ایک فرشی نشست

ایک فرشی نشست

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر محمد جاوید حیات

اس امت کی تربیت میں اس بات پر بہت زور دیا گیا تھا۔کہ ’’جلد سو جاؤ اور جلد اٹھو‘‘۔۔سحر خیزی قوموں کی تعمیر میں تریاق کا کام کرتی ہے ۔اس امت کی روٹین پر تبصیرہ کر تے ہوئے ایک مرد قلندر نے کہا تھا ۔

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستا ن وجود
ہوتی ہے بندہ مومن کی اذان سے پیدا۔

ملک کے ’’بڑے ‘‘ حسب عادت آج دیر سے سوئے۔کوئی دعوت پر تھا۔کوئی فیملی کے ساتھ باہر کھانے پہ تھا۔ کوئی مٹر گشت پہ تھا ۔کوئی مہمانوں کے ساتھ تھا۔کوئی ٹنشن دور کرنے کے واسطے رنگین محفل سجائی تھی۔خیر رات کے پچھلے پہر ان کی آنکھ لگی۔۔نیند میں خواب ۔۔خواب میں عجیب مناظر ۔۔ایک بڑی کانفرنس۔۔ملک کی تقدیر کے فیصلے۔۔اشتہار ،دعوت نامے،اعلانات۔۔۔۔سب ’’بڑے ‘‘حیران تھے کہ ان کو دعوت نامہ۔۔۔نہ انتظامات سے باخبر۔۔نہ نوٹس میں کوئی بات۔۔۔نہ پتہ چل رہا تھا کہ منتظم کون؟۔۔لوگ جس طرف جا رہے تھے سب اس طرف روانہ ہوئے۔۔راستے میں ان کے ساتھی ملتے گئے۔انتظامیہ،مقننہ،عدلیہ کے بڑے بڑے لوگ۔۔بڑے بڑے سر، جسم فربہ،تند نکالے اٹھلاتے،مگر کوئی پروٹوکول نہیں ۔کوئی گن مین نہیں۔کوئی گاڑی نہیں ۔کوئی زندہ باد، کوئی سائرن ،کوئی سر ہلا ،ہاتھ جھولا نہیں۔ سب خاموشی سے ایک طرف جا رہے ہیں ہوا کے ہلکے جھونکے ہیں ۔۔ ’’بڑے بڑوں ‘‘کو اضطراب سا کیوں ہے ؟پتہ نہیں ۔۔ایک بڑی عمارت ہے۔درمیان میں ایک بڑ ا کمرہ ہے ۔کمرے میں فرشی نشست ہے۔۔ان کو دروازے میں روکا جاتا ہے ۔ان سے کہا جاتا ہے ’’۔دیر سے اٹھنے والو۔تم نے وقت ضائع کیا ہے۔اپنا وقت بھی قوم کا وقت بھی۔۔اس قوم کا وقت صبح 3بجکر 25 منٹ کو شروع ہوتا ہے۔جب پہلی اذان گونجتی ہے ۔تم لوگ 10 بجے دوپہر اٹھے تمہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ۔نہ اس میٹنگ میں بیٹھنے کی اجازت ہے۔ ہاں باہر سے کاروائی دیکھ سکتے ہو۔۔۔داروغہ سے پوچھا گیا یہ کیسی میٹنگ ہے۔۔۔وہ چمکتی کرسیاں ، وہ مائیک ،وہ ائیرکنڈیشنڈ ہال،وہ خدمتگار،وہ مشروباتوماکلات،وہ شرکا کا انتظار،وہ ایجنڈا،وہ کاروائیاں وہ لمبی چوڑی تقریریں ،وہ خدشات وہ سب کچھ نظر نہیں آتے ۔داروغہ نے ہنس کر کہا۔ْیہ اس قوم کی روایت ہے ۔یہ مٹی سے اٹھی ہے،مٹی میں بیٹھتی ہے۔مٹی میں سوئے گی۔اس کے قران میں ہے کہ اس مٹی سے اُٹھائی جائے گی۔۔اس کی تقدیر مسجد نبوی ﷺکی کچی فرش پہ بنی۔۔اس کی تقدیر کا فیصلہ کھبی درخت کے سایئے میں ،کبھی ٹیلے چٹان پر،کبھی ندی کنارے گھاس پر بیٹھ کر کئے جاتے۔۔ان کے فیصلے زود عمل ہوتے۔لمبی چوڑی تقریر نہ ہوتی۔۔خدشات نہیں ہوتیں تھیں ۔اللہ پر بھروسہ حق اور انصاف معیار ہوتا تھا تو خدشات خودبخود غائب ہوتی تھیں ۔’’بڑے ‘‘سب دروازے پہ کھڑے ہیں ۔میٹنگ میں وہ سیدھے سادھے لوگ ہیں ۔۔۔لوہار ہے،سونار ہے،مزدور ہے ،مخلص چپڑاسی ہے۔سرحدوں کا محافظ ہے۔مولانا ہے۔۔لیکن ان سب کا نہ کوئی بنک بیلنس ہے۔نہ جائیداد ہے نہ کمپنیاں ہیں ۔۔یہ تو غریب ترین گمنام ترین لوگ ہیں ۔مگر یہ محنتی جفاکش اور فرض شناس ضرور ہیں ۔وہ خود دار اور خاموش ہوتے تھے اس لئے وہ گمنام رہتے تھے۔۔۔۔کاروائی کا آغاز ہوتا ہے ۔تلاوت کلام مجید ہے ’’خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپنی حالت بدلنے کی جستجو نہ ہو ۔۔ کاروائی شروع ہوتی ہے ایک ایک پوائنٹ ہیں ۔

کرپشن؛فیصلہ ہوتا ہے ختم کرنے کا آغاز کرو مگر شروع اپنی ذات سے کرو ۔۔۔جس پر معمولی بدعنوانی بھی ثابت ہوگی اس کو نہیں بخشا جائے گا ۔۔۔فرض شناسی؛ہر شخص اپنے فرائض سے متعلق جواب دہ ہوگا۔کوتاہی پہ بچ نہیں سکتا ۔۔حقوق؛کسی کا معمو لی حق بھی ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ہر کسی کو اس کا حق ملے گا ۔۔قانون کی حکمرانی؛قانون کی حکمرانی ہوگی۔انخراف کرنے پر کوئی بچ نہیں سکے گا ۔عدالت؛عدالت میں عدل ہو گا ۔بس عدل ہو گا ۔ہر ایک کو اپنی حیثیت واضح کرنی ہوگی۔ہر ایک بس قانون کے سامنے جوابدہ ہوگا ۔قوم کا پیسہ قوم کی امانت ہے ۔ایک روپیہ بھی ضائع نہیں کیا جائے گا ۔ضائع کرنے پر ضا ئع کرنے والے کو اپنے سب کچھ سے ہاتھ دھونا پڑھے گا ۔کوئی کسی کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔فحاشی اور عریانی کے خلاف ڈٹنا پڑے گا ۔ساکھ،وقار ،شرم و حیا ،تہذیب اور عزت نفس کی حفاظت ہو گی۔ یہی مٹی سب سے محترم تصور کی جائے گی۔سادگی ہوگی۔کام زیادہ ہوگا ۔محنت سب کی پہچان ہوگی۔اس قوم کو غیرت و ایمان کا درس دیا جائے گا ۔اس کو خودی کا سبق پڑھایا جائے گا ۔ کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا ۔استاد استاد رہے گا ۔۔ڈاکٹر ڈاکٹر رہے گا ۔سیاست دان کے لئے تعلیم ، کردار، اخلاص،ایمان ،خدمت اور دیانت داری لازمی قرار دی جائے گی ۔بے تعلیم نمایئندہ نہیں ہو سکے گا ،اس سر زمین کا پرچم بلند رہے گا ۔پہچان نمایان ہوگی ۔تعارف مثالی ہوگا۔ ۔ کانفرس میں چائے نہیں آئی کسی کے ہاتھ میں فون نہیں تھا ۔ سب توجہ سے سن رہے تھے۔سب کے چہروں پہ عزم تھا ۔میٹنگ مختصر تھی کانفرنس سیدھی سادھی تھی ۔ایک پائنٹ بتا یا جا تا پھر عمل کرنے کا عزم کیا جاتا ۔۔آخر میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے گئے ۔۔اے اللہ ہماری مدد فرما ۔اے اللہ ہمیں حق کی پہچان میں مدد دے ۔اے اللہ ہمیں قوم کی امانت کو سنبھالنے میں مدد فرما ۔اے اللہ ہر غلط ،ہر ناجائز ، ہر ضرر سے بچا ۔۔اے اللہ ہمیں دیانت داری سے خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔۔اے اللہ ہمیں حلال رزق عطا فرما۔ہمیں اس مٹی اس قوم سے سچی محبت کی توفیق عطا فرما ۔اے اللہ ہمیں دشمنوں کے شر سے بچا ۔ہمیں عزم و ہمت دے ۔ہمیں زندوں میں شمار کر ۔ہمیں زندہ جاوید بنا ۔ہمارے معاشرے سے ہر برائی دور فرما ۔ہمیں صاف شفاف زندگی عطا کر ۔۔ ہمیں قوم و ملک کا درست محافظ اور سچا خادم بنا ۔اے اللہ ہمیں ہمت دے ۔اے اللہ ہمیں حوصلہ دے ۔۔ کانفرنس ختم ہوئی ۔ دروازے پہ جو لوگ تھے وہ پسینے میں شرابور ہو گئے ۔۔ کانفرنس میں موجود لوگ ایسے اُٹھے جیسے شیر کچھار سے اٹھتا ہے ۔۔۔۔پھر سب نیند سے یک لخت جاگے دیکھا کہ نصف النہار ہے اور سورج ان پہ ہنس رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔