بیٹے نے خودکشی نہیں کی، پولیس کیس سردخانے میں ڈالنا چاہتی ہے، سرکاری ملازم شاہ رئیس کے والد نے انصاف کے لئے اپیل کردی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خبرنگارخصوصی)گزشتہ ماہ گلگت کے نواحی علاقے رحیم آباد میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے اور ایک ماہ بعد اس کی نعش دریاء کے کنارے سے ملنے والے سرکاری ملازم شاہ رئیس خان کے کیس کو پولیس نے خوسوزی قرار دے کر سرد خانہ میں ڈال دیا ۔شاہ رائیس کی والدصاحب خان نے اس حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر ے بیٹے ذہنی وجسمانی حالت بلکل درست تھا اور ایک تیز طراز انسان تھا، وہ گھر کا واحد کفیل تھا اور خود کشی کا کوئی امکان نہیں تھا اس کے باوجو کوئی پولیس مناسب تحقیقات کئے بغیر اس کیس کو خود سوزی قرار دے کر سرد خانے میں ڈالنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا ہم نے کچھ بندوں پر شک کی بنیاد پر دنیور کے تھانہ میں ایف آئی آر میں نامز بھی کیا تھا جن کی سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے کوئی خاص انوسٹیگیشن کئے بغیر چھوڑا گیا ہے جن پر ہمارا اب بھی شک ہے ۔

ان کا کہنا تھا ہم SSPگلگت کے پاس اس کیس کے حوالے سے بات کرنے کے لئے گئے تو انہوں نے کہا کہ ڈیتھ باڈی سے لئے گئے نمونوں کی لیبارٹری ٹیسٹ لاہور سے کروانا پڑتا ہے جوکہ ایک مہنگا عمل ہے جس کے لئے گلگت بلتستان پولیس کے پاس رقم نہیں ہے اس لئے ہم یہ لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کرواسکتے ہیں۔

مرحوم شاہ رئیس خان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی نعش سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو کسی نے قتل کیا ہے جس کے دو انگلیوں کے ناخن اور دو دانت بھی غائب تھے ،اگر دریا  یا پانی میں اس کی جسم پڑنے کی وجہ سے دانت اور ناخون گرتے تو پورے کے پورے گرنے چاہئے تھے جبکہ اس کے صرف اور صرف 2دانت اوردو انگلیوں کے ناخن غائب تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے نمونے لاہور بھیجنا دور کی بات ہے اس کی گلگت میں بھی تسلی بخش پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا اور اس کی پوسٹ مارٹم صرف ایک سکین سپیشلسٹ ڈاکٹر نے کیا ہے اور ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کی پوسٹ مارٹم کے لئے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بیٹھتی اور اس کی مکمل طور پر تسلی بخش تحقیقات کرتی ۔واضح رہے۔

مرحوم شاہ رئیس خان ایک ماہ قبل پراسرارطور پر منظر عام سے غائب ہو ا تھا جس کی نعش گزشتہ دنوں دریا ء کے کنارے سے ملی ہے ۔مرحوم کے والدصاحب خان نے گونر گلگت بلتستان میر غضنفر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ،فورس کمانڈر گلگت بلتستان ،آئی جی پی گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے انصاف دلوایا جائے اور میرے بیٹے کی پر اسرار موت کی مناسب تحقیقات کی جائے تاکہ میں اور میرے خاندان مطمعن ہوسکے کہ یہ قدرتی موت ہے یا کسی نے ان کی قتل کیا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔