گلگت بلتستان اور پاکستان

گلگت بلتستان اور پاکستان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: دیدار علی شاہ

یہ بات سچ ہیں کی گلگت بلتستان تاریخ میں ہمیشہ تجارت اور دفاعی اہمیت کے حوالے سے استعمال ہوتی رہی ہیں اور تاریخ بتاتی ہیں کہ وقت اور حالات کے مطابق گلگت بلتستان کی سرحدیں بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں۔دس اضلاح پر مشتمل آج کے گلگت بلتستان کی صورت حال یہ ہیں کہ اس کی آبادی تقریباً بیس لاکھ کے قریب ہیں تعلیم،صحت،معشیت اور دوسرے شعبوں میں پہلے کے نسبت بہتر مگر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں ہیں جبکہ سیاحت اور معدنیات یہاں کہ اہم معاشی ذرایعے ہیں اور ان دونوں شعبوں میں مختلف وجوہات کہ بنا پر کام نہیں ہورہاہیں اور یہاں کے لوگوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کی ہیں۔شاہرہ قراقرم یہاں سے گزرتا ہیں ،دیامر بھاشا ڈیم یہاں بن رہی ہیں ، کے ٹو ،راکاپوشی اور دوسری مشہور چوٹیاں یہاں پر واقع ہیں،مشہور سیاحتی مقامات یہاں پر ہیں وغیرہ وغیرہ اور اکنامک کوریڈور بھی یہی سے گزرنا ہیں پاکستان ہر سال اس علاقے سے اپنے معشیت میں اضافہ کرتا ہیں لیکن جب اس علاقے کی حقوق کی بات آتی ہیں تو یہ متنازع کہلاتا ہیں ،اب جب اقتصادی راہداری کی بات شروع ہو گئی ہیں اور اسے پاکستان کے لئے گیم چینجرکا نام دیاگیا ہیں تب سے ہر طرف اس علاقے کی حقوق کی بات چل رہی ہیں کہ اسے کوئی آیئنی حیثیت مل جائے اس مسلئے پر بہت سارے تجاویز آچکے ہیں کمیٹیاں بھی بنی ہیں اور گفت و شنید بھی جاری ہیں مگراس کی آئینی حیثیت ابھی تک واضع نہیں اور گلگت بلتستان کے لوگوں کوبھی موجودہ صورت حال اور حیثیت کاعلم نہیں ۔
یہ بات بھی سچ ہیں کہ کوریڈور کے بننے کے ساتھ ساتھ اس کی آئینی معاملات میں تیزی آئی ہیں ،کوریڈور کی بنیاد شاہرہ قراقرم ہیں،شاہرہ قراقرم کی بنیاد پاکستان اور چین کے مابین اس وقت کی حالات اور ضرورت کے مطابق دوستی تھی،اور اس وقت کے دو ملکوں کے درمیان دوستی کی ایک کردار ریاست ہنزہ بھی تھی کیونکہ ریاست ہنزہ کا پاکستان بننے سے پہلے چین کے ساتھ برسوں پرانی تاریخی اور ثقافتی طور پر گہری تعلقات رہی ہیں اور یہ تعلق مختلف اتار چڑاو کا شکار رہا ہیں اسی طرح آج کی پاک چین دوستی ریاست ہنزہ سے شروع ہو کر شاہرہ قراقرم کی تعمیر اس میں مضبوطی لاتا ہیں اور یہ سفر آج کے سی پیک کوریڈور تک پہنچ جاتا ہیں۔گلگت بلتستان دنیا کا ایک ایسا خطہ ہیں کہ یہاں کے لوگوں نے اپنے مدد آپ کے تحت ڈوگرا حکومت کو ڈنڈوں کی زور پر بگا کر آزادی حاصل کہ اور پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کی اس وقت سے لے کر اب تک یہاں کے لوگوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام روشن کی ہیں اور خاص کر پاکستان کے افواج میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں اور دیں رہے ہیں جس کا ثبوت لالک جان نشان حیدر ہیں۔لیکن آئینی حقوق کے حوالے سے یہ علاقہ دنیا کے سامنے اوجل ہیں۔
گلگت بلتستان،کوریڈور اور اس علاقے کی آئینی حیثیت اب آپس میں جُڑی ہوئی ہیں ان کو ایک دوسری کی ضرورت ہیں کیونکہ اس میں دو ایٹمی طاقتوں کا مفاد شامل ہیں اور اب تمام عالمی طاقتوں کی نظر گلگت بلتستان اور کوریڈور پر ہیں اسی لیئے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو واضع کرنا اب وقت کی ضرورت ہیں،سابقہ تمام دورحکومتوں میں اس پر توجہ نہیں دی گئی ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہاں پر ترقیاتی کام کافی حد تک ہوئی جو کہ سابقہ تمام حکومتوں سے بہتر تھی مگر اس کی آئینی حیثیت کے حوالے سے کوئی کام نہیں کی گئی مشرف دور ختم ہونے کے بعد ۲۰۰۸ میں پی پی پی کی حکومت قائم ہوئی پھر گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر بحث و مباحثہ شروع ہوئی اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے۲۰۰۹ میں یہاں کی انتظامی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کی جس کا سربراہ اس وقت کے وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری قمروزمان کائرہ تھے ، اس کمیٹی نے کئی اجلاسوں،مشوروں کے بعد ایک مسودہ تیار کیا پھر وزیر قانون نے اس کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت نے اسے اگست ۲۰۰۹ میں منظور کیااور اس وقت کے صدر پاکستان آصف زرداری نے ستمبر۲۰۰۹ میں اس پر دستخط کیے ۔
اس نظم و نسق آرڈر میں اس کا نام شمالی علاقہ جات سے ہٹا کر گلگت بلتستان رکھ دیاپھر اس علاقے کو انتظامی امور اور قانون سازی کے کچھ اختیارات دیئے گئے ،گورنر اور وزیر اعلی کی قلمدان متعارف کروایا گیا،انتظامی امور چلانے کے لیئے رولز آف بزنس واضع کیئے،سسٹم آف فننانشل منجمینٹ اینڈبجٹنگ بھی واضع کیا گیااور ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کونسل کو تقریباً۵۵ معاملات پرقانون سازی کا اختیار دیاگیا اور یاد رہے کہ اسے کچھ اہم معاملات پر قانون سازی کا اختیار نہیں ہیں اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اوپر جی بی کونسل قائم ہیں اس میں طاقت ور اور بااختیار لوگ ہوتے ہیں جس میں وزیر اعظم چیئرمین ،گورنر وائس چیئرمین ، وزیرامور کشمیر و گلگت بلتستان اس کونسل کا رُکن اور پانچ وفاقی ممبران پارلیمنٹ میں سے منتخب ہوتے ہیں اور جی بی قانون ساز اسمبلی سے ووٹ کے زریعے چھ ممبران اس کونسل کا حصہ بنتے ہیں ہر کام اس کمیٹی کے مشاورت سے یہاں انجام دیتی ہیں۔یاد رہے کہ ۱۹۹۳ میں آزاد جموں کشمیر کے ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دیا تھا اور ۱۹۹۹ میں سُپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار دیا تھا اور اس وقت کے حکومت سے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں مزید اقدامات کریں۔
اب مسلم لیگ ن کا دور حکومت ہیں اور یہاں کی آئینی حیثیت کے حوالے سے پھر ایک کمیٹی بنا ئی گئی ہیں اس کمیٹی سے اُمید رکھنا قبل از وقت ہیں کیونکہ اس سے پہلے گلگت بلتستان کی انتظامی امور کو بہتر بنانے اور قانون سازی کرنے کے لیے ۱۹۷۴، ۱۹۹۴ اور ۲۰۰۹ میں کچھ تبدیلی کی گئی تھی جو کہ بے سود رہے ابھی ایک سال پہلے ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ،اس پر کافی بات چلی پھر بیان آیاکہ یہ کشمیر کا حصہ ہیں اور پھر یہ کہا گیا کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا اس کی حیثیت یہی رہے گی اور ساتھ ساتھ ٹیکس کے معاملات نے بھی یہاں سر اُٹھانا شروع کی ۔ ان تمام باتوں کی رد عمل میں گلگت بلتستان میں بھی کمیٹیاں بننا شروع ہوئی جنھوں نے کبھی گندم سبسڈری پر شٹرڈاون ہڑتال کیے تو کبھی آئینی حیثیت پر جلسے کیے ،کبھی ٹیکس کے معاملات پر دھرنا دیئے تو کبھی کچھ اور۔ان تمام حالات اور باتوں سے پتہ چلتا ہیں کہ یہاں کے لوگوں میں بے چینی بڑ رہی ہیں اسی لیے اگر حکومت اس مسئلے میں سنجیدہ ہیں تو یہی وقت ہیں کہ اس مسئلے کا آئینی حیثیت واضع کریں کیونکہ اسے جتنا تاخیر کرینگے یہ آنے والے وقتوں میں حکومت کے لیئے پریشانی کے باعث اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیئے نقصان کا باعث بن سکتا ہیں اس لیے حکومت کو چایئے کو وہ اسے خوش اسلوبی سے ممکن بنائے۔
اس مسئلے کا دوسرا رُخ بھی ہیں اور اسے گلگت بلتستان کے عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہیں کہ اگر حکومت پاکستان اس علاقے کو کسی بھی طرح سے اپنے آئینی دائرے میں شامل کرنے کہ کوشش کرتا ہیں تو یہ کشمیریوں کو منظور نہیں اور کشمیر میں کچھ مسائل بھی پیدا ہوسکتی ہیں جوکہ بنیادی طور پر یہ کشمیریوں کہ غلط سوچ اور رویہ ہے، پھر اگر حکومت اُس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں تو اس سے ہندوستان غلط فائدہ اٹھا سکتا ہیں جس سے پاکستان کو نقصان اور اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ کمزور پڑ سکتا ہیں اس لیئے گلگت بلتستان کے عوام کو اس مسئلے کی تاریخی حیثیت اور قانونی پہلو سے بھی واقف ہونا ضروری ہیں تاکہ ان تمام باتوں کو سمجھ کر حکومت سے اپنے جائز آیئنی مطالبہ کر سکے۔
ابھی آنے والے وقتوں میں یہ بات عیاں ہوگی کہ اس حکومت کی بنائی گئی آئینی حقوق کی جائزہ کمیٹی وزیراعظم کو کس قسم کی سفارشات پیش کرتا ہیں اس کمیٹی کو گلگت بلتستان کی تاریخی حقائق ،ملکی و غیر ملکی اہمیت،جغرافیائی اہمیت،یہاں کے معدنی وسائل اور سیاحتی مواقعے اور یہاں کے عوام کی خوشحالی اور پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفارشات مرتب کرنی چاہیے،اور گلگت بلتستان کے آئین کے تعین کے لئے حکومت اقوم متحدہ کی قراردادکی روشنی کے مطابق یا کسی اور طریقے سے اس علاقے کو اپنے آئینی دائرے میں شامل کرتا ہیں اس سے یہاں کے عوام کا کوئی غرض نہیں بلکہ ان کو جائز آئینی حیشیت مل جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کو قومی اسمبلی میں جگہ مل جائے ،اپنے فیصلے خود کریں ،یہاں پر موجود قدرتی وسائل کو خود استعمال کریں اور خوشحالی کی طرف ایک نئے سفر کے آغازکے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے پہچان کو زندہ رکھ سکے۔
شروع ہی سے گلگت بلتستان اپنے مخصوص جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پوری دنیا میں بڑی طاقتوں کی نظر میں رہی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہیں اور کوریڈور کی وجہ سے ایک بار پھر دنیا کی نظروں میں اُبھر رہا ہیں لیکن دُکھ اس بات کی ہیں کہ مقامی لوگوں میں گلگت بلتستان کی اسٹرٹجیک اہمیت ،تاریخی اہمیت اور موجودہ حالات کا اندازہ صیح طور پر نہیں ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments