سیاسی حکومتیں اوربلدیاتی انتخابات

سیاسی حکومتیں اوربلدیاتی انتخابات

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کو بنیادی نرسری یاتربیت گاہ کہا جاتا ہے اور کسی بھی جمہوری نظام کے استحکام اور بقا کے لئے بلدیاتی اداروں کا وجود اور اس کا تسلسل ضروری ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے ۔ بلدیاتی اداروں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے پاکستان میں جمہوری ادوار میں ہی بلدیاتی اداروں کو فعال نہیں ہونے دیاگیا اور پارلیمانی اداروں کے نمائندوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ اختیارات ان تک ہی محدود رہیں اور اسی لئے بلدیاتی انتخابات کا تسلسل باقی نہیں رہ سکا ۔اس بار بھی عدالت عظمیٰ مداخلت نہ کرتی تو شاید سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے لئے تیار نہ تھیں ۔عدالتی حکم پر 2014ء میں بلوچستان اور2015ء میں خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہوا اگرچہ خیبر پختونخوا میں اختیارات کی جنگ اب بھی جاری ہے ۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی حکومتیں بھی شاید عدالتی حکم کے منتظر ہیں ،کیونکہ ان حکومتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے ضمن میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا ابتدائی مرحلہ2016ء کے شروع میں مکمل ہونے کے بعد بھی اب تک بلدیاتی ادارے نہ صرف فعال نہ ہوسکے ہیں بلکہ مزید تاخیر کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔

 طریقہ انتخاب کے حوالے پیپلزپارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر کے مابین عدالتی تنازع کے باعث سندھ کے بلدیاتی اداروں کے آخری دومراحل مؤخر ہوچکے تھے ،تاہم عدالتی فیصلے کے بعد یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی حدتک بلدیاتی اداروں کا انتخابی عمل 11مئی 2016ء کو مکمل(سوائے88یونین کونسلوں کے) ہوا ہے ۔11مئی کو صوبے کی1647یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی8235مخصوص نشستوں کے لئے پولنگ ہوئی اور 9882منتخب نمائندوں نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے مخصوص نشستوں کے لئے انتخاب کیا۔ان نشستوں میں3294خواتین ، 1647نوجوانوں،1647کسان مزدوراور1647نشستیں اقلیت کی ہیں (یونین کمیٹی اور یونین کونسل میں خواتین کی2 ،نوجوان، کسان مزدوراور اقلیت کی ایک ایک مخصوص نشست ہے)۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق تقریباً50فیصد نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ ہوچکے تھے تاہم باقی 50فیصد نشستوں کے لئے 10ہزار سے زائدامیدواروں کے مابین مقابلہ ہوا۔سندھ میں یونین کمیٹیوں او یونین کونسلوں کی تعداد1735ہے ،جن میں یونین کونسلیں 1175اور 560یونین کمیٹیاں ہیں ۔88یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں میں پولنگ24مئی کو ہوگئی ۔سندھ میں یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی حدتک بلدیاتی اداروں کا مرحلہ تو مکمل ہوا ہے مگر اس کے باوجود یہ ادارے شاید فعال نہ ہوسکیں کیونکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی ،ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں ، ضلع کونسلوں ، میونسپل کارپوریشنوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں میں خواتین کی33فیصد، نوجوانوں کی 5فیصد، کسان مزدور کی5فیصداور اقلیت کی 5فیصدمخصوص نشستوں کے انتخاب کا عمل نہ صرف باقی ہے بلکہ حکمرانوں کی بد نیتی کی وجہ سے اس میں مزید تاخیرکا امکان ہے ۔

اگرچہ سندھ میں ان بڑے بلدیاتی اداروں کی 2136 نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل11مئی2016ء کو مکمل ہوگیا ہے مگر عدالتی فیصلے کے نتیجے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی ،ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں ، ضلع کونسلوں ، میونسپل کارپوریشنوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں کاطریقہ انتخاب تبدیل ہونے کی وجہ سے ایک بحران پیدا ہوا ہے۔سپریم کورٹ میں پیپلزپارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر نے کہاکہ ہم نے مشاورت سے یہ طے کیا ہے کہ مذکورہ بالا بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں کا انتخاب اب رائے شماری کی بجائے متناسب نمائندگی کے تحت ہوگا اور عدالت نے بھی اس کی اجازت دی ۔اس موقع پر عدالت عظمیٰ سمیت کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ متناسب نمائندگی میں تو کوٹہ جماعتوں کو ملے گا ایسے میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والوں کے کوٹے کا کیا ہوگا ۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ میں بلدیاتی اداروں کے 13ہزار سے زائد منتخب نمائندوں میں1500کے قریب آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے اب تک صرف 350نمائندے مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ۔ قوائد کے مطابق سرکاری نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے 7روز کے اندر آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں یا آزاد حیثیت کو برقرار رکھتے ہیں ۔آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے بیشتر نمائندوں نے اس لئے آزاد حیثیت کو برقرار رکھا کہ مخصوص نشستوں کے لئے وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب بآسانی راے شماری کے ذریعے کرسکتے تھے مگر عدالتی فیصلے میں ان کا یہ حق ان سے چھین لیاگیا ہے ۔ اس لئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی ،ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں ، ضلع کونسلوں ، میونسپل کارپوریشنوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں کی مخصوص نشستوں کے لئے آزاد حیثیت میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے سیکڑوں امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوگئے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق صوبے میں 8میونسپل کارپوریشنوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں میں انتخابا ت میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا تعلق آزاد گروپوں سے ہے ،جبکہ تین درجن کے قریب ضلع کونسلوں ، میونسپل کارپوریشنوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں میں آزاد گروپوں کو واضح اکثریت حاصل یا ون ٹو ون مقابلہ ہے ۔تازہ طریقہ انتخاب میں اولذکر 8اداروں میں کسی جماعت کا نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے مخصوص نشستوں کا انتخاب نہ ہوسکے گا اور یوں ایوان مکمل نہ ہونے پر بحران پیدا ہوگا۔ثانی الذکر بلدیاتی اداروں میں اقلیت والی جماعتوں کو بآسانی اکثریت مل جائے گی اور آزاد گروپ کوٹے سے محروم ہوگا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ قانون میں ترمیم کرکے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والوں کو کسی جماعت کے انتخاب کے لئے وقت دیتی مگر ایسا نہیں کیاگیا ۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق ترامیم کی ہے اور اگر آزاد منتخب نمائندوں کے حوالے سے قانون میں ترمیم کرتی توتوہین عدالت ہوجاتی اس لئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ۔دوسری جانب آزاد گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر عدالت عظمی ٰ کے فیصلے کے نتیجے میں طریقہ انتخاب تبدیل ہوا ہے تو ہمیں کسی جماعت میں شمولیت کا موقع ملنا چائے تھا مگر صوبائی حکومت نے اپنے مفاد کے لئے ایسا نہیں کیا اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ، کیونکہ پیپلزپارٹی ضلع بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا گروپ کو نیچا دکھانے اور بدین پر کنٹرول کے لئے سیکڑوں آزاد منتخب نمائندوں کی حق تلفی کر رہی ہے ۔اسی طرح کے جذبات کا اظہار مسلم لیگ(ف) کے شہر یار خان مہر نے بھی کیا ہے ۔

 ذرائع کے مطابق اب تک اس ضمن میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک درجن سے زائد انفرادی اور اجتماعی درخواستیں دائر کی جاچکی ہیں اور امکان یہی ہے کہ ان درخواستوں کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی کی99 ،کراچی کی6 ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں کی104 ،صوبے کی24 ضلع کونسلوں کی563،مختلف اضلاع میں9میونسپل کارپوریشنوں کی173 ،سندھ بھر میں36میونسپل کمیٹیوں کی421 اور 148ٹاؤن کمیٹیوں کی776مخصوص نشستوں کا انتخابی عمل ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہوگا ،جس کی وجہ سے مئیر، ڈپٹی میئر ، چیئر مینوں اور وائس چیئرمینوں کا انتخابی اور یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی فعالیت کا عمل مزید تاخیر شکار ہوگااور اس کا حتمی فیصلہ ایک مرتبہ پھر عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ہی ہوگا۔یاد رہے کہ سندھ میں یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے سوا باقی تمام بلدیاتی اداروں میں خواتین کی33فیصد، نوجوانوں کی 5فیصد، کسان مزدور کی5فیصداور اقلیت کی 5فیصد نشستیں مختص ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔