خون کا عطیہ۔ عالمی یوم عطیہ خون 14جون کے حوالے سے خصوصی تحریر

خون کا عطیہ۔ عالمی یوم عطیہ خون 14جون کے حوالے سے خصوصی تحریر

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از محمد یوسف
ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گلگت بلتستان

مختلف مفکرین اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک انسان کسی نہ کسی گروہ ، جماعت یا کسی برادری کا رکن رہتا ہے۔انسان اور سماج میں اس قدر تعلق پیدا ہو چکا ہے کہ سماج کے بغیر انسان کا تصور نہیں کر سکتے ۔ اس سماجی حیثیت کی وجہ سے انسان جہاں بہت سے فوائد حاصل کرتا ہے وہاں اسے کچھ فطری خواہشات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے، اسے کچھ پابندیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ انسان نا آسودہ اور لاحاصل خواہشات کو ایک شعوری عمل کے ذریعے لاشعور کی تاریکیوں میں دھکیل دیتا ہے۔اس عمل کو ماہرین نفسیات و عمرانیات استعدادSuppressionکا نام دیتے ہیں ۔ بعض اوقات انسان کی خواہشات اس قدر طاقت کا حامل ہوتی ہیں کہ وہ ان خواہشات کی تسکین کے حق سے دستبردار نہیں ہوتا۔ جبکہ سماج اور رسم و رواج ان خواہشات کو سختی سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ذاتی خواہشات اور سماجی مطالبات کا یہ ٹکراؤایک ایسی کیفیت کو جنم دیتا ہے جس کو نزع کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسے مرحلے میں انسان دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور وہ غیر سماجی Antisocialسرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔ اس کی مثال انسانی تاریخ کے اولین دور میں دیکھاجاسکتا ہے جب حضرت آدم ؑ کے بیٹے ہابیل نے اپنے بھائی قابیل کو اپنی ذاتی خواہشات کے لئے قتل کیا۔تب سے آج تک انسان اپنے مفاد کی خاطر یہ گھناؤنا فعل گروہ، مذہب، فرقہ، خاندانی عزت ، تہذیب اور طبقاتی برتری کے نام پر انفرادی یا اجتماعی سطح پر سر انجام دے رہا ہے۔یہ کیسا نظام قدرت ہے کہ سماج میں انسانوں کی جان کے درپے افراد کی کمی نہیں تو دوسری طرف انسان کی جان بچانے کے لئے کچھ لوگ اپنا خون دینے کے لئے ہر وقت آمادہ و تیار ہیں۔لائق تحسین اور قابل فخر ہیں وہ لوگ جو انسان کی جان بچانے خون کا عطیہ دیتے ہیں ۔

انتقال خون کا پہلا تجربہ 1930 میں ماسکو کے سکی فوسوکی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں ہوا جہاں ایک ساٹھ سالہ شخص جو ایک حادثے میں مر گیا تھا ، 12گھنٹے کے اندر اس کا خوان ایک ایسے نوجوان کے بدن میں منتقل کیاگیا اور اس کی جان بچائی گئی جس نے دونوں کلائیاں کاٹ کر خود کشی کی کوشش تھی۔1933میں انتقال خون کا دوسرا تجربہ میو کلینک انگلستان میں ہوا۔1941میں ریڈ کراس نے بلڈ بنک کے قیام کا آغاز کیا۔1943میں ڈاکٹر پال بی سن نے اس نکتے کو دریافت کیا کہ یرقان وغیرہ کے حامل خون کے انتقال سے مرض بھی انتقال ہوتا ہے۔لہٰذا خون کے عطیہ سے پہلے خون کی باقاعدہ تشخیص ہونی چاہئے۔1948سے پہلے انتقال خون کے لئے شیشے کی بوتلیں استعمال ہوتی تھیں مگر 1948کے بعد ڈاکٹر کیپری والٹر نے پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال شروع کیا ۔

خون کا عطیہ دینا دینی اور اخلاقی طور پر ایک نیک عمل سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف اس کام کی ترغیب دلانے اور اس میں معاونت کرنے والے بھی یقیناًاجر کے مستحق ہیں ۔ طبی نکتہ نظر سے بھی عطیہ خون کی بڑی اہمیت ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ہر انسان کے جسم میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ موجود رہتا ہے۔ہر صحت مند فرد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دے سکتا ہے جس سے اس کی صحت مزید بہتر ہو سکتی ہے۔اس کا کولیسٹرول لیول بھی قابو میں رہتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ تین ماہ کے دوران نیا خون ذخیرے میں پہنچ جاتا ہے۔اس لئے نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ اس انسان کے جسم کی قوت مدافعت میں تیزی آ جاتی ہے۔ راقم کو اپریل 2011میں مسلح افواج کے ادارہ بلڈ ٹرانسفیوژن AFIT میں عطیہ خون کے لئے جانے کا اتفاق ہوا وہاں پر راقم نے دیکھا کہ ایک میجر جرنیل کی تصویر آویزاں ہے اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ موصوف نے 205دفعہ خون کا عطیہ دیا ہے۔

الحمدُ اللہ گلگت بلتستان کی سر زمین خون کے عطیات کے حوالے سے بھی زرخیزہے، گلگت میں خون کے عطیات کے لئے لوگ پرجوش ہیں ۔ سکردو میں ایک دو ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے 50سے زائد بار خون کا عطیہ دیا ہے۔راقم نے ضلع گانچھے میں خون کے عطیات کے لئے بھرپور مہم 2009سے 2012تک چلائی تھی جس کے نتیجے میں 500سے زائد رجسٹرڈ بلڈ ڈونرز موجود ہیں ، کئی نوجوانوں نے سات، آٹھ بار بھی خون کے عطیات دئے ہیں ضلع دیامر میں راقم نے سوشل ویلفیئر آفیسر کو خصوصی ٹاسک دیا ہے اور وہ علماء کے ساتھ عوامی مہم کے لئے کوشاں ہیں ۔ ضلع غذر میں بھی سوشل ویلفیئر آفیسرDHO ہسپتال نے خون کے عطیات کے لئے دو کیمپ کا انعقاد کیا ہے ، ضلع استور میں بھی عوامی آگاہی مہم کے لئے سوشل ویلفیئر آفیسر کو ٹاسک دیا گیا ہے5مارچ 2011کو سوشل سروسز میڈیکل سنٹر ضلع گانچھے کے ان تمام افراد میں اسناد اور شلیڈ تقسیم کئے جنہوں نے ایک باربھی خون کا عطیہ دیا ہو۔اس کاوش کی وجہ سے لوگوں میں خون کے عطیات دینے کا شوق پیدا ہواہے ضلع گلگت میں بھی مستقبل قریب میں خون کے عطیات دینے والوں میں اسناد کی تقسیم کا معاملہ زیر غور ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ آبادی کا 65فیصدنوجوانوں پر مشتمل ہے جو خون کے عطیات کے لئے ایک اہم ذریعہ ہیں بس صرف تھوڑی سی Motivation کی ضرورت ہے اس کے لئے علماء، سیاست دان، انتظامی آفیسران اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیااہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

طبی نکتہ نظر کے ساتھ ساتھ مذہبی نکتہ نظر سے عطیہ خون کی بڑی اہمیت ہے ، حدیث مبارکہ میں آتا ہے الخلق عیال اللہ یعنی مخلوق اللہ کا خاندان ہے ۔ سماجی اور اخلاقی اعتبار سے خاندان کے جملہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کام آئیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حفاظت کی تاکید کی ہے۔ اللہ نے مزید ارشاد فرمایا۔ و فی اموا لھم حق السائل والمعروم(پارہ نمبر26سورۃ الذریت آیت نمبر19)

ترجمہ:تمہارے اموال میں محروم اور سائل کا حق ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان زکواۃ ، خیرات اور صدقات دے کر سبکدوش نہیں ہوتا بلکہ اللہ کا متقی بندہ و ہ ہوتا ہے جو ہر وقت دل و جان سے لوگوں کی بھلائی کے لئے تیار رہتا ہو۔

راقم سماجی بہبود کے ایک اہم ادارے سوشل سروسز میڈیکل سنٹر DHQ ہسپتال گلگت سے بطور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر وابستہ ہے ۔ یہاں ہمارا واسطہ روزانہ غریب، نادار ، معذور اور بے بس افراد سے ہوتا ہے جو دوائی، آلات سماعت اور وہیل چیئرز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے لئے یہ ادارہ مطلوبہ ادویات و آلات کی خریداری کے ساتھ ساتھ معذور افراد کو معذوری اسناد بھی فراہم کرتا ہے۔ہمارا ادارہ سب سے زیادہ گردوں کے مریض جو دائیلاسسز کے عمل سے گزر رہے ہوں ان پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ایسے مریضوں کو ادویات اور خون کی ضرورت ہوتی ہے اس سلسلے میں محکمہ زکواۃ اور پاکستان بیت المال کا خصوصی تعاون حاصل ہے۔

14 جون کو چونکہ عالمی سطح پر World Blood Donation Day منایا جاتا ہے اس دن کی مناسبت سے زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد یعنی سیاست دان حضرات ، سرکاری ملازمین، علماء، عوامی نمائندے، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے گزارش ہے کہ ہر کوئی حدالمکان عطیہ خون کے لئے لوگوں کو ترغیب دلائیں لوگوں کے دلوں سے عطیہ خون سے متعلق خوف ختم کرائیں اور اس احسن عمل میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ

بقول شاعر:

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کا کوئی دیا جلائے جاتے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔