ضلع گانچھے سے چھ اراکین اسمبلی اور ایک رکنِ کونسل ہونے کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں پڑے ہیں

ضلع گانچھے سے چھ اراکین اسمبلی اور ایک رکنِ کونسل ہونے کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں پڑے ہیں

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے ( اے آر رینگ چن ) گانچھے سے چھ ممبران اسمبلی اور ایک رکن جی بی کونسل ہونے کے باوجود گانچھے کے حقیقی مسائل حل کرنے میں اب تک ناکام ہیں ۔ ضلع میں تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے ۔ تیس بیڈ کا ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو کو سابقہ صوبائی حکومت نے اپ گریڈ کر کے پچاس بیڈ کیا اور عمارت تیار ہو کے 2009 میں محکمے کے حوالے کر دیامگر چھے سال کا عر صہ گزرنے کے باوجود ابھی تک پچاس بیڈ کا پی سی فور منظور نہیں ہوسکا ۔ ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ تیس بیڈ کے آٹھارہ پوسٹیں بھی خالی ہے ہسپتال میں کل آٹھ سپیشلٹ کی پوسٹوں ہیں اور آٹھ کے آٹھ پوسٹ خالی ہیں اسطرح ایک بے ہوشی کی ڈاکٹر نہ ہونے کے سبب آپریشن تھیٹرتا حال فنگشنل نہیں ہو سکا اور اس کے اوزار پچھلے کئی سالوں سے سڑ رہے ہیں ۔صوبائی وزیر تعلیم کا تعلق گانچھے سے ہونے کے باوجود تعلیم کی میدان میں بھی گانچھے کا کوئی پُر سان حال نہیں ہیں ۔ پورئے ضلع میں ایک ڈگری کالج نہیں ہے خصوصا لڑکیوں کے لئے ضلع بھر میں ایک انٹر کالج تک کی بھی سہولت میسر نہیں جس کے باعث میڑک کے بعد اکثر طالبات اپنی تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ الیکشن کے ایام میں عوام نے بڑی توقعات کے ساتھ ان نمائندوں کو ووٹ دیا تھا مگر عوام کی مسائل خصوصا تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔