جناب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط

جناب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مضمون ! واد ی چپورسن گوجال ضلع ہنزہ میں تعطل کا شکار کام 1۔بھرتی روڈ قُلی 2۔ٹرک ایبل روڈ کی تعمیر 3۔ بارڈر لیویز کی بھرتی۔

جنابِ عالی! نہایت ہی مودبانہ اور مدد کی امید کے ساتھ ایک بار پھر ہم آپکی توجہ ضلع ہنزہ کے دور دراز وادی چپورسن عوام کے دیرینہ کے مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں ۔
1۔ روڈ قُلی ، روڈ انسپکٹرز اور روڈ سُپروائزرکی بھرتیاں۔ چپورسن روڈ کی کُل لمبائی سوست KKH تا زیارت باباغندی 70کلومیٹرکا فاصلہ ہے۔ یہ لِنک روڈ 1983ء میں تعمیر ہوئی تھی اس روڈ پرکُل 35قُلی تعینات تھے۔ لیکن اب صرف 10 قلی سروس پر مامور ہیں لیکن ناکافی ہیں۔متعلقہ محکمہ کے کہنے کے مطابق ہر 2کلومیٹر کے فاصلے پر 01 قُلی ، ہر 15 کلومیٹر کے فاصلے پر 01 میٹ ،ہر 46کلومیٹر کے فاصلے پر 01 روڈ انسپکٹر اور 96کلومیٹر کے فاصلے پر 01 روڈ سُپروائزر کا تقرری ہونا سرکار کے قانون میں ہے۔لہٰذا آپ جناب سے عرض کیجاتی ہے کہ چپورسن روڈ پر 35 قُلی، 05 میٹ، 02روڈ انسپکٹرز اور ایک سُپر وائزر کی تقرری فرما کر شُکر گذاری کا موقع بخش دیں۔

2۔چپورسن ٹرک ایبل روڈ کا اسکیم۔ سال 2006 ؁ء میں اس جیپ ایبل روڈ کی توسیع کے لیے ایک ترقیاتی اسکیم تقریباً ڈھائی کروڈ مالیت کا اسکیم منظور ہونے کے بعد کام محکمہ تعمیراتِ عامہ نے ٹھیکیداروں کے سپرد کیا تھا مگر تا حال یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے ۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹھیکیداروں نے رقم ایڈوانس میں ہضم کربیھٹے ہیں ۔ اس منصوبے کی مد میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کے لئے ہم نے آپ جناب کی وساطت سے CMIT میں درخواست دے چکے ہیں لیکن تاحال اس پر کوئی پیش رفت نہیں ۔ اب جبکہ بیس لاکھ روپے سرکار کی جانب سے اس روڈ کی توسیع کے لیے منظور ہوچکا ہے۔ گذارش یہ ہے کہ یہ رقم یرزریچ گاؤں کے نیچے سے جو نامکمل کام ہے اُس پر خرچ کرکے مکمل کیا جائے تاکہ فاصلہ کم ہو سکے اور موجودہ فاصلہ اور خطرات کم ہو سکیں۔

3۔ بارڈر لیویز۔ چپورسن زیارت بارڈر پر وادی چپورسن کے 15 نفری بحیثیتِ بارڈر لیوی قدیم ا یام سے حکومتِ پاکستان کی طرف سے میر آف ہنزہ کے زیرِ نگرانی زیارت بارڈر پر ملکی سرحدات کے تحفظ اور نگرانی پر مامور تھے۔ اسٹیٹ کے خاتمے کے بعد یہ لیویز حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق ضلع انتظامیہ کے زیرِ نگرانی اپنے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اب جبکہ کافی عرصے سے افواجِ پاکستان کو اس بارڈر پر تعینات کیا گیا ہے اور ان لیویز کو سوست تحصیل میں ڈیوٹی پر ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ جبکہ ایریا کے بارے میں تمام معلومات ان مقامی لیویز کے پاس ہوتے ہیں ۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ علاقہ میں لیویز کی تعداد 15 سے کم کرکے صرف 04 کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ہماری آپ سے التماس ہے کہ لیویز کی تعداد کومقامی ضرورت مند امیدواروں میں سے 04 سے 15تک بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کو زیارت پوسٹ میں ڈیوٹی کی انجام دہی پر مامور کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔اگر چپورسن بارڈر کے نام سے کسی دوسرے ایریاز میں بھرتیاں ہو چکی ہیں تو برائے مہربانی چپورسن کے پوسٹ کو خالی کروا کر چپورسن کے غریب عوام کو ملازمت دِلوائے تاکہ یہاں کے لوگ بھی خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔

علاقہ کے عوام آپ سے پُر زور اپیل کرتی ہے کہ برائے مہر بانی مند درجہ بالا دیرینہ مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں غریب عوام کی مدد فرما کر تا حیات احسان مندی و شُکر گذاری کا موقع عنایت فرمائیں ۔
نہایت ہی آداب کے ساتھ

چپورسن گوجال یوتھ فورم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔