ایک نظر ادھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ صاحب، کھرے اور کھوٹے میں فرق کیجئے!

ایک نظر ادھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ صاحب، کھرے اور کھوٹے میں فرق کیجئے!

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔۔شہا ب الدین غوری

بچپن میں ایک گانا ہرزبان زد عام تھا ۔۔۔عیسیٰ پیر، نہ موسیٰ پیر ،سب سے بڑا ہے پیسہ پیر ۔۔۔آج اگر اس گانے کے بول ذہن میں گردش کرتے ہیں،کانوں میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے تو میرے خیالات کا دائرہ کار پھیل جاتا ہے ،سوچ وفکر کے زاویے پھیلتے پھیلتے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے بالاآخر دل ودماغ یکسوئی اختیار کرجاتے ہیں کہ واقعی ؛ پیسہ بڑا پیر ہے ؛کیونکہ جب پیسہ اپنی جھلک دکھلا جاتا ہے تو مرشدین پیر کو ،تابعین اپنے قائدین کو اور قائدین اپنے اصولوں کو بھول جاتے ہیں ،ضمیر شکنی ان کا وطیرہ بن جاتی ہے اصول کے بندھن ٹوٹتے ہیں اور انسان کے افعال و اعمال سے وہ کچھ جھلکتا ہے جس بارے اس سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔۔
اصولوں سے روگردانی اور ضمیر فروشی کی عادت اگر کسی معاشرے کے اندر قیادت کرنے والے طبقے میں سرائیت کرجاتی ہے تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ قوم اور معاشرہ اخلاقی اور اقتصادی تنزل اور پسماندگی سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ایسے حالات میں عام انسان کا اپنے قائدین کی ضمیرفروشانہ خصلتوں اور بے اصولی کے ارتکاب کے باعث پورے نظام سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور معاشرے کے اندر باہمی اعتباریت کا پہلو ختم ہو جاتا ہے۔کچھ ایسے ہی فضا گلگت بلتستان کو نسل کے حالیہ انتخابات کے دوران عوام اور چند منتخب نمائندگان کے درمیان پیدا ہوچکی تھی ۔کیونکہ قانون ساز اسمبلی کے اندر قیادت کا فریضہ سرانجام دیتے مختلف شخصیات کی بے ضمیری اور بے اصولی کے چرچے بہت ہی عام ہوچکے تھے ۔کونسل انتخابات کے دوران چہ میگوئیاں ایک وقت اس حد تک بڑھ چکی تھیں کہ بعض حلقے یہ دعویٰ کررہے تھے کہ مسلم لیگ اپنے مینڈیٹ کے حساب سے اپنے امیدوار جتوانے میں شاید ناکام رہیگی ۔اس قیاس آرائی کے پیچھے کچھ تلخ حقائق ضرور تھے جن کے باعث حکمران جماعت کو دوتہائی سے زائد اکثریت رکھنے کے باوجود غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا لیکن آفرین فرزند گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کو کہ جنہوں حالات اور واقعات کا پیشگی ادراک کرکے تمام مفروضوں اور تاویلات کو غلط ثابت کردیا اپنی سیاسی بصیرت اور قائدانہ سوچ و صلاحیت کے زریعے بعض اصولی ساتھیوں جن میں حاجی جانباز خان، حاجی محمد وکیل، حیدر خان،برکت جمیل،محمد شفیق ، ڈاکٹر محمد اقبال،،ابراہیم ثنائی،فد ا محمد ناشاد،محمدفدا،نسرین بانو،اورنگ زیب و دیگر رفقاء شامل ہیں کے زریعے مسلم لیگ کے صفوں میں لوٹا کریسی کی مثال قائم کرنے کے پس پردہ درپے ،چند ممبران کے لالچی اور بے اصولی پر مبنی ارادوں کو خاک میں ملایا اور آئینی ترمیم کے زریعے ۔ شو آف ہینڈ۔کا انتخابی فارمولا ایجاد کرکے حقیقی پیروں کی اتباع کے بجائے؛ پیسہ؛ کو پیر بنانے والے مریدوں کے عزائم ناکام کردیئے ۔حالانکہ حکمران جماعت کے ہی وزیر بلدیات رانا فرمان علی خان ودیگر چند وزراء تائید وتصدیق کے مرحلے میں اپنی ارادوں کی اصلیت دکھا چکے تھے اگر وزیر اعلیٰ اپنی ہی مدبرانہ حکمت عملی کے زریعے ان عناصر کو پابند نہ کرتے تو ن لیگ بھاری اکثریت کے باوجود عوامی حلقوں میں نہ صرف اپنی مقبولیت کھو جاتی بلکہ چار کے بجائے بمشکل دوہی نشتیں حاصل کرپاتی۔اور یہ عمل یقینامسلم لیگ (ن)کے امیج کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہوتا مگروزیر اعلیٰ کی کامیاب حکمت عملی نے جہاں ن لیگ کو بدنامی سے بچالیا وہاں شفافیت،قوم پرستی اور مذہبی اقدارکاپرچار کرنے کے دعویداروں کے بلند وبانگ دعوے ہوا میں تحلیل ہونے پر مجبور کیا۔وقت نے یہ منظر بھی دیکھا کہ صاف چلی شفاف چلی کے دعویدار جماعت نے پیسے کی چمک کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے،خود کو مذہبی اصول پسندی اور رہنمائی کا حقدار جماعت قرار دیتے نہ تھکنے والی جماعت کے رکن نے پیسے کے آستانوں میں ماتھا ٹیک دیا ،قوم پرستی،علیحدہ شناخت اور حق حکمرانی کے حصول کے لئے خود کو وقف قرار دینے والی شخصیت نے بھی اپنے ضمیر اور کردار کا سستا سودا کردیا جبکہ خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے والی جماعت کے سیاسی اصولوں کی زنجیر کو پیسے کے تیز ترین نشترنے انگ انگ سے جدا کرکے رکھ دیا
قارئین کرام ۔بے اصولی ضمیرفروشی اور موقع پرستی کی طویل داستان مزید طول ترنہ ہو جاتی اگر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے دور اندیش فیصلے نہ کئے ہوتے ۔ورنہ توحکمران جماعت کے چندوزراء اور ممبران اسمبلی اپنی اصلیت کی ایک ہلکی سی جھلک کونسل کے انتخابات سے قبل کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مرحلے میں دنیا کو دکھلا چکے تھے
اس سیا سی دنگل سے کامیاب نکلنے کے لئے اگر وزیر اعلیٰ اپنی حکمت عملیوں کا سہارا نہ لیتے تو اپوزیشن جماعتیں کردارکی بلندی حاصل کرجاتیں جبکہ مسلم لیگ کی علاقائی اور ملکی سطح پرجگ ہنسائی ہوتی۔
اب وزیراعلیٰ صاحب کو مسلم لیگ (ن)کے چاروں امیدواروں کا کونسل الیکشن میں کامیاب ہونے پر مطمیئن رہنے کے بجائے اس امر کا کھوج لگانا چاہیئے کہ ان کے صفوں میں کون ہیں ایسے عناصر،جنہوں نے اپنی ذاتی لالچ اور ہوس زر کے سبب بھاری مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو قربانی کابکرابنا کر سستے داموں بیچ کھانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔میرے خیال میں اب ایسے عناصر سے پارٹی کو پاک کرنا ہوگا جو پس پردہ پارٹی کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں کردار کے امتحان کے مر حلے میں کھرے اترنے والے ممبران حیدر خان،برکت جمیل،محمد شفیق ،فداخان اور نسرین بانو جیسی شخصیات کو وزارت دیکر وقار جبکہ کھوٹے ثابت ہونے والوں میں وزیر بلدیات رانا فرمان علی و دیگرکو وزارت سے فارغ کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
اب اگر سیاست کو عبادت کا درجہ دینا ہے تو وزیر اعلیٰ صاحب کو بلاتاخیرایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دیکر ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی جو پارٹی کی گود میں رہ کر دودھ پیتے ہیں اور اپنی توانیاں وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے داڑھی نوچنے پر صرف کرتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments