گنگ چھے میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو

گنگ چھے میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

موسم تبدیلی ضلع بھر میں سیاسی ہلچل کا سبب بن چکی ہے جہاں مسلم لیگ )ن(کے جیالوں کی نظر یں جی بی کونسل نشست پر مرتکز ہیں تو وہاں پیپلز پارٹی گانچھے کے ادنی و اعلیٰ کارکناں صوبائی قیادت کی راہ میں نظریں فراش کئے منتظر آمد ہے تاہم یہ اطلاعات بھی مل چکی ہیں کہ روالپنڈی میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی صوبائی حاضر و سابق قیادت کی موجودگی میں یہ فیصلہ طے پا چا ہے کہ پیپلز پارٹی گانچھے ی تنظیم نو کا آغاز کونسل الیکشن کے فوری بعد گانچھے سے شروع کیا جائے گا اس اجلاس میں پیپلز پارٹی گانچھے و بلتستان ریجن کے قائدیں نے شرکت کی تاہم اس اجلاس میں سابق صدر PPPمحمد جعفر کے شریک نہ ہونے کی تصدیق بھی ہوئی ہے اس کے علاوہ زرائع نے یہ بھی بتایا کہ آخوند حاجی محمد ابراہیم کاندے والے اب تک کے سب سے مظبوط ضلعی صدارتی امیدوار ہیں اور ان کے مقابلے میں موجود ثانوی حثیت کے ضلعی امیدواروں کے حوصلے اگر ٹوٹے نہیں تو ان میں جو نقطہ ابل پہلے تھا وہ اب صرف باتوں کی حد تک سکڑ چکا ہے سابق قیادت کے چند چہرے اس امید میں تھے کہ ان کے علاوہ کون ہے؟یہ سوچ بھی اب دم توڈ چکی ہے ۔پیپلز پارٹی جعفر گروہ نے ہی حاجی ابراہیم کو بارہا محفل سیاست کے لئے موزن قرار دیا لیکن آج یہ ایک سابق ممبر کونسل کو صدارت کیلئے مناتے اور اخباری بیان داغتے نہیں تھکتے ۔دوسرا گروپ چیرمین محمد ابراہیم کا ہے ان دونوں کو ایک جگہ بٹھانے کی متعدد کاوشیں اب تک کامیاب نہ ہو سکیں یوں ان کی زاتی سیاسی اور مفاداتی رنجشوں نے پارٹی اور اس کے نظریاتی جیالوں کو سولی پر چڑھا رکھا ہے ان حالات میں بوسیدہ ماضی کے 40سالہ تسلط پسند سوچ کو بدلنا وقت کی ضرورت تھا جو پی پی کی موجودہ صوبائی قیادت نئی سوچ کے ساتھ قدم بڑھا رہی ہے عوام ان چہروں سے نہ صرف الرجک تھے بلکہ ان میں تبدیلی کے بھی خواہاں تھے ان سے خصوصا نوجوان طبقہ بہت ہی نالاں تھے اور پڑھا لکھا طبقہ ان کو اپنا معاشی قاتل سمجھتے تھے تو ان حالات میں سیاسی منظر نامے سے پارٹی و اجتماعی مفاد میں کنارہ رکھنا اور درپردہ اشیرباد و مشاورت لینا بھی احسن قدم ہے تاہم منظر عام ان گروہوں کی حرکت و سکنات و نئے چہرے کے لئے رستے کی رکاوٹیں بننا پارٹی امیج کے لئے معاشرتی مذاق بن کر رہ گیا ہے ان تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود سوائے چند محدود سوچ کے گروپ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ صدر کے لئے حاجی محمد ابراہیم ہی موجودہ حالات کے تناظر میں بہتر ہیں اور اعلیٰ قیادت کا ان پر اعتماد ہونا گروہی مقامی سیاست دانوں سپروائیزر غلام مہدی و ٹھیکدار غلام محمد صدر PYOکے لئے چپ کی مہر سیل ثابت کروانے میں محمد اسماعیل جنرل سیکرٹری جی بی کا اہم اور دوٹوک اوپن کردار ہیں یہی وجہ تھی کہ ان دونوں نے اس بار بھٹو مرحوم کی برسی منانے سے اجتناب برتا

اس عمل پر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ جیالے نہیں البتہ ا ن کے تحفظات و خدشات کو سن لینا چاہیے ۔اور ثانوی نوعیت کے ضلعی عہدے ان کے خدمات و وفاداری کا حق ضرور بنتا ہے ایک اہم نقطہ فکر طلب یہ ہے کہ ان تمام گروپس کو شیر و شکر کیا جا سکتا ہے ؟ تو جوابا یہ کہ جب پارٹی بحران سے دو چار ہو تو یہ بہت حد تک محتاط رویہ اختیار کئے چپ ضرور بیٹھیں گے پارٹی کے اندر کی در اندازی میں انہی گانچھے کے بوڑھے فارغ سیاست دانوں کا ہاتھ ہمیشہ سے رہا ہے اور ان کی حیات باقیہ تک رہے گا اگر اس کا سد باب و تدارک سوچا جائے تو یہ ان کی پارٹی خدمات و وفاداری کے تناظر میں مناسب و موضوں عمل نہ ہوگا صوبائی قیادت و ضلعی قائدین پیپلز پارٹی کے اس اجلاس میں صدر اور جنرل سیکرٹری کے کلیدی عہدے پر مکمل اتفاق نہ ہو سکا تا ہم جنرل سیکرٹری کا عہدہ اس وقت بھی اوپن ہے جبکہ صدارت کا عہدہ اتفاق رائے سے حاجی محمد ابراہیم کو تقویض کرنے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے جنرل سیکرٹری کا عہدہ خالی رکھنا اس امر کی دلیل ہے کہ اعلیٰ قیادت اس سیٹ کو PMLNکی فارورڈ بلاک اور کونسل کے لئے سابق امیدوار مولا نہ محمد صدیق و ضامن علی گروپ کے لئے بطور چارہ استعمال کر رہی ہے رابطوں کا سلسلہ کاچو لیاقت علی ،کاچو محمد علی موراخان مولانہ صدیق ،بوا ضامن ،آصف ایڈوکیٹ ،حاجی محمد اقبال سے جاری ہیں یوں عہدوں کی بندر بانٹ کا عمل بھی مقامی ذمہ داروں میں شروع ہو چکا ہے حوالدار (ر) عبد کریم نے بتایا کہ وہ نئے آنے والے جیالوں میں سے سینئر ہیں لہذا عندیہ صوبائی قیادت جنرل سیکرٹری کا فیصلہ ان کے حق میں کر چکی ہے ۔لیکن اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس پر بحث کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنرل سیکرٹری کی نشست بطور چارہ ہی رہے گی جبکہ اخوند محمد ابراہیم کنفرم ہو چکے ہیں کیونکہ ہر زاویے اور نقطہ نظر سے جانچنے اور پرکھنے کے بعد ppگانچھے کے لئے اس سے بہتر شخصی را مٹیریل ضلعی سطح پر موجود نہیں اور اس کو آگے لائے بغیر ماضی کے نمائندوں کے ناتواں کندھے اس بوجھ کو اٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتے کیونکہ یہ ان کی عمر کا بھی تقاضہ ہے اس لئے جیک چارا فارمولے کو ازماتے ہوئے اس پر اتفاق بھی ہوا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔