غیرت!!

غیرت!!

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میمونہ عباس خان

 تو یوں ہوا کہ پیارے ملک پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں غیرت مندی کا پرچم ایک بار پھر پوری شان سے لہرایا گیا اور انسانیت کی تذلیل عروج پہ نظر آئی. یوں ایک بھائی نے اپنی غیرت مندی پہ کوئی سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے اپنی گنہگار بہن کی جان لے لی جس نے کسی اجنبی سے فون پہ بات کرنے کی غلیظ حرکت کی تھی-  کیا اس سولہ سالہ لڑکی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ عمر کے جس حصے میں ہے وہاں اس سے ایسی کوئی جذباتی غلطی سرزد نہیں ہونی چاہئے تھی؟ آخر سولہ سال کی عمر میں اتنی تمیز تو ہونی چاہئے تھی کہ وہ ابنِ آدم کے ایک شاطر سپوت کے بچھائے جال سے خود کو بچا سکے- یا پھر ہم بطور والدین اپنی جوان ہوتی معصوم بیٹیوں کو اتنا اعتماد دیتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات ہم سے کھل کر کہہ سکیں- چاہے وہ کسی اجنبی کا التفات بھرا رویہ ہو یا پھر خود میں آتی جذباتی تبدیلیاں- کیا ان خطوط پہ ہم اپنی بچیوں کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ عمر کے اس نازک دور سے باآسانی گزر سکیں؟  مگر وہ کیسے کہہ سکتی  تھی کہ ہمیں تو لڑکی ذات کے ہونٹ سِلے  ہوئے اور سوچ پہ قفل پڑے ہی پسند ہیں-

یہ ہے بنتِ حوا کی حیثیت میرے معاشرے میں!
میرا معاشرہ یعنی کہ ابنِ آدم کی پناہ گاہ!

ہوش سنبھالنے کے بعد لڑکی کو پہلے دن سے یہی سننا پڑتا ہے کہ اُس کی عزت پہ کوئی آنچ نہ آئے – لڑکوں کا کیا ہے وہ تو کچھ بھی کریں کوئی فرق نہیں پڑتا-ان کی عزت اور وقار پہ حرف نہیں آتا -ہاں مگر عورت کی طرف سےکوئی ایسی ویسی بات نہ ہو کہ اُس کےباپ بھائی کی غیرت جوش کھائے اور اپنی عزت بچانے کی خاطر وہ کچھ برا کریں – توپھر یوں لگنے لگا جیسے عزت اور بےعزتی کے سارے پیمانے صرف عورت سے مشروط ہیں-

اسی دوغلے معیار اور سوچ کے تحت کہ خطرہ صرف عورت کی عزت کو لاحق ہوتا ہے ، عورت ہمیشہ بہت کمزور، بہت ادھوری اور مظلوم لگی -اور عورت ہونے کا گھٹن بھرا, کم وقعتی کا احساس ایک انجانی سی شرمندگی اور خوفزدگی میں ڈھلتا گیا- یہاں تک کہ جب کبھی زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا وقت آیا تو انجانے وساوس اور واہمات کے انبار نے عورت سے اس کے ہونے کا غرور نگل لیا- وہی عورت جو میرے اور آپ کے  معاشرے کو جنم دینے کے ساتھ تشکیل دینے کا فریضہ بھی ادا کرتی ہے,  وہی سب سے زیادہ بے بس اور محروم کردی گئی اپنے حقوق سے-

آئے روز یہاں اس کی عزت کے یا تو جنازے نکلتے ہیں یا پھر اسی عزت کے طفیل اس کا اپنا جنازہ نکلتا ہے- اس میں افسوس کی بات ہی کیا ہے اگر کبھی کسی معصوم بچی کی عصمت اتار کر اس کا بہیمانہ قتل کر کے کسی سڑک کنارے  پھینک دی جاتی ہے یا پھر غیرت مندی کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پے درپے چھریوں سے وار کر کے بیچ چوراہے بھنبھناتی مکھیوں اور انسانوں کا لبادہ اوڑھے بھیڑیوں کے بیچ لا پھینک دی جاتی ہے اور اسی کی ردا کا محافظ اس کا محرم اس کا بھائی تماش بینوں کی صف میں کھڑا اپنے ہی دئے ہوئے زخموں سے سسکتی بلکتی ہسپتال پہنچانے کی فریاد کرتی بہن کو مرتا دیکھتا ہے…

میں پوچھتی ہوں کہ اس اندھے بہرے اور گونگے سماج کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ ایک بھائی کو عزت کی رکھوالی کے اتنے پاٹ پڑھائے کہ وہ محافظ کے روپ میں ایک درندہ بن جائے – پھر کون سے اصول ہیں یہ ، جن  پہ چلتا میرا معاشرہ متعفن زدہ ہوا پڑا ہے- ہم نے عزت اور غیرت مندی کے نام پہ بہنوں سے بھائی چھین رکھے ہیں- باپ کو بیٹی مشکوک لگتی ہے تو شوہر کو بیوی پہ اعتبار نہیں رہا ہے -جس آنگن میں بھائی بہنوں کے معصوم بچپن کی چہکاریں گونجتی رہی ہیں وہاں اب خون کے دھبے تلے درد و کرب سے کرلاتی آہیں آباد کر دی ہیں- آج کئی گھرانوں میں بیٹیاں اور بہنیں صرف اس وجہ سے مار دی جاتی ہیں کہ انہوں نےاپنی رائے کا اظہار کرنے کی جرات کی ہوئی ہوتی ہے یا پھرکسی کی طرف نگاہ اٹھانے کے ناقابلِ معافی گناہ کا ارتکاب کیا ہواہوتا ہے-

ظلم!

اپنی دقیانوس سوچ کے ملبے تلے دبا کے  ہم نے مرد اور عورت دونوں پہ ظلم ڈھا رکھے ہیں -مجھے تو دونوں ہی مظلوم لگتے ہیں – وہ جومارتاہے اور وہ جو مار دی جاتی ہے- کیا کسی کی جان لینا اتنا ہی آسان فعل ہے کہ ایک بھائی اپنے ساتھ لڑتی جھگڑتی لاڈ اٹھاتی اور اٹھواتی بہن کو یوں سسکا سسکا کر مارے؟

مجھے تو گھن آتی ہے یہ سوچ کر بھی کہ ایک لڑکی  بے یارو مددگار  پڑی فریادیں کرتی اور مدد کے لئےپکارتی جان ہار بیٹھی اور اس کے ساتھ انسانیت بخود بھی بیچ چوراہے  تڑپ تڑپ کر جان سے گزر گئی- اوروہاں موجود انسان نما بے حس لاشوں  کو سوشل میڈیا پہ چلانے اور نیوز چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کا ایک زبردست موقع ہاتھ آیا تبھی تو ہر ایک کو یہی فکر تھی کہ وہ موت کے اس بہیمانہ رقص کو اچھے انداز میں کیمرے کی آنکھ میں قید کر لے تاکہ کچھ دن اس بہانے زوروشور سے بات کرنے لائق کوئی عنوان میسر ہو-

ویسے بھی ہم مردہ ضمیر والوں کو فرق بھی کیا پڑتا ہے…… ایک دو افسوس بھرے بیانات, کچھ تبصرے اور چند دوستوں کو فیس بک اور ٹویٹرپہ ٹیگ کر کےتھوڑی لفاظی اور پھر کسی نئی کہانی کا انتظار.

اور پھر حوا کی کسی اوربیٹی پہ ڈھائی گئی ایک نئی واردات!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author