پس و پیش:  فطرت کی دہلیز میں سیاسی مطالبات اور خدشہ

پس و پیش: فطرت کی دہلیز میں سیاسی مطالبات اور خدشہ

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اے ایم خان چترال ،چرون

جمہوریت ،جمہوری عمل ،جمہوری اقدام ، اور جمہوریِ اتفاق اور اختلاف کا سلسلہ روزانہ ہمارے قومی ، صوبائی اور علاقائی سیاست میں ہوتا رہتاہے۔ جیسے ہی چترال میں بہار آتی ہے تو لوگوں کی خون کی روانی بھی تیز ہو جاتی ہے۔ بہار ہر چیز اپنے ساتھ لاتا ہے ،اگر خوبصورتی ساتھ لے آتی ہے تو سیاسی سرگرمیوں کے لئے موسم اور آب و ہوا معتدل بنا دیتی ہے۔چترال کے لوگ پچھلے سال کے سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے اِس سال بھی گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں، صرف اِسی لئے کہ وہ جو بھی نقصانات ہوئے تھے اُن پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔جیسے بہار کے ساتھ لوگوں کے کھیتی باڑی، آب باشی اور دوسرے ضروریات کیلئے تگ و دو شروع ہوجاتی ہے تو مسائل کا حل ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں ۔

چترال کے لوگ فطرت کے قریب زندگی گزارتے آرہے ہیں ،جیسی فطرت سرسبز چادر اُوڑھ لیتی ہے ، لوگ فطر ت کے قرب کیلئے فطرت کی طرف چلتے ہیں۔ آج اپر چترال میں موڑکہو،تورکہو،اور تحصیل مستوج کے وسط سطح مرتفع میں ایک ثقافتی تہوار شروع ہوچکا ہے جو ’’جشن ققلشٹ ‘‘ سے جانا جاتا ہے۔اِس میں ہزاروں کی تعدا د میں نوجواں ،بوڑھے اور بچے جمع ہو چکے ہونگے، تو دوسری طرف اُسی علاقے کے لوگ اِس تہوار میں آنے کے بجائے احتجاج میں بیٹھے ہیں، حالانکہ اُنکے شوق کا اندازہ آسانی سے کیاجاسکتا ہے۔

یہ دُنیا بھی کتنی عجیب ہے کہ ققلشٹ سے چند کلومیٹر فاصلے پر لوگ ایکطرف حکومت کے عدم توجہی کے خلاف برسر احتجاج ہیں ،تو دوسری طرف تہوار ایک بڑی ہجوم خوشی!

اِس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ گزشتہ سال کے سیلاب اور زلزلے سے لوگوں کے فصل ، انہار، پائپ لائنز، راستے ، پل تباہ اور خراب ہوگئے ہیں۔ سرغوز، جنالی کوچ، شوگرام، ریشن، خصوصاً گرین لشٹ میں لوگوں کے زمینات دریائے یارخون میں بہہ گئے ہیں، جسے اب کوئی بھی واپس نہیں لاسکتا اور نہ اِ س کے برابر معاونت اُن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے۔ مژگول، بریپ،سہت،موری اور کئی دوسرے علاقے سیلابی ریلے کے نیچے دب گئے، اُن کا بھی کوئی خاص مداوا نہیں ہوا ہے۔

بحیثیت ریاست کا شہری ریاستی اداروں سے مدد اور مالی اعانت کا توقع نہ غیر قانونی اور نہ غیرجمہوری ۔ ہر ایک قانونی اور جمہوری عمل اُس وقت غیرقانونی اور غیر جمہوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ قانونی اور جمہوری حدود کو پارکرتی ہے۔ اور ہر اُ س غیر قانونی اور غیر جہہوری قدم کا ذمہ دار اُس تحریک کا رہنما کو ٹھہرایا جاتا ہے جس طرح اُس کی کامیابی کا کریڈیٹ اُسے دیا جاتا ہے۔ کیونکہ عوام کا ہر قدمل لیڈر تعین کرتا ہے ۔ بہت ضروری پوائنٹ کہ جب عوام میں کسی کو غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل میں ملوث پکڑا جاتاہے تو اُسکی چھان بین اُس کے ’’مطالبات‘‘ کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا بلکہ’’ جرم کی نوعیت اور شدت‘‘ کے حوالے سے متعین کیا جاتا ہے۔ ہاں یہاں میرا چندان مقصد یہ نہیں علاقے کے رہنماؤں کا تنقید کرنا ہے ، بلکہ میرا مقصد صرف اُس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ ایک قانونی اور جمہوری مطالبہ غیر قانونی اور غیر جمہوری کیسے ہوسکتی ہے۔

سیاسیات کے خطوط میں دیکھا جائے توہر اُِس عمل کو پولیٹیکل ڈویلپمنٹ کہا جاتا ہے جس سے لوگ اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ جمہوری عمل کے ذریعے کر دیتے ہیں۔ یہ ہر شہری کا جمہوری حق ہے کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔ اور جب لوگ جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات کو آگے لے جاتے ہیں تو یہ جمہوری ترقی کی علامت ہے، اور جمہوری عمل ہے۔

چترال میں شاید کوراغ اور بونی میں چند لوگوں کا مثال دیا جائے تو وہ علاقے کے نوجوانوں اور لوگوں کو مستعد اور چست و چالاک رکھنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ چند دِن پہلے کوراغ جوکہ کئی سالوں سے منشیات کی بیماری میں ملوث تھا ، اور وہاں ایک ’’کلچر‘‘ بن چکُی تھی جس سے نکلنا بہت مشکل تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ قریباً ایک مہینے پہلے اُنہوں نے منشیات کے خلاف ایک پرُامن واک کی جو کوراغ سے شروع ہوکر چرون میں ختم ہوئی۔ اور چند دِن پہلے کوراغ میں ایک تنظیم کا ا فتتاح اے سی مستوج حمید اللہ خٹک نے کی جوکہ منشیات کے خلاف ایک ’اِدارتی مہم ‘ کا آغاز ہے ۔ ایک طرف کوراغ میں منشیات خصوصاً چرس اور شراب کے خلاف مہم کا آغاز ، تو دوسری طرف یارخون ویلی میں چرس کی کاشت دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ ؟۔ یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ کوراغ کے لوگ تحسین کے مستحق ہیں کہ جس نے بھی یہ منشیات کا بیج کوراغ میں بو دی تھی،وہ اِسے ختم کرنے پر اِتفاق کرچُکے ہیں۔ اور اِس اِتفاق میں اپنی کامیابی دیکھ رہے ہیں۔ اگر معاشرے کے 80 فیصد لوگ کسی کام کو کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں تو اِس میں 10 فیصد ’خاموش تماشائی‘ کو نکال دیا جائے تو 10 فیصد کو معاشرتی اور قانونی دباؤ سے ملغوب کیا جاسکتا ہے۔، جوکہ کوراغ میں بھی ہور ہاہے۔

کوراغ میں ایک نوجوان تعلیم یافتہ نسل میدان میں آ چکا ہے ، اور وہ کووراغ کی معاشرتی ،سماجی اور تعلیمی ترقی میں اپنے بچوں اور علاقے کے بچوں کا مستقبل دیکھ رہا ہے ، اور چاہتا ہے کہ ترقی کے اِس راہ میں وہ بھی اپنا حصہ ڈال دے۔ اِس بڑھتی تبدیلی کا ایک اہم وجہ کوراغ میں تعلیمی سرگرمی کا زیادہ ہونا ہے۔ کوراغ میں تبدیلی بالکل سین لشٹ چترال میں آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول اور عبد الوالی خان یونیورسٹی کے کیمپش کے بننے سے ہورہا ہے، کی طرح ہے۔ تاریخ اِس بات کا گوا ہ ہے کہ جس علاقے میں تعلیمی اِدارے ہوتے ہیں وہاں تعلیمی سرگرمیاں ہوتے رہتے ہیں ، اور اگر نہیں بھی ہوتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح بڑوں اور بچوں میں تعلیم کی بات ہو ہی جاتی ہے۔ اور جہاں تعلیم پر بات شروع ہوجاتی ہے وہاں تعلیم اور علم کی اہمیت خود بخود اُجاگر ہوجاتی ہے۔

بریب اور چترال کے دوسرے علاقے سیلاب اور زلزلے کے بعدبہت متاثر ہوئے ہیں اُن کے انہار، روڈ، پل، لنک روڈز، واٹر سپلائی سسٹمز، اور مکانات کے مکمل اور جزوی نقصان کا اُن کو اُن کے جائز حکومتی مالی معاونت مل نہیں چُکے ہیں ، اور یہ مد د اُن کا حق ہے ، اُن کو ملنا چاہیے۔ لیکن چترال کے لوگوں کے ساتھ اپنے جائز حقوق کیلئے ، غیرقانونی کام کرنے کا عندیہ اُن کے مطالبات کو پورا کرنے کا قوی سبب نہیں ہوسکتا ، اور قانونی اور جائز مطالبات غیرقانونی عندیہ سے منسلک ہوکر عوام کے مطالبات کی نفی نہ کردے، مجھے اُس پر خدشہ ہے!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔