کے علاقے سے کسی بھی قسم کا رابطہ ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطا بق ایمت ڈپو میں دو سو بوری گندم موجود ہے لیکن عوام کو فراہم نہیں کیا جا رہا،اشکومن وخی ویلفئیر آرگنائزیشن کے صدر جانان نے چٹورکھنڈ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے ایمت سے آگے وخی پٹی کا تا حال کوئی پرسان حال نہیں سردی کے باعث بچے اور خواتین بیماریوں کا شکار ہیں اور حکومت کی کارکردگی صفر ہے،اگر ان علاقوں کے عوام کو دس،دس کلو گندم فی گھرانہ بھی فراہم کیا جائے تو گزارہ ہوسکتا ہے لیکن گندم فراہم نہیں کیا جارہا،عوام پتھر کھانے پر مجبور ہیں۔برفباری کے باعث رہائشی مکانات اور درخت تباہ ہو چکے ہیں۔اب تک کسی حکومتی ادارے اور این جی او نے علاقے کے عوام کی خبر نہ لی ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کو قحط سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔