پانچ سوسالوں سے علاقے میں بس رہے ہیں لیکن دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، کھینر، بٹوگاہ، گیچی کے ‘غیر مالکان’ سڑکوں پر نکل پڑے

پانچ سوسالوں سے علاقے میں بس رہے ہیں لیکن دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، کھینر، بٹوگاہ، گیچی کے ‘غیر مالکان’ سڑکوں پر نکل پڑے

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(شہاب الدین غوری)اہلیان کھینر،بٹوگاہ اور گیچی سے تعلق رکھنے والے غیرمالکان نے تھلپن پل کے قریب اپنے مطالبات کے حق میں شاہراہ قراقرم بلاک کرنے کی کوشش کی ۔پولیس نے مداخلت کرکے شاہراہ قراقرم بلاک کرنے نہیں دیا اور شاہراہ قراقرام کے قریب احتجاجی دھرنا دیا ۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالوہاب سابق چیئرمین یونین کونسل کھینر عبدالحمید ودیگر نے کہا کہ بٹوخیل قبائل کے نام سے ایک قوم غریبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے جو ناقابل برداشت ہے پندرہ دن کوئی فرد دیار غیر میں رہتاہے تو نماز قصر کی اجازت نہیں ہوتی ہے ہم پانچ سو سالوں سے چلاس وگردنواح کے علاقوں میں رہتے ہیں ہمیں دوسرے شہری سمجھے جاتے ہیں جو ہرگز قبول نہیں انہوں نے مزیدکہا کہ ہم نے دیامر کی ترقی خوشحالی میں اپنی جانیں قربان کی ہیں پاکستان کی خاطر بھی قربانیاں دینے والے ہم ہی ہیں اب یہ سلسلہ بند نہیں ہوا تو ہم اپنا تن من اور دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کرینگے ۔اس موقع پر متفقہ طور پرقرارداد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کھینر،بٹوگاہ اور گیچی کے مظلوم غریب عوام دیامر بھاشہ ڈیم میں زیرآب ہونے والے بنجر اراضی میں مکمل متاثر ہیں جس کی مکمل معاوضہ میں حق رکھتے ہیں دین اسلام اور شریعت محمد یؐ کے اصولوں کے مطابق انہیں مکمل حق دیا جائے ۔تھلپن چلاس میں صدیوں سے ملکیتی ارضیات پر بسنے والے مظلوم عوام کے زمینوں اور مکانات پر جو ناجائز سٹے لیا گیا ہے اسے فوراً ہٹا دیا جائے ملک سے ظالمانہ ،جابرانہ جاگیردانہ نظام کو ختم کرکے ہرمظلوم دیہاتی شہری کو مکمل حق دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت وقت نے جائز مسلئے کا فوری حل نہیں نکالا تو بعد ازاں جو بھی نتائج نکلے تو اس کی زمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر نعرے درج تھے ۔تحصیلدار ہیڈکوارٹر چلاس تنویراحمد خان نے مظاہرین سے مذاکرات کئے جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments