عبادات کا فلسفہ اجتماعیت

عبادات کا فلسفہ اجتماعیت

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 اے ایم خان چرون،چترال

ہر سال دُنیا میں بسنے والے مسلمان عید الاضحی اور عید الفطر کو مذہبی عقیدت سے مناتے ہیں۔ اِن دو عیدیں کے علاوہ، عید میلاد ا لنبیؐ بھی مسلماں کمیونٹی کا ایک اہم مذہبی تہوار ہوتا ہے ، اور اِس کے علاوہ نوروز کو بھی بعض کمیونٹی قومی اور مذہبی تہوار کی حیثیت سے مناتے ہیں۔ عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام کے بعد پوری دُنیا میں مسلمان عقیدت سے مناتے ہیں۔
رمضان المبارک برکت، بخشش، مدد، اِحساس، برداشت، ضبط،اور بھوک و نفس پر قابو کرنے کا مہینہ ہوتا ہے۔ رمضان کے علاوہ دین اِسلام میں دوسری عبادات کی نوعیت کو وسیع پس منظر میں دیکھا جائے تو اِن سب کی روح میں ایک ہی پیغام ہے ، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
گوکہ میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اِن عبادات کا احاطہ یہاں نہ کرسکوں ،لیکن مذہبی پس منظرمیں اِن عبادات کے پیچھے کئی ایک پیغام میں سے چند ایک کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
رمضان ایک مہینے مکمل مذہبی پریکٹس کا عمل ہوتا ہے، جس میں اِنسان بھوک،لالچ، ریاکاری، بدعنوانی ، رشوت اور دوسرے سماجی بُرائیوں سے اپنے آپ کو بچاکے رکھتا ہے۔ جس کا مقصد صرف اُسی ماہ تک محدود ہونا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ہر مسلمان کو سال میں ایک مرتبہ اِن اعمال( عبادات) کی تجدیدی عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ رمضان میں اگر ایک اِنسان کو بھوک اور پیاس لگتی ہے تو اُسے اِحساس ہوتا ہے کہ معاشرے میں اگر کوئی بھوکا اور پیاسا ہوتا ہے تو اُس کی کیا حالت ہوتی ہے، تو رمضان اُس اِحساس اور مذہبی فرض کی تجدید کا ایک قوی عمل ہے، جس کے ساتھ دوسرے کئی اور اُصول شامل ہوتے ہیں، جسے ماہ صوم کے دوران کرنا پڑتا ہے۔
اِس تناظر میں رمضان کے مہینے میں چند دِ ن پہلے پیش آنیوالا ایک واقعہ یا د آیاجو مجھے عجیب بھی لگا اور اِس سے ایک سبق بھی ملا۔ پشاور یونیورسٹی کے مارکیٹ میں ایک ضروری ڈاکیومنٹ پرنٹ کرنے کی عرض سے ایک دوکان میں بیٹھا تھا۔ ایک عیسائی جوکہ شاید یونیورسٹی کا ملازم تھا، دوکان میں آیا۔ دوکان میں میرے علاوہ کوئی دوسرا گاہک نہیں تھا، اور وہ بندہ دوکاندار کے قریب جاکر کھڑا ہوا جسے دوکاندار جانتا بھی تھا۔ چند لمحے بعد دوکاندار نے اُس سے پوچھا ،کہ کیاکام ہے ۔ پوچھنے پر اُس نے کہاکہ میرے یو ایس بی (USB)میں بائبل کا ایک ٹائم ٹیبل ہے اِس کا ایک پرنٹ کاپی مجھے چاہیے۔ دوکاندار نے اُس سے یو ایس بی لے لی ، اور وہ ایک ورق پرنٹ کرکے اُس بند ے کو دے دی تو اُس نے دوکاندار کو دس روپے کا ایک نوٹ دے دیا۔ پرنٹ کی قیمت پانچ روپے بنتی تھی، دوکاندار نے اپنے کیش ڈراور میں دیکھنے کے بعد جب اُس کو پانچ کا سکہ نہیں ملا ، تو کہہ دیا چھوڑ دو خیر ہے۔ اُس بند ے نے کہا ، نہیں یہ تمھارا حق ہے لے لو ۔ دوکاندار نے دوبارہ کہا، رمضان ہے خیر ، یہ میری طرف سے آپ رکھ لیں ۔ یعنی دوکاندار کا یہ لہجہ اُس نبد ے کوپسند نہیں آیا کیونکہ یہ اِحسان مندانہ خیرات کا ایک ایمپرشن دے رہا تھا۔ تو اُس بندے نے فوراً کہا، کہ یہ آپ میری طرف سے رکھ لے۔ دوکاندار نے کہا ، نہیں آپ رکھ لیں۔اُس نے کہا، میں کیوں رکھ
لوں۔ دوکاندار نے پھر کہہ دیا، رکھ لو ۔۔ نا، کوئی با ت نہیں۔ یہ کہہ کر پھر دوکاندا ر اپنے کام میں لگ گیا۔ اُس بندے نے کہا نہیں آپ رکھ لینا، اور یہ کہہ کر دس روپے کا یہ نوٹ دوکاندار کے سامنے ٹیبل میں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ اب دوکاندار کا خیال یہ تھا کہ وہ شاید نوٹ لے گیا ہے حالانکہ وہ اُس کے سامنے چھوڑ کر جا چکا تھا۔ ایک بارپھر دوکاندار نے اِس نوٹ کو دیکھ لیا، مجھ سے مخاطب ہوکرکہا،کہ یہ دس کا نوٹ آپ نے یہاں رکھا ہے۔ میں نے کہا نہیں ، وہ بندہ چھوڑ کے گیاہے۔ اِسی اثناء میں وہ بندہ اپنا موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے کی تیاری کررہاتھا، تو دوکاندار نے اُسے آواز دی، بھائی اِدھر آجائیں۔ وہ بندہ واپس آگیا تو دوکاندار نے اُس سے مخاطب ہوکر کہا ،کہ یہ پیسہ آپ لے جائیں، ابھی میرے پاس ٹوٹے نہیں ہیں، پھر کبھی آئیں تو مجھے دے دینا۔ تب اُس بندے نے یہ دس کا نوٹ لے لیا،اور چلاگیا۔ سبق۔۔۔!
پہلا،دوکاندار کا رمضان کے مہینے میں پانچ روپے کا اِحسا ن مندانہ چُھوٹ اُسے بالکل پسند نہیں آیا ۔ دوسرا، اُس بندے نے یہ تہہ کرلیا کہ اگر آپ (دوکاندار) پانچ روپے کا صدقہ دے سکتے ہے تو وہ بھی پانچ روپے کا صدقہ(کیونکہ عیسائی مذہب میں چیرٹی پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے) دے سکتا ہوں ۔ تیسرا، میں صدقہ لینے کا اہل نہیں ہوں، اگر دینا چاہتے ہیں کسی اور حقدار کو دے دیں۔ چوتھا،صدقہ اگر دینا چاہتے ہیں تو اِس طرح دے دو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ پانچوان، یہ سخاوت صرف اِسی مہینے میں ہی کیوں(کیونکہ مہنگائی میں ہوشروبا اضافہ اِس ماہ میں ہر سال کی طرح اِس سال بھی ہوا ہے) جورمضان کے دوسرے دِن ہی یا د نہ آجائے۔
بہرحال ، اِسلام میں ہر ایک مذہبی عمل کا دائرہ وسیع، عملی اور اِنسانی ہے، اور دین اِسلام بہتریں مذہب اِسی لئے ہے کہ جس میں اِنسان کی عمر، وقت، صحت ،حالت، استطاعت،اور طاقت کے مطابق مذہبی فرائض کو انجام دینے کا حکم ملتا ہے۔ اِسلام کا پیغام اِنسانی اور اجتماعی ہے ۔۔۔کسطرح ؟ مثال کے طور پر، نماز کا فلسفہ ۔۔۔بیشک نماز بُرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ یہاں بحثیت فرض، اِسکا عملی پہلو برُائیوں اور بے حیائی سے باز رکھنا ہے جس سے معاشرے میں ناہمواری ، برائی، اور عدم توازن جب پھیل جاتی ہے، اُس پر قابو ذاتی پرہیز گاری اور زہد سے شروع ہوتا ہے جس کا ذریعہ نماز ہے۔ اب اگر ہم یہاں برائی اور بے حیائی کی مثال لے لین تو یہ سماجی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ یہاں نماز کا دائرہ اختیار ذاتی پس منظر سے اجتماعی نوعیت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
زکواۃ کا فلسفہ ، اپنے دولت کا ایک خاص حصہ کسی ضرورت مند کو دینا، شرط اپنے باقی دولت کو پاک کرناہے۔ یعنی جس کسی کے پاس دولت زیادہ ہے ، تو اُس دولت کو پاک کرنے کا شرط اُس کا ایک خاص حصہ ضرورت مند کو دینے سے ہوتا ہے۔ یعنی جس طرح خیرات کا عمل گھر سے شروع ہوتی ہے ، بالکل اِسی طرح زکواۃ کا عمل ضرورت مند سے شروع ہوجاتی ہے ۔ اور زکواۃ کی ادائیگی کی نوعیت انفرادی لیول سے ریاست تک پہنچ جاتی ہے ۔ زکواۃ دینے والے کیلئے یہ ایک مذہبی فرض اور لینے والے کیلئے اپنا حق لینے کا عمل ہوتا ہے ، جس میں دینے اور لینے والے کے درمیان اِحسان مندی اور اِنحصا ر کا تعلق نہیں بنتا ، بلکہ دینے والے کی عبادت زکواۃ لینے والے کی قبولیت سے منسلک ہوتی ہے۔فلسفہ یہاں بھی ایک اِنسان کا دوسرے اِنسان کی مدد کرنا ، اور دوسرے الفاظ میں زکواۃ امیر اور غریب کے درمیاں دولت کی گردش کے عمل کو قائم رکھنے کا عمل ہے، اور اجتماعی خود انحصاری کا سلسلہ قائم رکھتا ہے۔
روزہ کی عبادت کو مزید دیکھا جائے تو جوسبق یہ سیکھاتی ہے اِن میں بھوک اور نفس پر قابو، برداشت، عدل، اِنصاف، دوسروں کے بھوک اور پیاس کا اِحساس، اور دوسرے معاشرتی ، اخلاقی اور معاشی برائیوں سے بازرہنے کا ایک عملی پریکٹس ہے۔ یہ عبادت بھی اِنسان، اِنسانیت کی قدر، برداشت، دوسروں کے تکلیف اور مسائل کا اِحساس سیکھاتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں پندرہ گھنٹوں پر مشتمل یہ روزہ ، روزہ دار کو یہ سبق دیتا ہے کہ اِس گرمی میں بھوک اور پیاس جب لگتی ہے تو اُس کی کیا حال ہوئی ہے بالکل یہ حال معاشر ے میں وہ طبقہ جو اِس حالت سے روزانہ کے حساب سے گزرتی ہے،تاکہ اُس کی حالت کا اندازہ ہو سکے۔
اور اِ ن عبادات کے علاوہ فلسفہ حج کو دیکھا جائے تو یہ ایک طرف استطاعت سے منسلک ہے ، تو دوسری طرف انفرادیت سے غیر امتیازی اجتماعیت میں داخل ہونیکا عمل ہے، جس میں سب کا ایک شناخت باتی رہتاہے، وہ ہے اِنسان۔ یعنی ر نگ ونسل، ذات پات، مرد و عورت، امیرو غیریب ، محمود و ایاز بلا امتیاز، خوف وخطر جماعت کے ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی عبادت حج کی بدولت اپنے ذاتی استطاعت کی بناء پر عالمگیر نوعیت کے اِنسانی اجتماعیت کے دائرے میں ایک فرد داخل ہوتاہے۔
جس بات پرمیں اِن عبادات کی روشنی میں ذور دینے کی کوشش کررہا ہوں ، وہ اِن عبادات کا فلسفہ ہے۔ گوکہ یہ عبادات دیکھنے سے ذ اتی نوعیت کے ہیں ،اورلگتے ہیں لیکن اُن کا عملی پہلو اجتماعی ہے۔ اور یہی اجتماعیت معاشرہ کی تشکیل کرتی ہے ، اور معاشرے میں ربط، توازن ، اور ہم اہنگی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے کے ہر ایک اکائی، اور اِس سے منسلک ہر فرد جب اپنے ذمہ داریاں بخوبی نبھاتا ہے ، تو معاشرہ میں ایک اِنسانی ربط پیدا ہو جاتی ہے جو اجتماعیت کے سوچ کو جنم دیتی ہے، اوراِس سے اِسلام کی اجتماعی تشخص اُجاگر ہوجاتی ہے۔ جہاں اجتماعیت کو تقویت نصیب ہوتی ہے وہاں جماعت کی صورت میں رہنے کا سبب بن قوی ہو جاتا ہے۔ یہ خاصیت معاشرے میں ہم اہنگی کے جڑوں کو مضبوط کردیتی ہے،اور معاشرے میں بُرائی ، ابتری ، ناہمواری، عدم توازن ، عدم برداشت کو ختم کردیتی ہے ، اور ایک حساس معاشرہ کی تشکیل نو ہوتی ہے جوکہ اجتماعیت کی طرف قدم ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔