ہائی سکول شگر میں کھیلوں کا ہفتہ منایا گیا، اختتام تقریب میں وزیر تعلیم نے خصوصی شرکت کی

ہائی سکول شگر میں کھیلوں کا ہفتہ منایا گیا، اختتام تقریب میں وزیر تعلیم نے خصوصی شرکت کی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)ہمیں زندہ قوموں میں اپنی بقاء قائم رکھنا ہیں تو تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ مردہ کہلائیں گ۔ان خیالات کا اظہار ہائی سکول شگر میں سپورٹس ویک کے اختتامی تقریب و یوم والدین سے خطاب کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی عمران ندیم،سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان ،سابق سیکریٹری ہیلتھ راجہ حسن خان اماچہ،ڈائریکٹر ایجوکیشن مجید خان،ڈی ڈی شگر ابراہیم تبسم،ہیڈ ماسٹر سید محمد عراقی اور جمیل شیخ نے کہا۔یوم والدین و سپورٹس ویک کے اختتامی تقریب ہائی سکول شگر میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم حاجی ابراہیم ثنائی،تھے۔تقریب میں طلباء،والدین،سکول کمیٹی اور معززین شگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان حاجی محمد ابراہیم ثنائی نے ہائی سکول شگر میں سپورٹس ویک اور یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں ماضی میں میرٹ کی پامالی اورکرپشن کا بازار گرم کیابازار سے جعلی سرٹیفکٹ خریدکر لوگوں کو ٹیچربھرتی کیا گیا جس کی وجہ سے نظام تعلیم تباہ و برباد ہوگیا۔ ،موجودہ حکومت تعلیم نظام کو بہتر سمت میں لانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کررہے ہیں۔اساتذہ کی تعیناتی میرٹ پر ہوگی۔جس کیلئے تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کی بھرتی کیلئے این ٹی ایس کانظام متعارف کرایا۔اس کے ذریعے تعیناتی عمل میں لانے سے میرٹ کو ایک بار پھر بحال ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سابق دور حکومت میں میمس اور ورچوئل یونیورسٹی کے ڈگری کو قبول کرکے اساتذہ کو بھرتی کیا جس کی ڈگری بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ہمیں بھی ان اداروں نے پانچ سال کیلئے معاہدہ کرنے درخواست کی تھی ۔لیکن ہم نے انکار کرتے ہوئے ان کی ڈگریوں کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قراردیاہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اساتذہ کی بھرتیوں میں من مانی کے عوض کروڑوں کی آفر ہم نے مسترد کردیا۔اسلام آباد یا گلگت میں اساتذہ کی بولی کو کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی بھی پوسٹ فرخت نہیں کیا جائے گا۔ کرپشن کو ہمیشہ کیلئے دفن کیا جاچکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں سکولوں میں دورہ اور معائنہ کو اپنا روٹین بنایا ہوا ہوں افسوس ہوتا ہے کہ ان سکولوں میں پڑھانے والے بیشتر اساتذہ اپنے مضامین سے نابلد ہے وہ قوم کے معماروں کو کیا پڑھائیں گے۔کتاب کھول پر رٹہ کی روایات ختم ہونا چاہئے آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ہمیں جدید طریقہ تدریس کا اپنانے کی ضرورت ہیں۔ ماضی میں ان سکولوں سے بڑے بڑے نامی گرامی پڑھ کر ملک اور ہمارے خطے کا نام روشن کیا۔جی ایم سکندرجیسے قومی سطح کے شخصیت اسی سکول سے پڑھ کر آگے نکلا ہے۔ لیکن آج بیشمار مراعات،ٹریننگ،اور اعلی کوالفائیڈ اساتذہ ہونے کے باؤجود سکولوں میں معیاری تعلیم کا فقدان کیوں ہے۔اساتذہ کو یہ سوچنے کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی کا عمل رمضان کے عید سے قبل ہوگا۔ابھی تھوڑی دیر اساتذہ کی سکروٹنی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اساتذہ کی تعیناتی میں متعلقہ یوسیز کے امیدوارکو ترجیح دیا جائے گا کیونکہ ماضی میں اساتذہ برالدو باشہ کے نام اور ڈومیسائل پر بھرتی ہوکر سفارش کراکے سکردو اور دیگر علاقوں میں ڈیوٹی دے رہے ہیں یہ وہاں کے طلباء اور عوام پر ظلم ہے۔اب ایسا نہیں ہوگا خواہ وہاں کے امیدوارسو کے مقابلے میں 20نمبر کیوں نہ لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن ایک پروفیشنل آدمی ہے اور معیاری تعلیم کیلئے بہتر اقدامات کررہے ہیں انکی سربراہی میں بلتستان میں معیار تعلیم بلند ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر اسمبلی عمران ندیم نے کہا کہ شگر میں معیاری تعلیمی اداروں کی کمی اور سرکاری تعلیم درسگاہوں میں معیاری تعلیم کا فقداں لمحہ فکریہ ہے۔ سابق دور میں غیر منظور شدہ سکولوں کی بھرمار کی وجہ سے منظور شدہ سکولوں میں اساتذہ کا بحران پیدا ہوگیا۔جس کا خمیازہ طلباء بھگت رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھانے کے بجاء پرائیوٹ سکولوں میں تعلیم دلارہا ہے۔جس سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی قابلیت اور ذمہ داری کا پول کھل رہا ہے۔ لاکھوں تنخواہ لینے والے اساتذہ جنہیں مناسب تربیت اور مراعات کا باؤجود اپنے سکولوں میں بچوں کو معیاری تعلیم دینے سے کیوں قاصر ہیں چند ہزار روپے اور بغیر کسی ٹریننگ کے میٹرک اور ایف پاس پرائیویٹ سکولز اساتذہ کا مقابلہ جو نہیں کرسکتے۔ پرائیویٹ سکولوں میں سرکاری سکولوں کی نسبت بہتر اور معیاری تعلیم دیا جارہا ہے۔انہوں نے ہائی سکول شگر کیلئے ایک ہال بنانے کا بھی اعلان کیا۔ سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان نے اس موقع پر کہا کہ شگر کوالٹی ایجوکیشن کی اشد ضرورت ہیں۔میرے دور میں میں نے اپنے علاقے کی ایل پی سی پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو واپس لانے کیلئے سخت جدوجہد کی۔ایل پی سی کی وجہ سے طلباء کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔اساتذہ نوکری ملنے کے بعد اپنے علاقے کو پس پشت ڈال کرمن پسند جگوں پر تعیناتی چاہتے ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ شگر میں جتنے بھی سکولوں کی PC-4تیار ہیں انہیں فوری منظور کرکے جلد اساتذہ بھیجا جائے۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن مجید خان نے کہا کہ محکمہ تعلیمات عامہ بلتستان معیاری تعلیم کی فروغ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اساتذہ اپنے سکولوں میں معیاری تعلیم دلانے کیلئے سنجیدہ ہوجائیں۔تقریب سے سابق سیکریٹری ہیلتھ و تعلیمی کمیٹی راجہ حسن خان،ڈی ڈی شگر ابراہیم تبسم،ہیڈ ماسٹر ہائی سکول شگر سید محمد عراقی نے بھی خطاب کیا۔جبکہ بچوں نے نظم اور تقاریر پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھاکہ تعلیم کے بغیر معاشرہ مردہ معاشرہ ہوگا۔ہمیں اندہ قوموں کی طرح دنیا میں اپنی بقاء کو قائم رکھنا ہے تو تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔جو قومیں آج ترقی کی بلندیوں پر فائز ہیں وہ تعلیم کے ہی مرہون منت ہے۔تعلیم سے دوری کی وجہ سے ہمارے معاشرہ پسماندگی کا شکار ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔