تھور، ہربن حدود تنازعہ، کشیدگی ختم کرنے کے لئے قاضی نثار کی قیادت میں وفد ہربن پہنچ گیا

تھور، ہربن حدود تنازعہ، کشیدگی ختم کرنے کے لئے قاضی نثار کی قیادت میں وفد ہربن پہنچ گیا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)تھور ہربن حدود تنازعے کے بعد پیدا شدہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے عمائدین تھور کا وفد جذبہ خیر سگالی کے تحت قاضی نثار کی قیادت میں ہربن پہنچ گیا۔ہربن کے عوام کی جانب سے زبردست استقبال کیا گیا ۔تھور کے عمائدین اپنے ہمراہ علاقائی روایات کے مطابق دس بھینسیں بھی لے گئے ہیں۔تھور کے عمائدین کا وفد آج رات ہربن کوٹ میں قیام کرے گا۔اور ہربن کے عوام اور عمائدین سے کشیدگی کے خاتمے اور ہربن تھور حدود تنازعے کے خاتمے کے لئے مؤثر لائحہ عمل طے کرینگے۔امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تھور کے نمائندہ وفد کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے پیغام پر دونوں قبائل کے مابین تمام تنازعات ختم ہونگے۔اور دونوں فریقین میں بہتر تعلقات بحال ہونگے۔دونوں قبائل میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے اعلان اور پھر زیر آب آنیوالی اراضی و املاک کے معاوضے ادا کرنے کے حکومتی اعلان کے بعد کوہستان کے علاقے ہربن کے عوام نے دیامر بھاشا ڈیم کے ہیڈ ورک ایریا کی سات کلومیٹر کے ایریے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دیا تھا۔جس پر تھور کے عوام نے مذاحمت کی اور ہربن کے عوام کے روئے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

بعد ازاں دونوں قبائل کے درمیان متنازعہ سات کلومیٹر کے ایریے میں واقع ایک چراگاہ سے ایک دوسروں کی مال مویشی چرانے اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچانے پر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔جس کے بعد دونوں قبائل فروری 2014میں ایکدوسروں کے خلاف متنازعہ ایریا میں مورچہ زن ہوئے۔اور ایکدوسروں پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔مسلح تصادم کے نتیجے میں دونوں جانب سے چار افراد جان کی بازی بھی ہار گئے۔جن میں سے تین کا تعلق ہربن اور ایک کا تعلق تھور سے تھا۔دونوں قبائل کے مابین تصادم کے خاتمے کے لئے مقامی علماء و عمائدین پر مشتمل جرگے نے سیز فائر کروادی۔اور حد ود کے تصفیے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ جج پر مشتمل ایک رکنی کمیشن تشکیل دیدی گئی۔ایک رکنی کمیشن نے دونوں قبائل کے بیانات اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔مگر دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس کمیشن کا فیصلہ منظر عام پر نہیں آسکا۔وقتاً فوقتاً ہربن کے عوام کی جانب سے کمیشن کے فیصلے کو منظر عام پر لانے کے لئے احتجاج اور دھرنے دئے جاتے رہے ۔مگر دونوں اضلاع کی انتظامیہ جرگے کی مدد سے احتجاج کو ختم کرواتی رہی۔دوسری جانب گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے کوہستان ہربن کے عوام کے مطالبے کے پیش نظر متنازعہ ایریا بصری میں قائم اپنی چیک پوسٹ کو ختم کر دیا۔اور متنازعہ ایریا میں رینجرز تعینات کر دئے گئے۔ایک ہفتہ قبل ہربن کے عوام نے دوبارہ تحریک کا آغاز کر دیا۔اور کوہستان کے علاقے شتیال میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا جاری رکھا ہوا تھا۔جس کے بعد تھور کے عوام نے ہربن کے عوام سے صلح کے لئے پیشرفت کی ہے۔اب بال ہربن کے عوام کے کورٹ میں ہے۔امید ہے کہ ہربن کے عوام بھی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کشیدگی کا خاتمہ کرینگے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مقیم نامی شخص کی کوششوں سے دونوں قبائل کے مابین برف پگھلنے لگی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔