داڑھی والے ڈاکٹر صاحب !

داڑھی والے ڈاکٹر صاحب !

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر محمد نذیر خان

رمضان کا مہینہ تھا ، گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی کمزور خاندان کی ایک انتہائی غریب اور یتیم بچی کو لایا گیا ، ماں ساتھ تھی ، ماں بیٹی دونوں کے کپڑوں کی حالت یتیمی اور بیوہ ہونے کی داستان مصیبت سنارہی تھی ، کہنے لگی : اس کا والد فوت ہوچکا ہے ، یہ جوان ہورہی ہے ، لیکن سخت بیمار ہے ، فلاں عامل کے پاس گئی تھی ، تو وہ کہ رہے ہیں کہ اس پہ جنات کے ذریعے جادو کیا گیا ہے ،اور وہ علاج کیلئے دس ہزار روپے مانگ رہاہے ، جب کہ آج تیسرا دن ہے ، ہمارے گھر افطاری کیلئے ۔۔۔۔۔اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ، ( ظاہر ہے کہ جس نے خود غربت دیکھی ہو، اور کئی کئی دن تک ایسے حالات دیکھے ہوں ، وہ یہ سن کر اپنی آنکھوں پر کیا قابو رکھ سکے گا! ) بچی کو یرقان بھی تھا اور ٹائیفائڈ بھی ، لیکن سادہ لوح ماں اسے جادو اور جنات کا کیا کرایا سمجھ بیٹھی تھی ، میں نے گاہکوچ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبد السلام غیاث کا نمبر ملایا ، عجیب بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے، فیس بک کے ذریعہ تعارف ہوا تھا ، فون پہ ایک دو دفعہ سلام دعا ہوئی تھی ، اس وقت وہ جاپان میں تھے ، اور میں ترکی میں ، لیکن ان کے حسن اخلاق نے اسی معمولی دعا سلام کو دوستی میں بدل دیا ، پاکستان گیا تو ان سے ملاقات بھی کی ، لیکن مصروفیات نے کوئی مشترکہ پروگرام کا موقع نہ دیا ، اور یوں مل بیٹھ کرکوئی دعوت اڑانے کی حسرت ہی رہی ، چھٹیاں ختم ہوگئیں اور میں واپس آگیا ) اللہ پاک ان گنت خوشیاں عطا فرمائے عبد السلام غیاث کو ، کہ انہوں نے نہ صرف اچھی طرح پوری بات سنی ، بلکہ اگلے دن صبح بھیجنے کا بھی کہا ، میں نے احتیاط کے طور پر اپنے دوست راجہ آزاد ، اور بھائی عطاء اللہ کو بھی کال کی ، دونوں ہی اچھے اخلاق کے مالک ہیں ، اس لئے اچھا ریسپانس دیا ، اور اس خاتون کیلئے کرایہ کا بندوبست کرکے بھیج دیا ، اس کے بعد میں تقریبا بھول چکا تھا ایک دن تقریبا صبح دس بجے کا وقت تھا ، حسب عادت سویا ہوا تھا کہ چھوٹی بیٹی نے جگایا کہنے بلیک کلرکی ایک خالہ آئی ہیں اور آپ کو بلا رہی ہیں ، میں پریشان سا ہوا ، دوسرے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ وہی خاتون ہیں اپنی بچی کے ساتھ ، آنکھوں سے خوشی کے آنسووں ، اور لبوں پر مسلسل دعائیں ، کہنے لگی میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں میں ہسپتال گئی تھی ، وہ داڑھی والے بڑے صاحب (ڈاکٹر عبدالسلام غیاث ) نے بہت اچھی مدد کی ، میری بیٹی کا خون نکال کر چیک کیا ( بلڈ ٹیسٹ ) گولیاں اور شربت بھی دیا ، اب میری بیٹی بالکل ٹھیک ہے ، یہ کہ کر اس نے پھر اپنے پرانے دوپٹے کا پلو جھولی بناکرآسمان کی طرف بلند کیا اور مسلسل رو رو کر دعائیں دینے لگی!

پھر کالے رنگ کا ایک شاپنگ بیگ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا : یہ 10 دیسی انڈے ہیں ، میرے گھر میں اور کچھ نہیں تھا کہ آپ کیلئے تحفہ لاءوں ، ان میں سے پانچ آپ لے لو اور پانچ وہ داڑھی والے ڈاکٹرصاب ( عبد السلام غیاث ) کو دیدو ، مجھے اس کی سادگی اور اخلاص پر بہت پیار آیا اور غربت پر بہت ترس ، اس لئے میں نے اس کا دل رکھنے کیلئے وہ انڈے اس کے ہاتھ سے اٹھا لئے ( الحمد للہ اس کا اچھا بدلہ بھی دیا ) لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ انڈے داڑھی والے ڈاکٹر صاحب تک نہ پہنچ سکے ، کیونکہ ان پرداڑھی والے مولوی صاحب کا قبضہ ہوچکا تھا !امید ہے کہ داڑھی والے ڈاکٹر صاحب داڑھی والے مولوی صاحب کو معاف کریں گے !

آج اس واقعہ کو کا فی عرصہ بیت گیا ہے ، لیکن جب بھی مجھے اس کا خیال آتا ہے تو داڑھی والے ڈاکٹر صاحب کی قسمت پر بہت رشک آتا ہے ، نجانے کتنے ایسے کمزور ہاتھ ان کی صحت ،عافیت اور درازی عمر کی دعا کیلئے اٹھتے ہوں گے ،اگرچہ داڑھی والے ڈاکٹر صاحب کو اس کی خبربھی نہیں ، لیکن جس ذات کے سامنے اٹھتے ہیں ، وہ داڑھی والے ڈاکٹر کو بھی جانتا ہے اور بغیرداڑھی والے ڈاکٹر کو!

ہمارے اس کمزور سسٹم میں اس طرح درد دل رکھنے والے آفیسروں اور ڈاکٹروں کا وجود ، کسی نعمت سے کم نہیں ، جو صلہ وستائش کی پرواہ بغیر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ! اس سلسلہ میں گاہکوچ ہسپتال کے تمام عملہ بالخصوص ایم ایس ڈاکٹر عبدالسلام غیاث ، راجہ آزاد ، برادر عطاء اللہ ، راجہ ارشد اور بھائی جہانگیر لیڈی ڈاکٹرز،ورکرز سمیت سب کا بہت بہت شکریہ اداکرنا چاہوں گا ، میں نے اپنا یا پرایا ، جب بھی کسی مریض کو ان کی طرف بھیجا ، انہوں نے کھبی مایوس نہیں کیا ، اپنا فرض اچھی طرح نبھایا ، اللہ تعالی ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے ، اور ہمیں ان کی حوصلہ افزائی اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، عموما ہمارا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کی شکایت کرتے ہیں ، اور کرنی بھی چاہیئے ، لیکن جب کوئی اچھا ئی کرتا ہے تو حوصلہ افزائی نہیں کرتے ، یہ اچھی عادت نہیں ! رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے مخلوق کا ناشکرا ، خالق کا شکرگزار نہیں بن سکتا!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔