گلگت میں سوشل ایکشن پروگرام سکولوں کے اساتذہ کا احتجاج آج بھی جاری رہا، خواتین نے بھی شرکت کی

گلگت میں سوشل ایکشن پروگرام سکولوں کے اساتذہ کا احتجاج آج بھی جاری رہا، خواتین نے بھی شرکت کی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (نامہ نگار) سیپ ٹیچرزایسوی ایشن گلگت بلتستان کی کال پر ہر ڈسٹرکٹ کے ذمہ داروں نے 2جون سے آج 7 جون تک اجتجاج جاری رکھا۔آج 7 جون کو اجتجاج میں خواتین ونگ نے بھی شرکت کی۔وقتاً فوقتاً احتجاج کرنے کا مقصد وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو وعدہ یاد دلانا ہے جو انہوں نے الیکشن سے پہلے اساتذہ کے 56دنوں کے دھرنے میں کی ہیں ۔ تمام اضلاع سے ٹیچرز احتجاج کے حق میں تھے لیکن ایسو سی ایشن اور خواتین ونگ صوبائی حکومت کو وقت دے رہے ہیں حکومتی ذمہ داروں کے مطابق 1464ٹیچرز کا 2016-17کے بجٹ میں شامل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم سے گلگت کے حالیہ دورے میں بات کی ہے امید ہے عید سے پہلے وزیر اعظم منظوری دیں گے۔خواتین ونگ کی صدر ملکہ حبیبہ و کابینہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر غلام اکبر و کابینہ پر زور دیا کہ ہم خواتین اساتذہ کو مزید تسلیاں دیکر خاموش نہیں کر سکتے اساتذہ کے خواہش کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے۔آخر میں تمام اضلاع کے ذمہ داروں کی موجودگی میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ 15جولائی 2016کو خواتین اور بچوں کے ساتھ احتجاج کریں گے ہم ڈیڑھ سال حکمرانوں کو متوجہ کرتے رہے 58ہزار طلباء و طالبات کی تعلیم ضائع ہونے سے بچایا ہے حکومت کم وقت میں BPS-9میں اساتذہ کی مستقلی کو یقینی بنائے ۔ اساتذہ نے 20سالہ خدمات کے ساتھ مستقلی کے لئے جانی و مالی قربانی دی ہے ہمیں مزید امتحان میں نہ ڈالا جائے اگر نظر انداز کیا گیا تو سخت اقدام پر مجبور ہو جائیں گے۔جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔