“کِسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں”

“کِسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں”

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہمارے اعصاب پر جمے جہالت،جنونیت اور تنگ نظری کی گر د کو ایک لمحے کے لئے جھاڑ کر سچائی کے ڈور کے سرے کو تھامے ذرا سا غور کریں تو لگتا ہے کہ آج بھی زمانہ ء جاہلیت میں سانس لے رہیں ہوں۔اگر ذرا فرق ہے تو ظلم و ستم کے نت نئے طریقے ایجاد کئے گئے ہیں۔عرب قبائل میں بچیوں کو ذلالت کی علامت جان کر بعد از پیدائش زندہ درگور کیا جاتا تھا لیکن آج فرسودہ روایات و اقدار کے ستونوں پر قائم ہمارا معاشرہ بنتِ حوّا کو زندہ سپردِ زمین کرنے سے تو قاصر رہا لیکن اس پر مختلف صورتوں میں ظلم و ستم کے پہاڑ ضرور ڈھائے جاتے ہیں۔کبھی خاندان،قوم یا مسلک کے باہمی تعاون سے صنفِ نازک کی کرب ناک آہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرکے خودکشی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تو کبھی زندگی کا دائرہ اس حد تک تنگ کیا جاتا ہے کہ وہ سماج سے عاجز آکر خود کو دریا کی بے رحم موجوں کے حوالے کرکے زندگی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیتی ہے۔کبھی کاروکاری ،سیاہ کاری یا ونی کی بھینٹ چڑھا کر خوب ثواب کمایا جاتا ہے توکبھی محبت یا شادی کا جھانسا دے کر بالجبر بے آبرو کیا جاتا ہے۔کبھی وٹّہ سٹّہ کے ذریعے زندگی اجیرن کی جاتی ہے تو کبھی عزت یا غیرت کے نام پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اردو ادب کے نامور شاعر ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو،مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا ، جب جی چاہا دھتکار دیا

خواتین کو ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔پا کستان کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی خونِ ناحق کے واقعات کی شرح کے خطر ناک اضافے کو دیکھ کرسما ج کی اخلاقی و نفسیاتی پستیوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے ۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے ریجنل کوارڑنیٹر اسرار الدین اسرار کے مطابق گزشتہ سال گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں 44مرد و خواتین کے ناحق خون سے ہاتھ رنگین کیے گئے۔جبکہ عزیز احمد اور سلطان رحیم برچہ جو ان تشویش ناک واقعات کے حوالے سے اعزازی طور پر ریسرچ کر رہے ہیں کے مطابق سن 2000ء سے 2004ء کے دوران60 خواتین نے زندگی کے شب و روز سے عاجز آکر موت کو گلے لگایا۔اسی طرح خونِ نا حق کے واقعات کی شرح ضلع دیامر میں سب سے زیادہ ہے جہا ں کوئی سال خونِ ناحق کے واقعات کے ذریعے فکری و اخلاقی پستی کو عیاں کیے بغیر نہیں گزرتا۔

گلگت بلتستان کے تاریخ کے اوراق کو اٹھا کے دیکھا جائے تو بنتِ حّواسے ناروا سلوک کے واقعات کے ڈور کا سرا 1970 ء کی دہائی اوائل تک قائم راجگی نظام کے دور سے جاملتا ہے۔راجگی نظام میں زندگی کے شب و روز سے عاجز آنے والی خواتین دارالامان کا رخ کرتی تھیں۔جس کو ضلع ہنزہ نگر کی بولی بروششکی میں “تھانگ اَر نیِ یَس ” جبکہ شینا زبان میں “راک اَ ٹ بوُجوک” کہا جاتا تھا لیکن ان مظلوم خواتین کی زندگی واجنی سی ہو کر رہ جاتی تھی بلکہ ان سے قطع تعلق کیا جاتا تھا۔ راجگی نظام کے خاتمے کے ساتھ دارلامان کا سلسلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا لیکن آج بھی بنتِ حوّاپر ظلم و ستم کاسلسلہ جاری ہے۔گلگت بلتستان کے کچھ اضلاع میں آج بھی چونکہ کفالت کا دارو مدار زراعت پر ہےُ سو خواتین تپتی دھوپ میں کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور گھر کی کفالت کا ذریعہ بنتی ہیں 

خونِ ناحق کے واقعات کے حوالے سے غور کیا جائے تو اس میں مرد و عورت کے مابین غیر قانونی جنسی تعلق،لو میرج،زبردستی شادی،مسلک مخالف شادیاں،ذات مخالف شادیاں یا ناموافق رشتے وغیرہ شامل ہیں۔لیکن خونِ ناحق کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوکر قدرت کے نظام میں خلل کا باعث بننا یا زمین پر سزا و جزا کے حوالے سے خود کو مالکِ مختار سمجھنا کسی طور پر مناسب نہیں ۔

آج کے دور میں ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عورتوں کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے جبکہ ستم در ستم تو یہ ہے کہ خونِ ناحق کے مجرم کو بچانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیاسی یا مذہبی زور کے ذریعے معاملے کو دبانے یا خود کشی کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے جبکہ کچھ واقعات میں مجرم خود کو قانون کے حوالے تو کرتا ہے لیکن مقتولین کی جانب سے عام معافی کے بعد دیت یا قصص قانون کے تحت عدالتوں سے رہا کرایا جاتا ہے یاغریب گھرانوں کے متاثرین کو معاوضے کے ذریعے خاموش کرایا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کم فہمی کی ایک ترقی یافتہ شکل یہ بھی ہے کہ خونِ ناحق یا غیرت کے نام پر قتل کو اسلا می قوانین کے عین مطابق قرار دیا جاتاہے اور اس جرم کے مرتکب مجرم کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے خاندان،ذات یا مسلک کی جانب سے دلائل پیش کیے جاتے ہیں لیکن یہ مذہب کے لبادے کو اوڈھ کر مذہب کو ہی بدنام کرنے کے مترادف ہے کیونکہ خونِ ناحق کے جائز ہونے کے حوالے سے کوئی قر آنی آیت یا حدیث تائید نہیں کرتا اور نہ ہی اسلامی تاریخ کے کسی واقعے کی رو سے اسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اسلام تو ہر جرم کے ملزم کو صفائی کا پورا پورا موقع دیتا ہے لیکن جرگہ نظام کے ذریعے مرَدوں کی محفل میں مظلوم عورت کو صفائی کا موقع بھی فراہم کیے بغیراس کی قسمت کے حوالے سے موت کا فیصلہ صادر کرنا حیران کن ہے ۔اس کے علاوہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف ہی عقل،سوجھ بوجھ اور حسنِ سلوک کے باعث بخشا ہے لیکن اشرف المخلوقات کے شرف کا حامل حضرتِ انساں ہی زمین پر شر کا باث بنے تو یہ انسانیت کی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص تحریکِ نسواں نے ان واقعات کی روک تھام کے لئے بہت سی کاوشوں کو بروئے کار لایا لیکن خاندانی اور قبائلی رویات کا مقابلہ نہ کر سکیں اور اب بھی انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حکومت پاکستان کی تعزیرات کی موجودگی کے باوجودان واقعات میں کمی نہیں دیکھی گئی۔مستقبل میں بھی ان واقعات کے حوالے سے اہلِ فکر و دانش میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔کیونکہ جب تک اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی تو یہ جرم معاشرے کا حصہ بن کر اس کی تہذیب و ثقافت کا حصہ بنتا رہے گا اور ریاست سے قانون کا خوف تک ختم ہوکر رہ جائے گا۔

آج کے دور میں تاریخ کے مضمون کے مطالعے کابنیادی مقصدماضی کے جھروکے میں جھانک کر مستقبل کے لئے نئی راہیں متعین کرنا ہے اور معاشرے کی اصلاح کے لئے غور و فکرکرنا ہے لیکن ہمیں قدیم و قبیح رسوم کی پیروی میں اندھے ہوکر سماجی و اخلاقی اقدار کو پیروں تلے روندھنے سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے ۔اسی طرح غیرت کے نا م پر قتل کے واقعات کی روک تھا م کے لئے قوانین مرتب کرکے مجرموں کو عدالتوں سے قرار واقعی سزاؤں کے ذریعے واقعات میں میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments