سعود طارق بلغاری نے گلگت بلتستان کا نام روشن کردیا

سعود طارق بلغاری نے گلگت بلتستان کا نام روشن کردیا

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔محمد علی انجم

اقبال نے نوجوانوں کوشاہین کہا اقبال اور قائد اعظم دونوں یہی مانتے تھے کہ نوجوانون ہی کسی بھی قوم کی بگڑی سنبھال سکتے ہیں ، نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہو تے ہیں نوجوان ہی ہیں جو قوم کی تقدیر بدلنے کی نہ صرف سہی کرتے ہیں بلکہ باہمت نوجوان ملک و قوم کے ساتھ ساتھ پوری دینا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں ، ارض بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی صلاحیت اور اہلیت کے اعتبار سے کسی سے پیچھے نہیں یہاں کے نوجوانوں ایک طرف بلند و بالا پہاڑوں کا غرور خاک میں ملاتے ہیں وہی یہاں کے نوجوانوں نے علم کے میدان میں بھی فتوحات کے لیے جھنڈے گاڈ دیے ہیں سکردو کے دورہ افتادہ علاقے بلغار سے تعلق رکھنے والے نوجوان سعود طارق بھی ان نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے علم و دانش کے میدان میں فتح کے جھنڈے گاڈئے اورثابت کر دیا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ،سعود طارق نے فیڈرل بورڈ اسلام آباد کے تحت ہونے والے امتحابات میں پورے پاکستا ن میں پہلی پوزیشن حاصل کی ، وہ گلگت بلتستان کے پہلے نوجوان ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پورے پاکستا ن میں میڑک کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی ، سعود نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد کے ایک سکول سے حاصل کی ان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں والدین کی حضوصی محبت شامل ہے ان کے والدین نے ہمیشہ ہر فورم پر ان کا ساتھ دیا ، ان کی والدین کی خصوصی محبت رنگ لائی اور انہوں نے فیڈرل بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات میں پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ، ان کا کہنا تھا کہا گر انسان محبت کرے تو ہر کام کر سکتا ہے ، پہلی پوزیشن حاصل کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے اگر انسان محنت کرے تو دینا جہاں کی تمام مشکلات اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے ،مشکلوں سے لڑ کر کامیابی حاصل کرنے کا اپنا ہی الگ مزہ ہے ، سخت مشکلات کے بعد کامیابی شہید سے بھی ذیادہ میٹھی لگتی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورے پاکستان میں میڑک کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے بڑی محبت کی اور اس محبت کے ساتھ ساتھ والدین کی دعائیں بھی ان کا حوصلہ بڑھا رہی تھی ، جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن ہے تب ان کے پاوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ، سعود کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے طلباء کے اندر بڑی صلاحتیں پنہاں ہیں تاہم معیار تعلیم بہتر نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی صلاحیتیں کھل کر سامنے نہیں آتی ، سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم روز پستی کا شکار ہو تا جا رہا ہے جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں بھی سہولیات ناکافی ہونے کی وجہ سے طلباء بددلی کا شکار ہیں اگر گلگت بلتستان کے طلباء و طالبات کو بہترین سہولیات فراہم کر لی جائیں تو وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ نصاب کافی پرانا ہو چکا ہے اس میں بھی اضافے کی ضرورت ہے نصاب میں پرکٹیکل چیزوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے ، ان کی بڑی کامیابی پر ان کے والد محترم بھی بڑے خوش ہیں ، ان کا والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اللہ سے دعا ہے کہ تمام بچے ان کے بچے جیسے ہوں ، والدین اگر خصوصی توجہ دیں تو بچو ں کی چھپی ہوئی قائدانہ اور دیگر صلاحتیں سامنے آسکتی ہیں ،
ان کی عظیم کامیابی پر سماجی کارکن بھٹو کھرگرنگ کا کہنا تھا کہ سعود نے اس عظیم کامیابی کے زریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روش کر دیا ان کی محنت رنگ لائی حکومت کی یہ زمہ داری ہے کہ ایسے قابل زہین اور فطین بچوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی مناسب سرپرستی کی جائے حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ ابتری کا شکار ہو تا جا رہا ہے سکولوں میں مناسب تدریسی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے طلباء کی صلاحتیں مانند پڑتی جا رہی ہیں حکومت کی پہلی ترجیح تعلیم اور صحت ہونی چاہیے لیکن حکومت ان دونوں شعبوں کی طرف مناسب توجہ نہیں دے رہی ،انہوں نے مزید کہا کہ سعود جیسے عظیم طالب علم کی عظیم کامیابی پر صوبائی حکومت کو یہ تک توفیق نہیں ہوئی کہ سعود کی مناسب حوصلہ افزائی کی جائے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سے ملنے گلگت آئے لیکن وزیر اعلی ٰ نے گلگت میں موجود ہوتے ہوئے بھی ان کی ملاقات کرنا گورا نہیں کی ، اگر وزیر اعلی ٰ ان سے مل کر انہیں شاباشی کے دو بول بول دیتے تو شاہد ان کا حوصلہ مزید جواں ہو جاتا لیکن افسوس حکومتی اہل کاروں کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں کو تعلیم جیسی عظیم شے کے ساتھ ساتھ بڑے طالب علموں کا کوئی خیال نہیں ، اس طرح کے اقدامات سے طلباء مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہے کہ وہ اس عظیم سپوت کی کامیابی کا خیال کرتے ہوئے ان کے نام سے کوئی سکول تعمیر کرے ، تاکہ دیگر طلباء بھی اس اقدام کی وجہ سے تعلیم کی طرف اپنا رحجان بڑھا سکیں گے ، ان کے نام سے مستحق طلباء کے کوئی سکالر شب پروگرام بھی شروع کیا جائے ، انہوں نے مزید کہا کہ ہم سعود کی کامیابی پر اپنی تنظیم سول سوسائٹی کی طرف سے خصوصی ایواڈ بھی دینگے ۔

سعود کا کہنا تھا کہ یہ ان کی پہلی منرل ہے وہ ہر کلاس میں پہلی پوزیشن پر اپنا نام دیکھنا چاہتے ہیں وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ، ۔۔ اکثر لوگ کامیابی کے بعد ملک و قوم کی خدمت کا دعوا تو کرتے ہیں لیکن کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنا وعدہ بھول جاتے ہیں لیکن میں نے اپنی پاک سر زمین سے جو وعدہ کیا تھا اُسے کسی صورت بھول نہیں سکتا ،، سعود پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے بھی شوقین ہیں ۔۔ لیکن ان کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ کھیل کے وقت کھیلتے ہیں اور پڑھائی کے وقت پڑھائی کرتے ہیں ۔۔ سعود اپنے والدین کے لاڈلے ہیں ۔۔ لاڈے اس لیے کہ سعود نے ہمیشہ ہی والدین کا کہنا مانا ہے اور انہیں کی دی ہوئی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔