آئینہ سچائی کا۔ ۔۔۔۔

آئینہ سچائی کا۔ ۔۔۔۔

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔۔۔۔۔۔رجبی ؔ استوری۔۔۔۔۔
گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو پاکستان اپنے آپ کو چین کا ہمسایہ ملک کیسے کہتا ہے۔جب کہ گلگت بلتستان کی اہمیت اور مشہوری کا زکر جیسے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کا نام آئے یا نانگا بربت ،دنیا کا سب سے بلند ترین جنگی محاز سیاچن ہو یا سب سے اُنچا میدان دیوسائی ،سست ڈرائی پورٹ ہو یا سلک روڈ،دریاوں کے پانی کا زکر ہو یا پاک چائینا اقتصادی راہدری منصوبہ پاکستان فخر سے اپنا کہتا ہے مگر جب گلگت بلتستان کے بنیادی اور آئینی حقوق کا زکر آئے تو مسلہ کشمیر کا حصہ کہ کر ٹال دیتا ہے ۔ آخر یہ دوغلی پالیسی کس کو خوش کرنے کئے لئے ہے جنت نظیروادی گلگت بلتستان کو خود پاکستان اپنا حصہ ظاہر کرنے کے بجائے مسلہ کشمیر کا حصہ کہتا ہے۔گلگت بلتستان بقول میرے پیارے ملک پاکستان کے حکمران اور سیاستدان صوبہ نہیں بن سکتا کیونکہ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا حصہ ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں گلگت بلتستان کی عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کو مد نظر رکھا جائے تو 97فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جائے جبکہ اس میں سے 2فیصد الگ ریاست اور 1فیصد کشمیر کے ساتھ الحاق کے حق میں ہیں۔خدا جانے اب گلگت بلتستان میں وہ سورج کب طلوح ہو گا جو گلگت بلتستان میں رہنے والوں کو آئینی اور بنیادی حقوق کے ساتھ اپنی پہچان بھی دے گا۔آج کل سوشل میڈیا کے زریعے ہر شخص اپنے اپنے طریقے سے اظہار خیال کرتا نظر آرہا ہے اور کوئی اپنی ستم ظریفی پر رو رہا ہے تو کوئی علاقائی سوچ فکر میں اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہا ہے اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ یوں تو اس ناچیز کے قلم سے کوئی کوتائی نہ ہو جس کے لئے معزرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے الفاظ کو برا نہ سمجھیں۔ کیونکہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے یا نہیں اگر ہے تو پانچواں صوبہ کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے اگر نہیں ہے تو پاکستان اس پر اپنا حق کیوں جتا رہا ہے ۔جبکہ دوسری جانب مسلہ کشمیر کا حصہ ہے یا نہیں جس سے بہت سار ے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کی عوام اپنے آپکو محب وطن پاکستانی کہتے ہیں مگر پاکستانی حکمران اور سیاست دان ڈبل گیم چلا رہے ہیں جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردیکھانے کے اور۔ کھبی اس خوش فہمی میں ڈال دیتے ہیں کہ پانچواں صوبہ بنایا جا رہا ہے تو کھبی کہتے ہیں مسلہ کشمیر کا حصہ ہے ۔آپ لوگوں کو زکر کرتا چلوں کہ گلگت بلتستان کی عوام آئینی صوبے کے حق میں ہے اور پاکستان اسے صوبہ بنا کر اپنے لئے اور گلگت بلتستان کے لئے ایک نئی راہ ہموار کر سکتا ہے جو پاکستان کی مضبوطی ،پائدار امن اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔ مگرنااہل حکمران کہتے ہیں گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کے حل ہونے تک صوبہ نہیں بن سکتا ہے ۔آج میں اپنے قلم کے زریعے ان حکمرانوں کو گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے باور کرانا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کی عوام جو محب وطن پاکستانی ہیں کو اس طرح مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں اور جس طرح گلگت بلتستان کی عوام نے خود آزادی حاصل کر کے غیر مشروط طریقے سے پاکستان سے الحاق کیا اوریہ جنت نظر خطہ ایک حسین تحفہ یعنی گوہر نایا ب کی طرح ان کی جھولی میں ڈال دیا اگر ہمارے ملک کے حکمران اس خطے کی قدر نہیں کرینگے آئینی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھیں گے تو ملک میں 70کی دہائی کی تاریخ پھر دھرائی جائے گی جس غلطی کا خمیازہ آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔پاکستانی حکمرانوں کو ملک کی ترقی اور مستقبل کی بہتری کاتعین اس بات سے کرنا ہوگا اگر پاکستان گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر کا حصہ سمجھتا ہے تو یہ بات بھی زیر غور ہے کہ جس دن کشمیر الگ ہوگا اس دن گلگت بلتستان بھی الگ ہو جائے گا جس کا سب سے زیادہ مسلہ پاکستان کو ہوگا اقتصادی راہداری اور پھر چین کا پڑوسی ملک ہونے کا حق بھی کھو دے گا جو پاکستان کی شہہ رگ کو کاٹنے کے مترادف ہوگا۔اس صورت حال یا سازش سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو کسی بھی صور ت پر گلگت بلتستان کو آئینی پانچواں صوبہ بنانا ہوگا۔

میرے ملک کے ان حکمرانوں سے ایک اور سوال اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کو یکسر نظر انداز کرنا اس خطے کے غریب باسیوں کا ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور اس منصوبے میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کر کے کھبی بھی بہتر نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے اور یہی بحران اور احساس محرومی گلگت بلتستان کے عوام کو گندم سبسڈی کے معاملے کی طرح پھر سے ایک پیج پر لاکھڑا کریگاجو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرینگے اور نئی تحریکیں جنم لینگی جو ان نااہل حکمرانوں کی بربادی کا سبب بنے گا۔ تاریخ گواہ ہے گلگت بلتستان کی عوام محب وطن پاکستانی ہیں ہمیشہ ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے اپنی جانوں کے نظرانے دئیے ہیں اوراس قوم کی خدمات او محبت کو سمجھتے ہوئے پاکستانی حکومت اور سیاست دانوں کو چائیے کہ پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جائے جو پاکستان کے لئے باعث فخر ثابت ہوگا اور گلگت بلتستان پاکستان کی تجارت اور معشیت کا حب کہلائے گا۔پاکستان چاہے تو گلگت بلتستان کی ٹوریزم ،منرلزاور اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں پر توجہ دے کر پورے ملک کی ترقی کے لئے ایک نئی راہ ہمورا کر سکتاہے۔ آخر میں ایک بات قابل غور ہے اگر عوام کی خواہشات کے بر عکس کوئی سازش یا منصوبہ بندی کی گئی تو اس کے نتائج عبرت ناک ہونگے جو نہ ہی گلگت بلتستان کے حق میں ہوگا نہ ہی پاکستان کے حق میں جس سے بچنے کے لئے گلگت بلتستان کو آئینی صوبے کا درجہ دے کر اندرونی اور بیرونی سازشوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔