چھورکاہ زہری پہ میں ندی بپھر گیا، کھڑی فصلوں کو نقصان

چھورکاہ زہری پہ میں ندی بپھر گیا، کھڑی فصلوں کو نقصان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کی اس سال ندی میں پانی کی بہاؤ سے قبل چھورکاہ زہری پہ میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور ندی کا رخ سیدھاکرنے کا اعلان مکمل نہ ہوسکا ۔ چھورکاہ میں پانی کی بہاؤ میں اضافے کیساتھ بے رحم موجوں کی تباہ کاریاں پھر سے جاری۔درجنوں کنال اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ اور ندی برد۔چھورکاہ زہری پہ کے متاثرین سیلاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ پی ایچ ای کی سکیم میں سست روی اور مشینری میں باربار خرابی کیوجہ سے وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کی اس سال ندی میں پانی کی بہاؤ سے قبل چھورکاہ زہری پہ میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور ندی کا رخ سیدھا کرنے کے اعلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا ۔سکورا نالے میں پانی کی بہاؤ میں اضافے کیساتھ پچھلے سال سے باہ اراضی پھر سے بے رحم موجوں کی زد میں آگیا۔اب تک درجنوں زرعی اراضی کھڑی فصلوں سمیت ندی برد ہوچکا ہے جبکہ پطھلے سال سینکڑوں اراضی معہ کھڑی فصل اور پودے پنی کی نذر ہوچکا ہے۔پچھلے سال وزیر اعلی گلگتت بلتستان ن خصوصی طور پر سیلاب سے متاثرہ اس جگے کا دورہ کرکے جگ کا معائنہ کیا تھا اور متاثرین کو یقین دہانی کرائی تھی کی اس سال ندی میں پانی کی بہاؤ بڑھنے س پہلے ان کی زمینوں کو محفوظ بنانے کیلئے حفاظتی پشتے تعمیر کیا جائے گا جبکہ ندی کا رخ بھی سیدھا کرینگے۔ وزیر اعلی اس موقع پر متاثرین کو سیلاب سے تباہ ہون والی فصلوں زمینوں اور درختوں کی مکمل معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم معاوضہ ملنے کو کوئی پہ نہیں لیکن اس سال محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے ندی پر ایک سکیم رکھی گئی ہے لیکن کام کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ ایک ماہ میں اب تک پانچ ہزار فٹ میں سے صرف چند سو فٹ پر سے ملبہ اور بجری نکالی گئی ہے جبکہ سائیٹ پر موجود ناکارہ ایکسیکیویٹر کی بار بار خڑاب ہونے کی وجہ سے کام کچھوے جیسے رفتار سے چل رہے ہیں۔ایکسکیویٹر ہفتے میں ایک دن کام کرتے ہیں باقی پورا ہفتہ خراب رہتا ہے۔جس کی وجہ سے ندی کی پانی کا رخ پچھلے سال والی جگوں سے گزر رہا ہے اور لوگوں کی قیمتی فصلوں اور زمینوں کو اپنے لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ہم نے شگر انظامیہ سمیت ہرجگہ فریاد بلند کی ہے کہ ہماری امینوں اور فصلوں کو بچایا جائے۔لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہا ہے۔متاثرین نے وزیر اعلی گلگت بلتستان سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ ان کی قیمتی اراضی اور فصلوں کو بچانے کیلئے حفاظتی پشتوں اور ندی کا رخ سیدھا کرنے کے کام کو ہنگامی بنیادوں پر کرانے کیلئے اقدامات کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔