صوبائی پبلک سروس کمیشن اور دوسرے مقابلوں کے امتحان میں چترال کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

صوبائی پبلک سروس کمیشن اور دوسرے مقابلوں کے امتحان میں چترال کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال کے نوجوان قابلیت اور تعلیمی میعار میں صوبے کے دوسرے اضلاع کے نوجوانوں سے کم نہیں ہیں۔ چترال تعلیم کے میدان میں صوبے میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔لیکن پبلک سروس کمیشن اور دوسرے مقابلے کے امتحان میں چترالی نوجوان بہترین نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود تعیناتی کے مرحلے میں اُن کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔جس سے چترال کے نوجوانوں میں احساس محرومی بڑھ رہی ہے۔ارباب اختیار کو مستقبل میں اس احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔مسلم لیگ(ن) کے پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا کہ حالیہ پبلک پراسیکیوٹر ،سول ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کے امتحان میں چترالی نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا۔ان تعیناتیوں میں چترال کو چھوڑ کر ہر ضلع کے امیدواروں کو تعینات کیا گیا۔اس طرح دوسرے محکموں میں بھی چترالی نوجوانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔اُنہوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں اسمبلی میں آواز اُٹھائی جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔