سکردو ہسپتال میں ماہر ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، مریضوں کا شکوہ

سکردو ہسپتال میں ماہر ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، مریضوں کا شکوہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( بیورو رپورٹ )ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو میں مریضوں کو سہولیات ، ادویات نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتال آنے والے مریض بے موت مرنے لگے، حکمران اور عوامی نمائندے فوری نوٹس لیتے ہوئے سکردوہسپتال کے مسائل فوری طور پر حل کریں یہ بات سکردو ہسپتال میں آنے والے مریضوں کے ایک وفد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ سکردو ہسپتال میں اس وقت 4اضلاع کے مریضوں کا بوجھ ہے ہسپتال میں فنڈز کا شدید بحران ہے جسکی وجہ سے ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو پیراسٹامول تک میسر نہیں اس کے علاوہ سکردو ہسپتال میں ماہر ڈاکٹر وں کی بھی شدید کمی ہے سکردو ہسپتال میں آرتھو پیڈک سرجن سرے سے موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے سکردو میں حادثے کا شکار مریض گلگت اور اسلام آباد جانے پر مجبور ہیں مریضوں نے مزید کہاکہ سکردو ہسپتال میں ماہر امراض قلب کے ڈاکٹر سرے سے موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہونے والے مریض زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ محکمہ صحت کے حکام بلتستان میں صحت کے خراب صورت حال کے بارے میں آگاہ ہونے کے باوجود کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہے ہیں دوسری طرف ہسپتال کے حکام نے ہسپتال کے اکاونٹس میں کروڑوں روپے ہسپتال پر خرچ کرنے کیلئے سینئر وزیر اور دیگر حکومتی شخصیات کو آگاہ کرنے کے باوجود کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا جس کے باعث ہسپتال کے کروڑوں کے روقوم اکاونٹس میں موجود ہیں لیکن ان کو خرچ نہیں کر پار ہے ہیں اور ہسپتال کی حالت روز بروز خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ہسپتال کے آمدنی میں ڈرک بنک کا کرایہ ایک لاکھ 65ہزار ورپے ماہانہ لیا جاتا ہے سب سے بڑی آمدنی ہے اس کے علاوہ پرچی فیس گیٹ پاس اور دیگر امدنی کے ذرائع موجود ہیں لیکن ان رقوم کو خرچ کرنے کی اجازت ایم ایس اور دیگر حکام کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے سکردو ہسپتال خیرات پر چل رہے ہیں سکردو ہسپتال پچھلے کئی سالوں سے خیراتی اداروں کی رحم وکرم پر ہیں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال کے سٹو ر سے غریبوں کو دوائی نہیں ملتی بلکہ وہ دوائی امیروں کیلئے کسی بھی وقت میسر آتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔