گلدستہ

گلدستہ

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جاوید حیات

الیکشن کی گہماگہمی ہے۔ہر کوئی ادھر ادھر بھاگ رہا ہے۔نمائیندے افسردہ صورت بنا ئے اشتیاق بھرے لہجے میں ووٹ مانگ رہے ہیں ۔لوگوں سے ان کا ’’ضمیر‘‘ مانگ رہے ہیں ۔ان کی ’’مرضی‘‘ مانگ رہے ہیں ۔ان کا ’’نظریہ‘‘ مانگ رہے ہیں ۔اس سمے اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں ۔جھوٹ بولنے والا کہتا ہے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔بدعنوان کہتا ہے میں سچا کھرا ہوں ۔لا پرواہ اپنے آپ کو مختاط کہتا ہے ۔ بے خبر اپنے آ پ کو خبردار کہتا ہے ۔رشتے ناتے از سر نو ترتیب دئے جاتے ہیں ۔دوستیاں نبھائی جاتی ہیں ۔احسانات جتائے جاتے ہیں وعدے وعید ہوتے ہیں ۔ پھر کارکن ہوتے ہیں کہ اپنے لیڈر کا گن گاتے ہی فرمائشیں تڑپ تڑپ اٹھتی ہیں ۔لالچ دئے جاتے ہیں ووٹ ڈالنے کا وقت آتا ہے۔ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ایک فرداسمبلی پہنچتا ہے۔اپنے پیچھے دشمنیاں ،نفرتیں ،شکوے شکایتیں چھوڑ جاتا ہے ۔رشتوں کے بندھن ٹوٹتے ہیں ۔دوستیوں کی ڈوریاں الجھ گئیں ۔ایک بندہ اسمبلی پہنچتا ہے۔ کچھ رغونت ، کچھ غرور، کچھ مستیاں ،کچھ اقتدار کا نشہ۔۔۔مگر کیا ہو گیا کہ انسان اپنی اصلی خول میں آگیا۔پہلا اجلاس ترتیب دیا گیا ۔اسمبلی کا فلور، اقتدار کی کرسی، نمائندگی کا نشہ۔۔۔۔۔نمائندے اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔۔۔ایک کو حکومت بنانی ہے ایک کو مخالف سیٹ میں بیٹھنا ہے۔۔۔اللہ کی کتاب کی تلاوت ہوئی۔۔حاکمیت اللہ کی ہے۔۔طاقت صرف اللہ کے پاس ہے ۔حکم صرف اللہ کا ہے ۔وہ اکیلا بادشاہ ہے ۔۔۔دنیا متاع غرورہے۔عدل کرو یہ تقوی کے قریب ہے ۔قوم کی امانت بہت خطرناک چیز ہے۔۔۔ایک سریلی سیٹی کی سی آواز گونجی ۔۔پھر گونجی ۔۔۔آواز الفاظ بن گئی ۔۔۔۔خاک وطن کے متوالو ؛سنو ۔۔۔یہ عزت جو آپ کو ملی ہے ۔یہ مادر وطن کی تمہیں دی ہوئی ہے۔اس مٹی کی تم پہ بیشمار احسانات ہیں ۔یہ کیا کم ہے کہ آج تم اسمبلی میں ہو۔۔میری آواز پہچانو میں ہی یہی مٹی ہوں ۔۔تم نے میرے باسیوں سے ان کے ضمیر مانگے۔ان سے خدمت کرنے کا وعدہ کیا ۔ان کی ہمدردیاں حاصل کیں ۔۔۔تمہارے سر پہ اقتدار کا تاج رکھا گیا ۔۔یہ لو باہر گرمی ہے یہاں پہ ٹھنڈ ہے۔اندازہ کرو اس راج مزدور کی حالت کا ۔۔جو آگ برساتی دھوپ میں کدال ہاتھ میں لئے ’’میری تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ہاں اگر گھر بنا رہا ہے تب بھی مجھے خوبصورت بنا رہا ہے یا دکرو لو ایک چاند سے بچے کو ایک چاند سے بچے کے ہاتھ میں برش ہے ۔۔۔یاد کرو کوئی ہسپتال ہے ۔تعفن زادہ گند ھ بھرا۔وہاں کوئی مریض بے علاج ایڑھیاں رگھڑ رہا ہے ۔کوئی مظلوم ہے جو کٹہرے میں انصاف کے انتظار میں کھڑا ہے ۔۔کوئی نوجوان ہے جس کی تر بیت نہیں ہو رہی ۔۔۔کوئی بچی ہے جو گاگر اٹھائے دور چشمہ کی طرف جارہی ہے ۔پائپوں میں پانی نہیں آرہا۔۔اندھیری رات ہے۔بوڑھا ٹا کم ٹوئیاں کھا رہا ہے ۔بجلی نہیں ۔۔میری سڑکیں تباہ ہیں ۔سیلاب نے پل بہا کے لے گیا۔۔آب رسانی مفقود ہے ۔اداروں میں کام نہیں ہورہا۔اور پھر میری دولت لٹی جا رہی ہے ۔میرے وسائل ضایع ہو رہے ہیں ۔۔خاک وطن کے نمائندو؛تیرے پیچھے وہ سب آس لگا ئے بیٹھے ہیں ۔کہ تو ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔ان کی خدمت کریں گے۔۔۔یاد رکھو ؛خادم مغرور نہیں ہوتا ۔خادم اپنا سب کچھ بھول جاتا ہے ۔خادم آرام نہیں کرتا۔بے چین رہتا ہے ۔دل سوزی اور جگر سوزی اس کی پہچان ہے ۔۔دکھ درد میں شرکت کرنا اس کی ڈیوٹی ہے ۔۔اس کی جیب خالی ہوتی ہے۔۔اس کی دولت اس کی خدمت ہوتی ہے ۔وہ اٹھلاتا نہیں ،پروٹول ’’ فیل‘‘نہیں کرتا۔احترام و مقام کی آرزو نہیں کرتا ۔اقتدار کو آزمائش، امتحان اور امانت سمجھتا ہے ۔یہ فلور نہیں یہ آگ کا گڑھا ہے ۔یہ ٹھنڈ کمرہ نہیں یہ آگ برساتی صحرا ہے ۔۔۔دیکھو وہ افسردہ آنکھیں تیرے منتظر ہیں ۔دیکھو دس سال کی بچی ٹاٹ کی تھیلی لے کے کوڑا کرکٹ میں کچھ ڈھونڈ رہی ہے ۔دیکھو دیکھو ان ہاتھوں کو جو جوتوں پرتیز تیز برش رگڑ رہے ہیں ۔صاحب کے جوتوں کو چمکا رہے ہیں ۔صاحب کو دفتر جانے کی دیر ہو رہی ہے ۔۔وہ دیکھو مریض کی آہ و کراہ سے عرش ہل رہا ہے ۔وہ دیکھو دفتر میں کمیشن لیا جا رہا ہے ۔وہ دیکھو عدالت میں وکیل مضمون کی ہوا باندھ رہا ہے ۔وہ دیکھو ایک دکان کے پچھواڑے وا لاکمرہ منشیات سے بھرا ہوا ہے ۔وہ دیکھو استاد کلاس روم میں اونگھ رہا ہے ۔وہ دیکھو مستحقین و متاثرین کے حقوق ضائع ہو رہے ہیں ۔ ۔۔۔تمہیں سنائی نہیں دیتا کیاْ ؟ تمہیں دیکھائی نہیں دیتا کیا ؟۔۔دل کے دروازے کھولو ۔خلوص کی کھڑکی کھولو۔۔۔خدمت کی آنکھیں ملو سب کچھ دیکھائی دے گا ۔تب تم اس آرام دہکرسی میں نہیں بیٹھ سکو گے ۔تم اپنا سب کچھ بھول جاؤ گے۔تم صحراؤں کی طرف نکلو گے ۔تم ان جھونپڑیوں میں جھانکو گے ۔جن میں محروم ازلی رہتے ہیں ۔تم کدال لے کے رسم کوہ کنی ادا کرو گے ۔تم بیلچہ لے کے نہر کھودو گے ۔تم دفتر دفتر بنجارہ بن کے پھرو گے ۔۔۔تب ہر طرف شاباشی کی آواز آئے گی ۔۔تب تم رہنما بن جاؤ گے ۔تب تم دلوں کی دھڑکن بن جاؤ گے ۔۔یاد رکھو نادانو تم نے خود اپنے آپ کو قیدی بنا لیا ہے ۔لوگوں کے حقوق کا قیدی،اقتدار کا قیدی۔نمائندگی کا قیدی۔۔۔۔اگر تم واقعی محروم دلوں کی دھڑکن بن جاؤ گے تو تم نمائندوں کا گروپ نہیں ’’پھولوں کا گلدستہ‘‘ بن جاؤ گے۔۔شعر سنو ۔۔۔

برگ گل چون شد بہ آئین بستہ شد

گل بہ آئین بستہ شد گل دستہ شد

شعر سن کر سارے نمائندے تڑپ اٹھے ۔۔اپنا سب کچھ بھول گئے۔یک زبان ہو کر چیخ کر کہا ۔۔۔اے خاک وطن ہماری زندگی کا مقصد تیری اور تیرے باشندوں کی خدمت ہے ۔۔انشاء اللہ ہماری سانسوں سے تیری خوشبو آئے گی ۔ہم سب کچھ سے بالاتر ہو کر صرف تجھے جنت بنائیں گے ۔۔۔سب کھڑے ہو گئے تھے سپیکر پلیز پلیز کہہ رہا تھا ۔ یہ ایک دوسرے کے پاس آکر’’ گلدستہ ‘‘بن گئے تھے ۔ان کی سانسوں سے اس مٹی کی خوشبو آرہی تھی ۔۔پشاور کا اسمبلی ہال معطر ہو گیا تھا ۔۔۔اسلام زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔کے پی کے کی ’’مٹی‘‘اس سمے بہت محترم ہو گئی تھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔