چترال، دس ہزار کی آبادی کیلئے آمدو رفت کا ذریعہ موج گول کا واحد پُل حطرے سے دوچار

چترال، دس ہزار کی آبادی کیلئے آمدو رفت کا ذریعہ موج گول کا واحد پُل حطرے سے دوچار

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے موج گول کے مقام پر دریا پر جو جیپ ایبل پل تھا وہ پچھلے سال سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا اس کے بعد حکومت نے لکڑیوں کا دوسرا پل بنایا تو تھا مگر اس پل کی حفاظت کیلئے کوئی دیوار وغیرہ نہیں بنایا نہ ہی اس کی لوہے کی رسیوں کو مضبوطی سے تھامے گئے ہیں جس کی بدولت جب بھی اس پل پر سے کوئی گاڑی گزرتی ہے تو ہچکولے کھاتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے میں جاتا ہے اور مسافروں کو انتہائی ڈر لگتی ہے۔
اس علاقے کے نائب ناظم اور ناظمین یونین کے صدر غلام سرور نے بتایا کہ دریامیں سیلاب کی وجہ سے بھاری پتھر رل کر جمع ہوگئے جبکہ انتظامیہ نے ان بڑے پتھروں کو نہیں ہٹایا جس کی وجہ سے پانی کارح تبدیل ہوا اور اب دریا کی بہاؤ آبادی کی طرف ہے اگر ان پتھروں کوہٹاکر پانی کار رح تبدیل نہیں کروایا گیا تو اس سال سیلاب میں نہ صرف یہ پل بہہ جائے گا جوچھ ماہ قبل بنایا گیا ہے بلکہ آس پاس کی آبادی بھی صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا حطرہ ہے۔
فاطمہ نیاز جوا یک گاڑی میں بیٹھ کر اس پر سفر کررہی تھی اور نہایت سہمی سہمی ہوئی تھی جب ان سے ان کی ڈر کا وجہ پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی اس پل سے گزرتی ہے تو انتہائی ڈر محسوس کرتی ہے کیونکہ پل کو مضبوط نہیں بنایاگیا ہے اور گاڑی گزرتے وقت یہ ہچکولے کھاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ بس دریا میں گرنے لگا۔
انہوں نے چترال میں کام کرنے والے سرکاروں اداروں کی شکایت بھی کی کہ ان کی کارکردگی بہترنہیں ہے ان کے مقابلے میں غیر سرکاری اداروں کا کام نہایت اچھا اور معیاری ہے۔
محمد یوسف تحصیل ناظم سب ڈویژن مستوج کا کہنا ہے کہ پُل تو بنایا گیا ہے مگر اس کے دونوں جانب حفاظتی دیوار یا پُشت نہیں بنائے گئے جسکی وجہ سے یہ پل نہایت حطرے میں ہے اور یہ پل اس بارسیلاب میں تباہ ہوا تو دس ہزار آبادی کیلئے کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔
مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موژ گول پل کی حفاظت کیلئے فوری طور پر دریا کا رح تبدیل کی جائے اور پُل کے دونوں جانب حفاظتی دیواریں تعمیرکی جائے تاکہ سیلاب کی صورت میں اس پل کو نقصان نہ پہنچے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔