جب تک چترال کا ہر بچہ زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہوتا، پسماندگی اور غربت کو شکست نہیں دی جاسکتی، ایس ڈی ای او محمود غزنوی

جب تک چترال کا ہر بچہ زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہوتا، پسماندگی اور غربت کو شکست نہیں دی جاسکتی، ایس ڈی ای او محمود غزنوی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) تعلیم غربت کے خاتمے کا واحد ذریعہ اور ترقی و خوشحالی کاضامن ہے ۔ جب تک چترال کا ہر بچہ زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہو گا ۔ پسماندگی اور غربت کو شکست نہیں دی جاسکتی ، ان خیالات کا اظہار ایس ڈی ای او چترال محمود غزنوی نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے پروگرام فار پاورٹی ریڈکشن (پی پی آر ) کے زیر اہتمام گورنمنٹ ہائی سکول ایون میں داخلہ مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس میں پرنسپل وقار احمد صدر محفل تھے ۔ جبکہ دیگر مہمانوں میں سابق ماہر تعلیم اور ممبر اے وی ڈی پی قاضی محمد عابد ،پی پی آر ایجوکیشن آفیسر جلال ولی ، ممبر اے وی ڈی پی مہترجو عنایت الرحمن کے علاوہ علاقائی معززین سکول کے اساتذہ اور طلباء بڑی تعداد میں شامل تھے ۔ اس پروگرام کا انعقاد سکول انتظامیہ ، مقامی کمیونٹی اور ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام ( اے وی ڈی پی ) نے مل کر کیا تھا۔ ایس ڈی ای او نے کہا ۔کہ علم روشنی اور بے علمی جہالت ہے ۔ اس لئے بے علمی کے خلاف جہاد کرتے ہوئے ہمیں اپنے بچوں کو سو فیصد تعلیمی اداروں میں داخل کرنے کی ضرورت ہے ۔ا نہوں نے کہا ،گو کہ چترال صوبے کے پچیس اضلاع میں تعلیم کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے ۔ پھر بھی چترال کے سولہ فیصد بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں ۔ اور اُن کی تعلیم سے محرومی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے ۔ جس پر اجتماعی کوششوں سے قابو پانے کیلئے جدو جہد کیا جانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا  کہ آج ہمیں تعلیم کے میدان میں دو قسم کے مسائل کا سامنا ہے ۔ سو فیصد انرولمنٹ اور معیاری تعلیم کی فراہمی ۔ یہ اہداف حاصل کرکے ہم چترال میں ترقی کے منازل طے کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سکولوں کو گذشتہ سیلاب اور زلزلے کے بعد بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے تاہم صوبائی حکومت تعلیم پر انتہائی توجہ دے رہی ہے ۔ اور آیندہپانچ سالوں کے دوران سکولوں کے تمام مسائل حل کئے جائیں گے ۔ سابق اے ڈی او چترال قاضی محمد عابد نے کہا ،کہ والدین اور اساتذہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ طلباء کی بہتر تعلیم ان کی باہمی قربت اور رابطے سے ہی ممکن ہے ۔ اس لئے چاہیے کہ والدین سکولوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک سٹوڈنٹ کیلئے علم اور اخلاق دونوں اہمیت کی حامل ہیں ۔ اخلاق سے عاری علم بے راہ روی کو فروغ دیتا ہے ۔انہوں پی پی آر پراجیکٹ کے تحت داخلہ مہم کے اقدام کو قابل تحسین قرار دیا ،اور اس حوالے سے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ پی پی آر ایجوکیشن آفیسر اے کے آر ایس پی جلال ولی نے اپنے خطاب میں کہا ، کہ خیبر پختونخوا حکومت فروغ تعلیم کیلئے بھر پور کو شش کر رہا ہے ۔ اور یہ پروگرام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ، اے کے آر ایس پی کو گورنمنٹ کا فنڈ ملا ہے ۔ جس کے تحت سکولوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، انہوں نے کہا ، کہ فی الحال دس سکولوں میں پی پی آر پروگرام کے تحت کام کیا جا رہا ہے ، جس میں انرولمنٹ بڑھانے ، اساتذہ کی ٹریننگ اور سکولوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوششیں شامل ہیں ۔ تقریب کے آخر میں مہمانوں اساتذہ اور طلباء نے مشترکہ داخلہ مہم ریلی نکالی ، جس میں بچوں نے داخلہ مہم اور تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بینرز اور پلے کارڈ زاُٹھا رکھے تھے ۔ ریلی ہائی سکول ایون سے جنالی اور واپس آکر اختتام پذیر ہوا ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔