دیوانوں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری خود کشی میں میرے استاد کا ہاتھ تھا

دیوانوں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری خود کشی میں میرے استاد کا ہاتھ تھا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 شمس الحق قمر

یہ کوئی تیس سال اُس طرف کی کہانی ہے جب میں انٹر میڈیٹ میں ایک بار پھر فیل ہوا ۔ یوں تو فیل ہونا میرا پیشہ تھا سکول جانا زندگی کا ایک بہت بڑا بوجھ تھا ۔ لگتا تھا کہ کوئی بھی مصیبت آجائے آسانی سے سہہ سکوں گا لیکن سکول جانا مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا ۔ یہاں تک کہ سکول جیسے عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایک دفعہ میں نے لکڑی کاٹنے کے بہانے سے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی اُنگلی دوسری لکڑی پر رکھ کر اُس پر تیشے سے کچھ اس زور سے وار کیا کہ اُنگلی کا اُپر والا حصہ ناخن کے ساتھ الگ ہو گیا ، سکول سے چھٹکارے کا یہ حربہ اگر چہ کار گر ثابت ہوا تاہم ہاتھ میں اتنی گہری چوٹ آئی کہ حاجی بابا ( بابو عبدالرحیم )نے کٹی ہوئی اُنگلی کی پیوند کاری کرتے ہوئے سات ٹانکے لگادیے ۔ گھر میں ماتم کا سا سمأ ہوگیا کیوں کہ گھر میں دادی جان ( مرحومہ ) کی کل کائینات میں ، میں اور مجھ سے چھوٹے دو بھائی تھے ۔ لیکن مجھے سکول بھیجنے والی بھی یہی دادی اماں تھیں جس کی اذیت ناک موت کے لئے میں ہمیشہ دعائیں مانگتا رہتا تاکہ اُس کی موت کے بعد میں بھی سکول جانے کے عذاب سے گلو خلاصی حاصل کر سکوں ۔ دوسری طرف میری یہ حالت اُس سے نہیں دیکھی جاتی تھی وہ میری جلد صحت یابی کی دعائیں مانگتی اور میں اپنی صحت کی اور بھی بگاڑ کی دعائیں ۔ بہر حال میں گھر والوں کو یہ باور کراتا رہتا کہ سکول میں سب سے قابل طالب علم اگر کوئی ہے تو وہ میں ہوں لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی ۔میں وہ بچہ تھا جسے ٹک بھی نہیں آتا تھا ( الف اوچے تھیاق و موژی فرق نو کوراوشتام)۔ میں ہزار جتن کرتا کہ کسی نہ کسی طرح اُردو کے حروف تہجی ایک دوسرے کے ساتھ لگاکے لفظ بنانے میں کامیاب ہو سکوں لیکن یہ کام میرے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔

اللہ بھٹو صاحب کی روح کو ہمیشہ آسودہ رکھے غالباً سن ۷۰ کی دہائی میں ملک میں سیاسی خلفشار کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں طویل چھٹیاں ہوئی اور ہمیں بغیر کسی امتحان کے چوتھی جماعت سے پانچویں میں فی سبیل اللہ ترقی ملی ۔ پاس ہونے والے اس  قافلے میں میرے بہت ہی جگری دوست ، دمساز اور سگا چچا، صابر ولی تاج بھی شامل تھے وہ اُس زمانے میں بھٹو کی بدولت دہم پاس کر ہی گیا اور آج بھی پی پی پی کے جیالوں میں ہے لیکن اُس بلاوجہ ترقی کے بعد بری طرح سے اٹک گیا۔ ۔ میں بھی بغیر کسی کوفت ، محنت مشقت کے پاس ہوکر پانچویں جماعت پہنچا لیکن کھوپڑی کے اندر بھس بھرے کے بھرے رہے ۔ مجھے پڑھانا گویا بھینس کے سامنے بین بجانا تھا ۔ مار پٹائی اتنی شدید ہوتی تھی کہ گویا ہم کوئی بہت بڑے مجرم تھے اور جرم کی تصدیق کے لئے ہم سے روز جسمانی ریمانڈ لیا جاتا تھا ۔ جسم کا کوئی پرزہ کام کا نہیں رہتا ۔ ہمارے سکول میں کمر تک مٹی ہوتی تھی چہرے پر مٹی کی دبیز تہہ جم جاتی استاد کی وحشیانہ مار پیٹ سے نکلنے والے آنسو چہرے پر جمی دھول کے پیچ میں سے جب لڑھکتے تو ساتھ ساتھ مٹی کا ایک سیلابی ریلا بھی اپنا نشان چھوڑ کر ہمارے نازک رخساروں سے گزرتا ۔زیادہ مار پیٹ کی وجہ سے ہماری ناک بھی خوب بہتی اور ناک کے آخری سرے سے اُوپر والے ہونٹ کے نچھلے حصے تک جڑواں راستے بنتے۔۔۔۔۔۔

یہ حال ہمارے سکول کا تھا اور ہم اب پانچویں جماعت میں ’’ اسلم کی صفائی‘‘ کے نام سے ایک سبق تھا جو کہ ہم سب پر پہاڑ بن کر گرا تھا، پڑھ رہے تھے ۔ اسی منحوس سبق کی وجہ سے ہمارا ایک دوست نظام الدین ہمیشہ کے لئے سکول کو خیر باد کہہ کر چلا گیا نظام الدین کو ہم عرف عام میں ( بو الدین ) کہتے تھے لہذا بو الدین راستہِ فرار اختیار کر گیا ۔ میں بھی فرار ہوتا لیکن کہاں جاتا تو کہا ں جاتا؟ بوالدین نے اپنے لئے کوئی کام ڈھونڈا ہوگا لیکن میرے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا۔

ایک دن استاد نے ہمیں گول دائرے میں کھڑا کرکے عبارت خوانی شروع کی سوائے دلبر علی کے ہم سب نکمے تھے لہذا دلبر کو استاد کی طرف سے بیدور لاتھی لانے کا کام تفویض تھا ۔ استاد نے دانت پیستے ہوئے ( بیدور ) لاٹھی سے زور دار پٹائی شروع کی نہیں معلوم کہ میں نے آخر ایسے کونسے بڑے گناہ کا ارتکاب کیا تھا کہ مجھے مار مار کے بے حال کرنے کے بعد اُٹھا کے نامعلوم مقام کی طرف لے گیا ۔ ہمارے کمرہ جماعت سے کچھ ہی دوری پر مسافر اساتدہ کے لئے کچھ بوسیدہ کمرے تھے انہی کمروں سے ملحق مرور زمانے کے ہاتھوں مجبور چھت سے عاری ایک کمرہ تھا اوپر صرف ایک شہتیر باقی تھا ساتھ ہی بانوں سے بُنی ایک پرانی چار پائی تھی ۔ استاد نے فوری طور پر ایک دو گز کے حساب سے پرانی چار پائی سے بان کھول کر میرے دونوں پاؤں کس دیے اور مجھے اُٹھا کے بان کا دوسرا سرا شہتیر کے ساتھ ٹانک کے مجھے الٹا لٹکا دیا ۔ میر ا نقشہ ہو بہو اُس بکرے کی تھی جسے ذبح کرنے کے بعد چمڑا اُتارنے کے لئے اُلٹا لٹکایا جاتا ہے ۔ میں نے لٹکتے ہوئے کیا محسوس کیا ؟ ایسا لگا جیسے میرے سر پر پورا آسمان گرا ہو اور کچھ دیر بعد ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت ہلکا ہو رہا ہوں ۔۔۔۔ یہ آخری احساس اور ہوش تھا ۔

مجھے جب دوبارہ ہوش آیا تو میں کمرہ جماعت کے ایک کونے میں سہما ہوا بیٹھا تھا ، کچھ طلبا ہنس رہے تھے ، کچھ آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے اور کچھ ایسے سہمے ہوئے تھے جیسے یتیم چوزوں پر عقاب کا حملہ ہوا ہو ۔ عجیب زمانہ تھا استاد سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا ۔ اُس نے ایک معصوم پر بے جا تشدد کی تھی ۔ بہر حال چھٹی کے بعد میں گھر پہنچا ۔ مجھے بار بار چکر محسوس ہو رہے تھے ۔ کسی ہموار جگہے پر کھڑے ہونے سے ایسا لگتا تھا گویا میں کوئی مکھی ہوں اور دیوار میں اپنے پیر جمائے بیٹھا ہوں ۔ سبق ’’ اسلم کی صفائی ‘‘ ابھی باقی تھادوسری طرف گھرہستی کی مصروفیات تھیں، ہم کھیتوں میں کام کر رہے تھے ۔ کام کی نوعیت یہ تھی کہ چاول کی کاشت کاٹنے کے بعد گندم کی کاشت کے لئے کھیتوں میں ہل چلا یا جاتا ہے ۔ چاول کی کاشت شدہ جگہ اتنی سخت ہوتی ہے کہ ہل چلانے کے بعد مٹی کے سخت روڑے نکل آتے ہیں ا نہیں لکڑی کے بنے اوزاروں سے توڑ مروڑ کر یہ جگہ دوسری کاشت کے لئے ہموار بنائی جاتی ہے ۔ یہ ایک بڑی مہم ہوتی ہے چھوٹے بڑے سب اس مہم میں شامل ہوتے ہیں اس مہم کو کھوار میں ’’ براچ دیک ‘‘ کہتے تھے اب ٹریکٹر کی بدولت یہ لفط متروک اور یہ کام مفقود ہے ۔

ہوا یوں کہ ہم کام کر رہے تھے کہ اُسی کھیت کے آس پاس سے میرے اُس محترم استاد کا گزر ہوا ۔ مجھے ایسا لگا کہ گویا جیسے کوئی فرشتہ ہمارے یہاں سے گزر رہا ہے ۔ ہماری زمیں پر استاد کا قدم رنجہ فرمانا خواب کی سی کیفیت تھی۔ استاد عام انسانوں کی طرح تھا حالانکہ سکول میں کچھ اور معلوم ہوتا تھا ۔ میرے ایک چچا نے آگے بڑھ کر تعظیمات بجا لائے اور ساتھ ہی میرے لئے استاد سے کل کے لئے چھٹی مانگی تاکہ کھیتوں کو ہموار کرنے کا کام آسان ہو ۔ استاد نے مسکراتے ہوئے زہر اُگل ہی دیا ۔ میری کمزوری کا راز فاش ہوا جو کہ میں کھبی بھی نہیں چاہتا تھا ۔ استاد نے جواباً کہا ’’ اس کے لئے تو ہمیشہ چھٹی ہے کیوں کہ اسے تو کچھ بھی نہیں آتا بہتر ہے کہ گھر ہستی میں ہاتھ بٹائے ‘‘ میں اس اخفائے راز کے آشکار ہونے کے سامنے دنیا کا کوئی بھی غم برداشت کر سکتا ہے لیکن اس راز کا فاش ہونا منظور نہ تھا ۔ استاد کا وہ زہر آلود جملہ آج بھی مجھے کل کی طرح یاد ہے میں سب کچھ بھول سکتا ہوں لیکن اپنے استاد کا وہ جملہ نہیں بھول سکتا ۔ میں نے دل میں مصمم ارادے کے ساتھ فیصلہ کیا کہ اب زندہ رہنا میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ۔اُس زمانے میں ہم نے اپنا کام تمام کرنے کا صرف ایک طریقہ دیکھا تھا وہ یہ کہ لوگ اپنے آپ کو بہتے دریا کی تیز تھپیڑوں کی نذر کر کے دنیا کے غموں سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارہ حاصل کرتے تھے میں نے بھی یہی سوچا ۔

یہ پت جڑ کا موسم تھا رات کو ہلکی ہلکی خنکی ہوتی تھی ۔ چار پارئی پر لیٹے لیٹے سوچتا رہا۔ اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی،ارے بھائی دنیا ہے ایسا ہوتا ہے ہو سکتا ہے کوئی دن آئے جب تم اُردو عبارت پڑھنے کے قبل ہو جاو ، لیکن دل مُصر تھا کہ اپنے آپ کو دریا کی نذرکیا جائے ۔ چنانچہ میں رات کی تاریکی میں دریائے چترال کی جانب روانہ ہوا ۔ میری عمر یہی کوئی بارہ سال ہوگی ۔ میرے گھر سے دریا تک آدھا کلو میڑ یا اس سے بھی کم فاصلہ ہوگا ۔ لیکن اُس وقت میرے گھر اور دریا کے درمیاں کوئی گھر یا مکانات نہیں تھے ۔ پت جڑ کی سنسان رات تھی ۔ جب میں روانہ ہوا تو ادھر ادھر سے ایک ادھ پتے بھی گر رہے تھے پتوں کے گرنے کا بے ہنگم انداز اور دور دور کتوں کے بھونکنے کی ڈرادینے والی آوازیں گویا یہ بتا رہی تھیں کہ آج کسی کی دہشت ناک موت واقع ہو رہی ہے ۔ میں نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے کان بند کئے تاکہ کوئی آواز دریأکے کنارے پہنچنے تک میرے کانوں تک نہ پہنچے ۔جب میں نے اپنے دونوں کان بند کئے تو دفعتاًً ماں جی کی آواز آئی ’’ اے مہ دُشمان متے دُشمنی ارو لہ ‘‘ ماں کی آواز سن کر میں واپس ہوگیا ۔ یہ ایک غائبانہ آواز تھی ۔ رات کو سوچتا رہا کہ میں کیسا نکما انسان ہوں زندگی اجیرن ہے اور موت کا راستہ بھی بند ۔ یہ میری زندگیکی قیامت خیز رات تھی ۔ صبح حسب معمول سکول پہنچا ۔ وہی استاد، وہی سبق اور وہی استاد کا منحوس چہرہ ۔ دوبارہ گول دائرے میں ہم سب کو کھڑا کیا ۔ لڑکوں نے باری باری پڑھنا شروع کیا کچھ لڑکوں نے ایک دو لائنیں زبانی ازبر کئے ہوئے تھے۔ سب کانپ رہے تھے لیکن میں لائن میں کھڑا تو تھا لیکن کوئی خاص کیفیت طاری نہیں تھی۔ مجھ سے آگے دو تین لڑکوں کی خوب پٹائی ہوئی میرے بالکل ساتھ میرا چچا شریف الدین کھڑا تھا اُس کی بھی زبردست پٹائی ہوئی پٹائی اتنی زوردار تھی کہ اُ س کی ناک سے زوردار جھٹکے سے نکلنے والی رطوبت کے ایک دو چھینٹے میرے چہرے پر بھی گرے ۔ اب میری باری آئی تو استاد نے بیدور لاٹھی میرے سینے میں گھونپتے ہوئے طنزاً کہ ’’ تو تھے سفان سار قابل لہ، دی راوے کہ ‘‘ تم تو سب سے قابل آدمی ہو ، اب پڑھو۔میں نے جب کتاب اٹھائی تو بہت بڑا معجزہ ہوا ۔ مجھے ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے حروف الفاظ کی شکل میں نظر آنے لگے ، میں نے پڑھنا شروع کیا ۔ میں نے جب فر فر پڑھنا شروع کیا تو استاد کو خوشگوار اور عجیب حیرت ہوئی کہ میں نے یہ سب کچھ کیسے رٹ لگائی تھی ۔ ایک ہاتھ سے میرا کان پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے کتاب کی ورق پلٹا پلٹا کے آخری صفحہ کھول کر فرمانے لگے ’’ ہنیسے راوے او تہ لاڑیم ‘‘ اب پڑھو میں دیکھوں گا ۔ میں نے یہ ورق بھی فر فر پڑھ کے تمام کیا ۔ مجھے اب بھی معلوم نہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور میرا دماغ کیسے کھلا ۔

بہر حال سب سے بڑی بات جس سے میں بے حد متاثر ہوا وہ یہ کہ جب میں نے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ سب کچھ پڑھ لیا تو میرے استاد کی آنکھیں پُر نم ہو گئیں اُس نے مجھے دیر تک اپنے سینے کے ساتھ لگائے رکھا اور پلٹ کر پوری جماعت سے مخاطب ہو کر کہا ’’ دیکھو مجھے آج دلی آسودگی ہوئی ہے ‘‘ استاد آج بھی حیات ہیں میں جب بھی چھٹیاں گزارنے گاؤں جاتا ہوں تو قدم بوسی کے لئے ضرور حاضر ہو جاتا ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author