ہارٹ اٹیک

ہارٹ اٹیک

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد جاوید حیات

روز دسیوں بار خبر آتی ہے کہ فلان حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوئے۔فلان کا ہارٹ اٹیک ہوا۔۔مگر میں ہوں کہ دن میں بیسیوں بار میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔حرکت قلب بند ہوتی ہے پھر حرکت واپس آتی ہے۔یہ کمبخت دل پھر دھڑکنے لگتا ہے میں پھر سے انگھڑائی لے کے اٹھتاہوں ۔۔پھر ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔میرا والا یہ د ل نہیں پتھر ہے۔۔میں راستے سے جارہا ہوتا ہوں ۔راستے میں ایک پھول سا مگر مرجھایا ہوا بچہ ملتا ہے۔کپڑوں کے چھیتڑے نکلے ہوئے ہوتے ہیں ۔جوتے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔اپنے ابو کا ہاتھ پکڑا ہو ا ہوتا ہے۔حیران ہے زندگی کی بوقلمونیوں کے آگے سراپا سوال ہے۔۔۔سراپا سوال ہے کہ اس بڑی کائنات میں ایک جوڑا نیا جوتا اور ایک جوڑا نیا کپڑا اس کے حصے میں نہیں آئے گا کیا ؟۔۔اور اس کا ابو محروم کیوں ہے؟اس کا بڑا اچھا ابو ہے۔۔دیکھ کر میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔میں دھڑام سے گرتا ہوں ۔۔ہوش میں آتا ہوں حرکت پھر باقاعدہ ہوتی ہے۔چند قدم آگے گیا ہوا ہوتا ہوں ۔سامنے سے چمکتی ہوئی گاڑی آتی ہے۔اس کی فرنٹ سیٹ پہ ایک کالا کلوٹابچہ بیٹھا ہوا ہو تا ہے۔نہ آنکھوں میں معصومیت نہ چہرے پہ دلکشی۔۔پلکوں سے فرغونیٹ چھلکتی ہے۔سوچ رہا ہے کہ اس کے علاوہ راہ چلتے سب کوئی اور مخلوق ہیں۔ ۔گاڑی میری ہے۔ راستہ میرا ہے۔یہ لوگ کون لوگ؟۔۔ بس صرف میرے ابو ہیں ۔میری آمی کہتی ہے۔۔۔

پہلا بچہ یاد آتا ہے تو میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔خدا کی تقسیم پہ سوچتا ہوں گرتا ہوں پھر اٹھتا ہوں ۔۔بازار میں ایک جاڑو دے رہا ہے ۔ایک اپنے شوکیس کے سامنے اٹھتی گردو غبار سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے منہ پہ ٹیشو پیپر رکھے دیکھ رہا ہے۔آگے ایک چاند سڑک کنارے بیٹھے بوٹ پالش کر رہا ہے۔زرق برق پوشاک والے ادھر ادھر آجا رہے ہیں ۔یہ لباس نہیں صرف پاؤں میں جوتے دیکھتا ہے۔بغیر پالش کے جوتے دیکھ کر اس کا دل دھک دھک کرتا ہے۔سراپا سوال ہے ۔۔لو صاحب لاؤ چمکا دوں ۔۔۔میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے ا س لئے کہ اس کی عمر کے بچے ابھی اپنے سکولوں میں پہنچ گئے ہونگے۔گرتا ہوں پھر اٹھتا ہوں تو وزیر تعلیم عاطف صاحب کو ڈھیر ساری دعا دیتا ہوں ۔یا اللہ وزیر تعلیم کو اتنی ہمت دے کہ تعلیم عام کر سکے۔۔۔مجھے ہسپتال جانا ہے کیچولٹی کے سامنے لوگوں کو فرش پہ بیٹھے دیکھتا ہوں وارڈ میں جاتا ہوں ۔گندگی دیکھ کر ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔پھر سنبھلتا ہوں تو سب کو گلا کرتا ہوں ہم اپنے گھروں میں واش روم کا خیال رکھتے ہیں یہاں پر کیوں نہیں ۔۔مہذب قوموں کے ہسپتال سب سے زیادہ صاف ہوتے ہیں ۔۔واپسی پر ایک تھانیدار سامنے سے آتا ہے۔میں بڑے خلوص سے اس کو سلام کرتا ہوں ۔وہ سلام کا جواب نہیں دیتا ۔ پاس سے دھرانا گذرتا ہے۔میرے پیچھے سے ایک پیسہ دار ٹھیکہ دار آرہا ہوتا ہے۔تھانیدار اس کو سلوٹ کرتا ہے قہقہے بلند ہوتے ہیں ۔اپنے سلام اور احترام کی بے قدری پر میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے ۔گرتا ہوں پھر اٹھتا ہوں ۔۔۔پھر عدالت کچھیریاں آتی ہیں ۔۔ایک گواہ گواہی چھپارہا ہے۔ایک وکیل اپنی طرف سے دلائیل دے رہا ہے۔۔ایک بیان بدل رہا ہے۔۔ایک سند میں ترمیم کر رہا ہے۔۔ایک انصاف کے لئے گڑگڑا رہا ہے۔قاضی کیا کرے وکیل کیا کرے سب کی نیتیں بدل گئی ہیں ۔۔۔میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔سکول کی بڑی گیٹ پہ آتا ہوں ایک بڑا عوامی لیڈر حامیوں کے ساتھ کھڑا ہے گیٹ بند ہے ۔میں درمیان میں سوال کرتا ہوں سر یہ سٹریٹ پالیٹس کیا ہے ؟۔جواب خود دیتاہوں سر یہ عبادت ہے ۔۔میرا تعارف ہوتا ہے جاتے جاتے لیڈر میرا نام غلط بولتا ہے ۔لیڈر دوسرے لمحے سب بھولتا ہے ۔مجھے ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا البتہ ہنسی آتی ہے ۔۔قوم کا لیڈر حافظے کا تیز ہے۔۔۔سکول میں داخل ہوتا ہوں ،بچے شور مچارہے ہیں استاد قہوہ پی رہا ہے۔۔ مجھے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔باہر نکلتا ہوں سب لوگ پولو گراونڈ کی طرف جا رہے ہیں ۔شہنائیاں ہیں۔کھیل تماشا ہے۔آج بندے نے اپنی دیہاڑی چھوڑی ہے۔اس کے پیچھے بچے فیس مانگ رہے ہیں ۔بیوی باورچی خانے میں سر پکڑ کے بیٹھی ہے ۔نلکے میں پانی بند ہے برتینیں سامنے پڑی ہیں ۔بجلی کا ولٹیج زیرو ہے۔ندی میں طغیانی ہے نہریں بن نہیں پا رہیں ۔فصلیں سوکھ گئی ہیں ۔مرد کھیل تماشے میں ہیں غم غلط کرنا بھی بڑا فن ہے مجھے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔مگر مرتا نہیں ہوں ۔پھر سنبھلتا ہو ں عجیب کشمکش ہے کبھی سوزو ساز رومی ہے کبھی پیچ و تاب رازی ہے۔۔الجھن ہے۔ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے زندگی ہم سے سنبھلی نہیں جا سکتی۔اس کی سرگر میاں ،جدوجہد ، مایوسیاں ،مجبوریاں ،بے بسیاں ،سب ہارٹ اٹیک کے سبب ہیں ۔بس مجھے روز دسیوں بار ہا رٹ اٹیک ہوتا ہے۔۔بچتا ہوں لوگ غلط کہتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک سے لوگ مرتے ہیں ۔ہارٹ اٹیک سے لوگ مرتے نہیں مر مر کے جیتے ہیں ۔جو موت سے بھی مشکل ہے۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author